اقوام متحدہ اب مسئلہ فلسطین نظر انداز کرنے کی پوزیشن میں نہیں: شاہ محمود قریشی
- منگل 25 / مئ / 2021
- 3490
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اب فلسطین کے مسئلے کو نظر انداز کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس کو فیصلہ لینا پڑے گا۔
فلسطین کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 193 رکنی ہنگامی اجلاس کے بعد ترکی کے ٹیلی ویژن چینل 'ٹی آر ٹی' پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فلسطین پر اسرائیل کی جارحیت کے حالیہ واقعات نے ان لوگوں کو جھنجھوڑ دیا جو باہر بیٹھے ہیں۔ دنیا بھر میں اسرائیلی حملوں پر ردعمل کی توقع نہیں تھی۔ کسی کو بھی توقع نہیں تھی کہ اسلامی تعاون کونسل (او آئی سی) اور عرب لیگ عملی طور پر فعال ہوجائے گی۔ نان الائن موومنٹ متحرک ہوجائے گی اور اس کے نتیجے میں جنرل اسمبلی کا خصوصی ہنگامی اجلاس ہوگا۔
شاہ محمود قریشی نے اسے ’ایک بے مثال سیشن‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کا اجلاس ایک واضح پیغام بھیجے گا کہ بہت ہوگیا ہے اور جو لوگ بنیادی حقوق پر یقین رکھتے ہیں انہیں ضرور آواز بلند کرنی چاہیے اور وہ اب ایک طرف ہو کر نہیں بیٹھ سکتے۔ یو این جی اے، یو این ایس سی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات سے متعلق سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انہیں سب سے پہلے جنگ بندی کرانے کی ضرورت ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا یو این جی اے اجلاس میں شرکت کا ایک نکاتی ایجنڈا تھا جو جنگ بندی کی ضرورت پر زور دینا تھا۔ جب اس ایجنڈے میں کامیابی ملے گی تو تمام دیگر مراحل بھی حل ہوجائیں گے۔ شاہ محمود قریشی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ او آئی سی رکن ممالک کے وزرائے خارجہ جو اس دن نیویارک میں موجود تھے وہ یو این جی اے کے صدر سے ملاقات کریں گے اور انہیں بین الاقوامی تحفظ فورس جیسی کوئی فورس تشکیل دینے کی تجویز پیش کریں گے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم اس خیال کو آگے بڑھائیں گے اور جنرل اسمبلی کے صدر کے ساتھ اس کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکا وہ واحد ملک ہے جس کی اسرائیل سنے گا۔ امریکا کا اسرائیل پر اثر و رسوخ ہے اور اسے اسرائیل کو راضی کرنے میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے کہ جو کچھ وہ کررہا ہے وہ دنیا کو قبول نہیں ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں لوگ حق خودارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کشمیر میں لوگ آبادیاتی تنظیم نو کے بارے میں رو رہے ہیں اور فلسطینی بھی آبادیاتی تنظیم نو سے خوفزدہ ہیں۔ کشمیری اور فلسطینی عوام نسلی قتل و غارت سے پریشان ہیں۔