میانمار: فوجی بغاوت کی مخالفت کرنے پر سوا لاکھ سے زائد اساتذہ معطل
- اتوار 23 / مئ / 2021
- 4290
میانمار میں فوجی بغاوت کی مخالفت کرنے کے جرم میں اب تک سوا لاکھ سے زائد اساتذہ کو معطل کیا جاچکا ہے۔
برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق میانمار ٹیچرز فیڈریشن سے تعلق رکھنے والے ایک عہدیدار نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہےکہ ہفتے کے روز تک ایک لاکھ 25 ہزار 900 اساتذہ معطل کیے جاچکے ہیں۔
اساتذہ کی معطلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب نیا تعلیمی سال شروع ہونے میں چند روز باقی ہیں تاہم ملک میں فوجی بغاوت کے بعد شروع ہونے والی مہم کے طور پر اساتذہ اور طلبہ کے والدین کی بڑی تعداد نے نئے تعلیمی سال کا بائیکاٹ کررکھا ہے۔ میانمار میں اساتذہ کے تازہ ترین دستیاب اعداد و شمار 2 سال پرانے ہیں جن کے مطابق اسکول ٹیچرز کی تعداد 4 لاکھ 30 ہزار ہے۔
اس ضمن میں ایک عہدیدار نے کہا کہ یہ صرف لوگوں کو کام پر واپس آنے کے لیے ڈرانے کے بیانات ہیں، اگر وہ حقیقتاً اتنی بڑی تعداد کو ملازمتوں سے نکالیں گے تو نظام رک جائے گا۔ اگر وہ واپس کام پر جائیں گے تو ان کے خلاف لگائے گئے الزامات واپس لے لیے جائیں گے۔
رائٹرز اس سلسلے میں میانمار فوجی حکومت کے ترجمان یا وزارت تعلیم سے مؤقف نہیں حاصل کرسکا۔ دوسری جانب میانمار کے سرکاری اخبار نے اساتذہ اور طلبہ سے اسکولوں میں واپس آنے کے لیے زور دیا ہے تا کہ تعلیمی نظام دوبارہ شروع ہوسکے۔
اساتذہ کی تنظیم کے مطابق جامعات کے عملے کے 19 ہزار 500 ملازمین کو بھی ان کے عہدوں سے معطل کردیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ میانمار میں جون میں اسکولوں کے لیے رجسٹریشن کا آغاز ہوگا تاہم کچھ والدین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو اسکول میں داخل نہیں کروائیں گے
واضح رہے کہ یکم فروری کو میانمار کی فوج نے ملک میں منتخب سیاسی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور دیگر سیاست دانوں سمیت آنگ سان سوچی کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مختلف الزامات کے تحت مقدمات چلائے جارہے ہیں۔ فوج کے اس عمل کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو تاحال جاری ہے، جس میں اب تک فورسز کی جانب سے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا، جس کے باعث سیکڑوں مظاہرین ہلاک اور زخمی ہوئے۔