آئندہ مالی میں 6 فیصد شرح نمو کے حصول کیلئے اقدامات کریں گے: وزیرخزانہ

  • اتوار 23 / مئ / 2021
  • 4420

وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے منصوبہ بندی کمیشن کے حالیہ اعداد وشمار پر اطمینان کا اظہار کرتےہوئے کہا ہے کہ آئندہ مالی میں 6 فیصد شرح نمو کے حصول کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

اے پی پی کے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شوکت ترین نے جون کے اوائل میں وفاقی بجٹ پیش کیا جائے گا اور امید ہے جون تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل جائیں گے۔  انہوں نے کہا کہ سبسڈیز میں کمی لا رہے ہیں۔ گردشی قرضوں میں کمی لانے کے لیے بھی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب سرمایہ بڑھانے کے لیے بھی جامع پروگرام لے کر آ رہے ہیں جس سے مالیاتی خسارے کو کم کرنے اور نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں اضافہ ہو گا۔

مالیات کے شعبے میں بہتری لائی جائے گی جس سے بچت میں اضافہ ہوگا اور لوگ اپنی رقوم بینکوں میں رکھنے کو ترجیح دیں گے۔ ہر علاقے کی سیونگز کو اس علاقہ میں ہی خرچ کیا جائے گا جس سے مساوی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں 6 فیصد شرح نمو کے حصول کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

شوکت ترین نے کہا کہ رواں مالی سال21-2020 کے معاشی اعدادوشمار کے مطابق جاری مالی سال کے دوران پاکستان کی اقتصادی شرح نمو 3.94 فیصد بڑھی ہے لیکن اس کو متنازع بنانے کی ناکام کوششیں کی گئیں جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ادارہ برائے شماریات منصوبہ بندی کمیشن کے تحت کام کر رہا ہے اور یہ اعدادوشمار وزارت خزانہ کے نہیں بلکہ منصوبہ بندی کمیشن کے ہیں۔

ملک کی معاشی صورت حال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب وزیر اعظم عمران خان نے حکومت سنبھالی تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب ڈالر سے زیادہ تھا اور ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر انتہائی کم تھے۔ اس لیے مجبوری میں عالمی مالیاتی فنڈ  کے پاس جانا پڑا تھا کیونکہ معاشی طور پر مشکل حالات تھے اور ملک میں کورونا وائرس کی وبا شروع ہو گئی تھی۔

اس مرتبہ 2008 کے مقابلہ میں آئی ایم ایف کی شرائط بھی سخت تھیں لیکن ملک میں معاشی استحکام ضروری تھا اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا۔ وفاقی حکومت نے چند اہداف اور اہم شعبوں میں کام کیا ہے، جن میں زراعت، صنعت اور ہاؤسنگ وغیرہ شامل ہیں۔  حکومت کے اقدامات نے ملک کی معاشی بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے، ہم قومی معیشت کی بحالی کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ حکومت عام آدمی کی فلاح و بہبود کے لیے خصوصی اقدامات کر رہی ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے کی جانے والی ترسیلات زر میں اضافے کے سبب معیشت کو سہارا ملا ہے تاہم جب تک فیڈرل بورڈ آف ریونیو  کے محصولات نہیں بڑھیں گے تب تک مشکلات رہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں زرعی شعبے پر عدم توجہ کی وجہ سے غذائی ضروریات کی تکمیل کے لیے ہماری درآمدات بڑھی ہیں۔ اس کے علاوہ پوری دنیا میں قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے پاکستان میں بھی غذائی اجناس میں مہنگائی بڑھی لیکن ہم ناجائز منافع خوری کے خلاف اقدامات اور قومی زرعی پیداوار میں اضافے سے قیمتوں میں کمی لائیں گے اور زرعی شعبے پر توجہ سے قومی معیشت میں نمایاں بہتری آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ ملکی برآمدات بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہم نے مستحکم اور مستقل شرح نمو حاصل کرنی ہے، ہم ہر آدمی کو اپنا گھر دینا چاہتے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ معاشی شرح نمو کو متنازع بنانے کی ناکام کوششیں کی جا رہی ہیں جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں کیونکہ ادارہ برائے شماریات اب وزارت خزانہ کا ذیلی ادارہ نہیں ہے بلکہ یہ منصوبہ بندی کمیشن کے تحت کام کر رہا ہے۔

ایک اور سوال پر ان کا کہنا تھا میں نے ماضی میں بھی ہمیشہ اداروں کی خود مختاری کی بات کی ہے اور اب بھی قومی اداروں کی استعداد کار بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ باختیار بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔