تحریک لبیک پر پابندی کا معاملہ: خصوصی حکومتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی
- منگل 25 / مئ / 2021
- 3420
وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ کابینہ نے کالعدم قرار دی جانے والی جماعت تحریک لبیک پاکستان کی نظر ثانی پر مشتمل درخواست پر وزارت داخلہ کے تحت کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دے دی ہے۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کے ہمراہ کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا ریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ٹی ایل پی کی نظرثانی کی درخواست کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کابینہ کے اجلاس سے متعلق تفصیلات بتائیں کہ پچھلے دس برس میں 226کابینہ کے اجلاس ہوچکے ہیں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ مسئلہ فلسیطن اور کشمیر پر وزیر اعظم نے وزیر خارجہ اور ان کی ٹیم کو سراہا ہے۔ شاہ محمود قریشی کو فلسطین کے مسئلے پر قائدانہ کردار پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔ پاک چین اقتصادی راہداری سے منسلک اور سرمایہ کاری کی نیت سے آنے والے چینی باشندوں کے لیے ویزا کا خصوصی نظام بھی منظور کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک سے منسلک چینی باشندوں کو 2 سال کے لیے ورک انٹری ویزا، چین میں پاکستانی مشن کی جانب سے 48 گھنٹوں میں جاری کیا جائے گا۔ درخواست دہندگان کی سیکیورٹی کلیئرنس لازمی طور پر 30 دنوں میں کرلی جائے گی۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ چیف ایگزیکٹو افسر پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی فاؤنڈیشن تعینات کرنے کی سمری مؤخر کردی ہے۔ پاک افغان ٹرانزٹ معاہدے میں 6 ماہ کی توسیع کی منظوری دی ہے۔
اس موقع پر اسد عمر نے کہا کہ کابینہ میں معاشی شرح نمو میں بہتری کے بنیادی محرکات پر گفتگو ہوئی۔ جس سال میں دنیا کی بڑی بڑی معیشتیں مشکلات کا شکار تھیں، جب کووڈ19 کا اتنا بڑا چیلنج تھا تو ہم نے بہتر نتائج دیے۔ اس کی بنیادی وجہ وزیراعظم کا کردار تھا۔ انہوں نے ملک کے کمزور اور غریب طبقے کو بچا کر رکھنے کا فیصلہ تھا اور کوشش کی کہ غربت میں بے تحاشا اضافہ نہ ہو جائے اور لوگوں کا روزگار بند ہو جائے۔
ہمارے کوششوں کے باوجود لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن باقی دنیا کی نسبت ہم بہتر رہے اور ہمارا کمزور طبقہ اس کے اثر سے جلد نکل آیا۔ انتہائی چھوٹے دورانیے میں احساس پروگرام شروع کیا گیا جو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔ اس کے تحت پاکستان کے ہر تیسر گھر کے پاس یہ پیسہ پہنچا۔ اس طرح یہی پیسہ واپس معیشت کا حصہ بنا۔
انہوں نے معاشی بہتری کے محرکات بتاتے ہوئے مزید کہا کہ بڑی پیمانے کی صنعت میں ماہوار 10فیصد سے زائد اضافہ ہو رہا ہے اور مجموعی طور پر 9فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے اور ان اعدادوشمار میں اضافہ متوقع ہے۔ تعمیراتی شعبے کی شرح نمو کی پیمائش ممکن نہیں لیکن سیمنٹ کی فروخت کے ذریعے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور گزشتہ کئی ماہ سے سیمنٹ ریکارڈ فروخت ہو رہی ہے۔