پاکستان میں امریکی اڈوں کا معاملہ، پاکستانی و امریکی بیانات میں متضاد اشارے
- منگل 25 / مئ / 2021
- 5940
پاکستان کی وزارت خارجہ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پاکستان میں امریکہ کا کوئی فوجی یا فضائی اڈا موجود نہیں ہے اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔
امریکہ اور پاکستان کی جانب سے بیانات کے بعد ذرائع ابلاغ پر ہونے والے مباحثوں، سوشل میڈیا اور عوام الناس میں یہ سوال تواتر سے پوچھا جا رہا ہے کہ آیا امریکہ کو افغانستان تک رسائی کے لیے پاکستان سے زمینی و فضائی راستے حاصل رہیں گے یا وہ پاکستان میں فوجی اڈے کی بھی اجازت دے رہا ہے۔
یہ کنیوژن اس بیان کے بعد پیدا ہوا جب امریکہ کے معاون وزیرِ دفاع برائے ہند و بحرالکاہل (انڈو پیسفک) ڈیوڈ ہیلوے نے بتایا کہ پاکستان، امریکہ کو افغانستان تک رسائی دینے کے لیے زمینی اور فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت برقرار رکھے گا۔ اس بیان پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی کہ آیا پاکستان امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کر رہا ہے، اگرچہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی چند روز قبل ایسی خبروں کی تردید کر چکے ہیں۔
اس صورتحال میں پاکستان کی وزارت خارجہ نے پیر کی شام ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پاکستان میں امریکہ کا کوئی فوجی یا فضائی اڈا موجود نہیں ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔ پیر کی شام جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں، پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ''اس ضمن میں کسی طرح کی قیاس آرائی بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔ اس سے احتراز کیا جانا چاہیے''۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان سنہ 2001 سے ایئر لائنز آف کمیونیکیشن اور گراؤنڈ لائنز آف کمیونیکیشن سے متعلق تعاون کے ضوابط کا ایک فریم ورک موجود ہے اور اس ضمن میں کوئی نیا سمجھوتہ عمل میں نہیں آیا ہے۔
وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی چند روز قبل واضح کیا تھا کہ پاکستان امریکہ کو فوجی اڈے دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ امریکی معاون وزیرِ دفاع نے گزشتہ ہفتے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ پاکستان نے افغان امن عمل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور وہ مستقبل میں بھی اس ضمن میں امریکہ کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ خطے میں اپنی موجودگی چاہتا ہے اور افغانستان کی صورتِ حال کے پیشِ نظر ممکن ہے کہ پاکستان غیر اعلانیہ طور پر امریکہ کو یہ سہولت دے۔ ڈیوڈ ہیلوے کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان میں اہم کردار ادا کیا ہے، اس نے افغان امن عمل کی حمایت کی، جب کہ افغانستان میں ہماری فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت اور زمینی رسائی دی ہے۔
دریں اثنا پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے اتوار کو جنیوا میں امریکی ہم منصب جیک سلیوان سے ملاقات کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں نے دو طرفہ تعلقات، خطے کی صورتِ حال اور باہمی تعاون کو فروغ دینے سمیت اُمور پر تبادلہ خیال کیا۔ بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے بات چیت کا عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔