سیاست جان خفا کا کوٹھا

کرونا وائرس  تو کرونا وائرس مگر سیاسی دھینگا مُشتی کا وائرس سبحان اللہ۔ لگتا  ہے  سیاسی گروہ سانپوں کے گُچھے ہیں جو ایک دوسرے سے الجھتے، بل کھاتے ایک دوسرے کو ڈستے حشرات الارض کا  کا لشکر بلا ہے، جس نے اللہ کی زمین کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

 ایک آگ  ہے جس نے پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور قسم قسم کے سوشل میڈیا گروپ اس جلتی پر منوں تیل ڈالتے چلے جا رہے ہیں اور سیاسی مخاصموں کا  ایک طوفان  ہے کہ رُکنے کو ہی نہیں آتا۔  مجھے اس صورتِ حال کو دیکھ کر اکثر شاد عرفی مرحوم کا ایک شعر یاد آتا ہے:

مرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو

گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں

ہمارے ہاں  سیاسی طوئف الملوکی کی روایت  بہت پرانی ہے۔  چھوٹے چھوٹے رجواڑوں  کی  دھجیوں سے سلی  سیاسی گودڑی  بر صغیر  کی شانوں کی شال رہی ہے اور اب وہ رجواڑے چند سیاسی خانوادوں کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔  انگریزوں نے اس  معاشرت کے مزاج کی تشخیص کی تو اسے اس مرض  کی حقیقت معلوم ہو گئی تھی۔ چانچہ اس نے برِ صغیر پر حکومت کے لیے مقامی چودھراہٹوں، نوابوں، پیروں ، جاگیرداروں اور  مذہبی فرقوں کی طاقت کو استعمال کیا اور ان کی مدد سے برِ صغیر پر اپنا مضبوط قبضہ جمائے رکھا۔  تاریخ سے قطع  نظر ہم اب بھی اُسی  مرض کے گرفتار ہیں۔ ہمارے یہاں  قانون نہیں بلکہ گروہی سلطانوں کی  مرضی کا سکہ چلتا ہے۔ چنانچہ میرا جسم میری مرضی کی طرز پر میری پارٹی میری مرضی کا فارمولا  نافذ ہے۔  ان پارٹیوں میں کچھ تو فرنٹ لائن پارٹیاں ہیں اور بیک گراؤنڈ میوزک دیتی ہیں۔  یہ بیک گراؤنڈ میوزک دینے والے ڈی جے بھانت بھانت کی  مسلح مذہبی تنظیموں ، قوم پرست گروہوں اور پیشہ ور ڈاکوؤں پر مشتمل ہیں ۔ 

معاشرے میں نوسر بازوں کا جال پھیلا ہوا ہے جو طرح طرح سے لوگون کو لوٹنے کے منظم منصوبے بناتے رہتے ہیں۔ بحریہ ٹاؤن کی  نقالی میں کئی جعلی ہاؤسنگ سوسائیٹیاں قائم ہیں جو  سرکاری زمینوں کو پلاٹ پاٹ کر کے بیچ دیتی ہیں۔ اس کارِ بد میں  افسر شاہی اور سیاسی اثر رسوخ رکھنے والے  سب ملی بھگت سے غریب آدمی کو لوٹتے ہیں   اور جب تک یہ  ناجائز عمارتیں بنتی ہیں، سب خموشی سے دیکھتے ہیں اور پھر اچانک ایک دن ان عمارتوں کو گرانے والی قوتیں حرکت میں آتی ہیں اور عمارتیں مسمار اور لوگ بے گھر ہونے لگتے ہیں۔  حیرت تو اس بات کی ہے کہ جب یہ غیر قانونی کام ہو رہا ہوتا ہے، کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی، کسی کو قانون یاد نہیں آتا مگر اچانک کسی سیاسی یا مفاد پرست گروہ  کے دباؤ سے  عمارتوں کی شامت آ جاتی ہے اور ان میں مقیم  لوگوں کی چیخ و پکار سے  زمین گونج اُٹھتی ہے۔ یہ سلسلہ برسوں سے اس متقی معاشرے کی روایت رہی ہے جس میں خوفِ خدا رکھنے والے پرہیز گار خلقِ خُدا کو  عذاب میں مبتلا کردیتے ہیں اور  یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے ۔ نظریہ   پاکستان، آئین  اور اسلام  اور سارے ادارے یہ گھر پھونک تماشہ دیکھتے رہتے ہیں  اور  اہلِ ایمان کا یہ کارخانہ بدستور چلتا رہتا ہے۔  اور حکومتیں  سیاسی مشاعروں میں  شاعری کرتی رہتی ہیں اور اب بھی کر رہی ہیں۔  عرض کیا ہے:

کشمیر  ہمارا ہے فلسطیں بھی ہمارا

آزاد کرائیں گے انہیں  نعروں سے ہم لوگ

لیکن یہ کب ہوگا؟ کوئی نہیں جانتا۔  کشمیر ہماری شہ رگ ہے جس سے بہتر برس سے خون بہہ رہا ہے جسے ہم روک نہیں پائے۔ اور ہم روک بھی نہیں سکتے۔ ہم جو اپنے شہروں کی گلیوں کو صاف نہیں رکھ سکتے، اداروں کو  کرپشن سے پاک نہیں کر سکتے،  اپنے بچوں کے لیے خالص دودھ کی ضمانت نہیں دے سکتے، اشیا اور ادویات میں ملاوٹ کے جرم  کا خاتمہ نہیں کر سکتے بلکہ اس کارِ  قبیحہ میں بھی اپنا حصہ بقدرِ جُثہ وصول کرتے ہیں،  ہم جو قانون کی پابندی نہیں کرسکتے، شکار پور میں ڈاکو اس قدر طاقت ور ہیں کہ وہ پولیس کو یرغمال بنالیتے ہیں  اور ہم ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے اور نہ کچھ بگاڑ سکیں گے کیونکہ  قانون کی کُتیا کی چوروں سے ملی بھگت ہے۔  ہر روز نئے سکینڈل  سامنے آتے ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ ہمارے منصوبہ ساز ادارے خدمت کم اور کرپشن زیادہ کرتے ہیں  اور یہ سب کچھ  اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت اور آٹھ لاکھ مساجد کے خُدائی فوجداروں کی  آنکھوں کے سامنے  ہوتا ہے مگر اس ملک  میں کسی کا حکم نہیں چلتا۔ ہر طرف بغل میں چھری اور  مونہہ  میں رام رام کا  سا  سماں نظر آتا ہے۔ اور اس کا رِ سیاہ  کا  ذمہ  دار کون ہے؟ سب لوگ ایک دوسرے کو  الزام دیتے ہیں،  ہر بندر اپنی بلا طویلے کے سر منڈھتا ہے۔

کرپشن کے خلاف لڑنے والی سپاہ خود کرپشن کرتی ہے،  انسانی رشتے اتنے کمزور ہوچکے ہیں کہ یہاں ہر طرف یوسف کے بھائیوں کا قانون چل رہا ہے۔ ہر شخص دوسرے کے لیے مسئلہ ہے، راستے کی گرد ہر شخص کے لیے مرحلہ ہے، کوئی کسی سے  خوش نہیں اور  رشتوں  ناتوں کا جبر اور زیرِ کفالت ہونے کی مجبوری  نے زندگی کے ہر پہلو کو دھندلا دیا ہے۔ لوگ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔  زندگی  کی تلخیوں سے تنگ  آ کر اپنے بچوں کو موت کی نیند سلا دینے کا فیشن چل نکلا ہے۔  یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور رحمت اللعالمین  ﷺ کی سیرت کے قصیدے پڑھنے والے  گھٹنوں تک کرپشن کے دلدل میں دھنسے صادق اور امین ہونے کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ یا خُدا! ہم کون لوگ ہیں؟  کیا ہم سچ مُچ تیری ہی مخلوق ہیں یا ہم کسی خیالی فیکٹری  کی  غیر ضروری پیداوار ہیں؟ جی ہاں، کچھ ایسا ہی نظر آرہا ہے کہ  افراطِ آبادی  کا شکار یہ ملک خُود ہی  اپنے گلے کی  نظریاتی اور تنظیمی چھچوندر بن کر رہ گیا ہے۔ 

ہم اٹھارہ اٹھارہ افراد کے وہ خاندان ہیں جو دو دو  کمروں کے فلیٹوں میں چوہوں کی طرح رہتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں کو سینکڑوں  کنالوں کے عالیشان محلات میں اسراف، ٖفضول خرچی  اور عیاشی کی شاندار مثال بنے ہوئے ہیں۔  ہمارا معاشرہ اسلامی  اصولوں  کے خلاف ایک باقاعدہ سازش ہے ۔ نہ اخوت، نہ مساوات، نہ باہمی رواداری نہ احساسِ مروت۔  ان خوبصورت تصورات کے استحصال کے لیے کئی پروگرام بنتے ہیں جس نے لیے مختص فنڈ اداروں کے  اہل کار  کھا جاتے ہیں۔  اپنی ذمہ داری سے چشم پوشی کا یہ حال ہے ہم تین تین سال تک عوام سے کیے ہوئے اپنے وعدے پورے نہیں کرتے جس کی تازہ ترین مثال چودھری نثار کی واپسی ہے۔ تین برس کے بعد پنجاب اسمبلی میں ان کی حلف برداری مینر نیازی کی وہ ناظم ہے جس کا عنوان ہے، ہمیشہ دیر کردیتا ہوں ۔ لیکن اب میڈیا کے سوالوں کا سامنا کرتے ہوئے  چودھری صاحب خاصے پریشن نظر آئے اور  میڈیا مداریوں سے جان چھڑانے کے لیے کہہ  دیا کہ وہ پھر بھی لاہور آئیں گے۔ لاہور ان کا  دوسرا گھر ہے،  وہ اس دوسرے گھر میں تین برس تاخیر سے آئے ہیں ۔ بقولِ غالب:

ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا

آپ آتے تھے مگر کوئی عناں گیر بھی تھا

یہ سب کچھ دیکھ کر کبھی نظریہ ء  پاکستان کی درگت  پر ہنسی آتی ہے، کبھی ڈھاکہ تیر کی طرح سینے میں گڑ جاتا ہے  لیکن تماشہ ہورہا ہے جس میں ہم ہی تماشہ ہیں اور ہم ہی تماشائی۔ خیر ہو ہماری!