تاڑا تو ناڑا۔۔۔۔۔

ہمارے بچپن میں ایک مولوی صاحب ہوا کرتے تھے جو نہایت شریف قسم کے انسان تھے۔ اس سے آپ یہ مت سمجھ لیجیے گا کہ آج کی طرح اس زمانے میں بھی شریف ہونا کوئی عیب کی بات ہوا کرتی تھی۔

آج کل تو شریف ہونا ایک عیب ہے۔ ایسے لوگ بیوقوف مانے جاتے ہیں۔ خیر تو ذکر کر رہا تھا مولوی صاحب کا۔ مولوی صاحب ایک مسجد میں امامت فرماتے، پھر بچوں کو قران پڑھاتے اور اس کے بعد کچھ وقت سستانے گھر چلے جاتے اور ظہر کی نماز پڑھا نے سے قبل تک کے بچے اوقات میں کتابوں کا گٹھا اٹھائے کتابیں بیچنے نکل جاتے۔ اس طرح کتابیں بیچ کر وہ نہ صرف اپنی آمدنی میں تھوڑا بہت اضافہ کر لیتے تھے بلکہ گھر گھر جاکر علم باٹنے اور بچوں اور بڑوں میں کتابوں سے رغبت بڑھانے کا سبب بنتے تھے۔

لوگ باگ مولوی صاحب کی بہت عزت کیا کرتے تھے اور اکثر لوگ تو صرف اس وجہ سے کہ مولوی صاحب کے کاندھے سے کچھ بوجھہ ہلکا ہوجائے ان سے کتابیں خرید لیا کرتے تھے۔ مگر مولوی صاحب کچھ دنوں بعد ہر کسی سے اس کو بیچی ہوئی کتاب کی بابت استسفار بھی ضرور کرتے تھے کہ کتاب کیسی لگی۔ اور اکثر و بیشتر کتاب کے موضوعات پر  بات چیت بھی کرتے تھے۔ لوگ اس ڈر سے کہ مولوی صاحب کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے مولوی صاحب سے خریدی کتابیں دھیان سے پڑھا بھی کرتے تھے۔ یوں مولوی صاحب جو کہ سچ مچ صاحب علم آدمی تھے، فروغ علم میں مصروف تھے۔ مولوی صاحب کی علمی قابلیت کا چرچا دور تک تھا اور پاس پڑوس کے لوگ بھی مولوی صاحب کے علم سے فیض اٹھانے آیا کرتے تھے۔

لیکن یہ باتیں اور زمانے کی ہیں جو میں آپ کو سنا رہا ہوں۔ مولوی صاحب کسی سے تحفے تحائف نہیں قبول کیا کرتے تھے۔ نہ ہی کسی کو کوئی ناجائز فائدہ پہنچانے کے لیے اپنی قابلیت یا شہرت کا غلط استعمال کیا کرتے تھے۔ اور حلالہ وغیرہ جیسے نیک کام کا تو اس زمانے میں لوگوں پتہ ہی نہ تھا۔ اور اگر کسی کو پتہ ہوگا بھی تو اسے اپنی معلومات کو مخفی رکھنے میں ہی عافیت محسوس ہوتی تھی۔ ایک دفعہ مولوی صاحب چٹاگانگ تشریف لے گئے، واپسی پر وہ ہمارے گھر تشریف لائے اور گھر میں برآمدے میں پڑی کرسی پر بیٹھتے ہوئے مجھے وہ تھیلا پکڑا دیا جس میں ابو نے ان کے ہاتھوں  کچھ چیزیں بھیجی تھیں۔ پھر اپنے پجامے کا ناڑا نکالتے ہوئے بو لے ٹھہرنا ذرا۔۔۔۔۔

میں کچھ گھبرا کر کچھ تھیلے کے وزنی ہونے کا بہانہ بناکر وہاں سے  نو دو گیارہ ہوگیا۔۔۔۔ ہانپتا کانپتا امی کے پاس پہنچا۔۔۔۔ام۔۔۔امی یہ یہ ۔۔۔امی نے جواباً مجھے ڈانٹنا شروع کردیا کیابد تمیزی ہے کیوں دیوانگی طاری ہے تم پر۔۔۔۔اب میں امی کو کیا کہتا۔۔۔۔۔میں نے کہا یہ یہ دیا ہے مولوی صاحب نے اور اور وہ کچھ اور۔۔۔۔ہاں تو ٹھیک کہہ رہے ہیں، مولوی صاحب تمہارے ابو نے پیسے بھیجے ہیں۔۔۔وہی دے رہے ہیں۔۔۔غالباً امی پردے کے پیچھے سے سب دیکھ رہی تھیں اور انہیں پہلے سے پتہ بھی تھا یا ان کا اندازہ تھا کہ ابو نے رقم بھیجی ہوگی۔

اس زمانے میں رنگین ناڑے کا استعمال اسے اور سامنے سے جھولتا ہوا چھوڑ دینا کوئی عیب کی بات نہیں مانی جاتی تھی۔ اور پاجامے کے نیفے میں ازار بند کے اندر رکھی مڑی تڑی رقم ہر طرح کی دست درازی سے محفوظ رہتی تھی۔۔۔۔۔بس اس کا سب کے سامنے  نکال کر دینا، مدعا کو غلط معنی پہچانے کا سبب بھی بن سکتا تھا۔ 

مولوی صاحب تو فرشتہ صفت انسان تھے۔ میں تو ہمیشہ کا شیطان ہوں۔ جبھی تو تاڑا تو ناڑا۔۔۔