میانمار کی فوجی بغاوت کے بعد سوچی کی عدالت میں پہلی پیشی
- سوموار 24 / مئ / 2021
- 4540
میانمار کی معزول رہنما آنگ سان سوچی یکم فروری کو فوج کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد پیر کو پہلی بار عدالت میں ذاتی طور پر پیش ہوئیں۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق وکیل تھا مونگ مونگ نے بتایا کہ سوچی کی صحت اچھی تھی اور سماعت سے آدھا گھنٹہ قبل انہوں نے اپنی قانونی ٹیم سے ملاقات کی۔ جمہوریت کے قیام کی کوششوں کے لیے 1991 میں امن کا نوبیل انعام جیتننے والی 75 سالہ آنگ سان سوچی فوجی بغاوت کے بعد دیگر چار ہزار سے زائد افراد کے ہمراہ زیر حراست ہیں۔ انہیں غیرقانونی طور پر واکی ٹاکی ریڈیو رکھنے سے لے کر ریاستی خفیہ قوانین کی خلاف ورزی جیسے الزامات کا سامنا ہے۔
معزول رہنما نے اپنے وکلا سے ملاقات میں لوگوں کی بہتری کی خواہش ظاہر کی اور اپنی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی پارٹی کا بھی حوالہ دیا جسے جلد ہی تحلیل کیا جا سکتا ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز سے گفتگو کرتے انہوں ہوئے کہا کہ پارٹی لوگوں کے لیے قائم کی گئی ہے لہٰذا جب تک عوام ہوں گے، اس وقت تک پارٹی موجود ہوگی۔
میڈیا رپورٹس میں الیکشن کمشنر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ میانمار کی فوجی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ انتخابی کمیشن نومبر کے انتخابات میں سوچی کی سیاسی جماعت کو ووٹوں میں مبینہ جعلسازی کے الزام میں تحلیل کردے گا۔ الیکشن کمشنر نے ’غداروں‘ کے خلاف کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
فوج نے نومبر میں سوچی کی پارٹی کے جانب سے جیتے گئے انتخابات میں دھوکا دہی کے الزامات عائد کر کے اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا البتہ سابقہ الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کردیا تھا۔
سیاسی قیدیوں کی مقامی سماجی تنظیم کے مطابق فوج کی جانب سے اقتدار پر قبضے کے بعد سے ہی ملک بھر میں فوجی حکومت کے خلاف احتجاج، مارچ اور ہڑتالیں کی گئیں۔ فوج نے ان مظاہروں کا طاقت سے جواب دیا جس کے نتیجے میں 800 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔