استنبول کانفرنس میں شرکت کے لیے طالبان کی نئی شرائط
- بدھ 26 / مئ / 2021
- 5900
افغان طالبان نے اقوامِ متحدہ کے توسط سے ترکی میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت کے لیے نئی شرائط پیش کی ہیں۔ اس کانفرنس کا مقصد افغانستان کی صورتِ حال پر غور کرنا ہے۔
طالبان کے ایک سینئر رہنما نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ وہ کانفرنس میں اسی صورت میں شرکت کر سکتے ہیں جب اس بات کی ضمانت دی جائے کہ کانفرنس کا دورانیہ مختصر ہو گا۔ معاملات پر فیصلہ سازی کانفرنس کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہو گی اور طالبان کا وفد جونیئر قیادت پر مشتمل ہو گا۔
طالبان رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کی قیادت نے تجویز پیش کی ہے کہ استنبول کانفرنس تین روز سے زیادہ طویل نہیں ہونی چاہیے۔ طالبان کے ایک اور سینئر رہنما نے وائس آف امریکہ کے رابطہ کرنے پر اس خبر کی تصدیق کی ہے۔ افغانستان کی صورتِ حال پر استنبول کانفرنس کی میزبانی مشترکہ طور پر اقوامِ متحدہ، ترکی اور قطر کریں گے۔ تاہم کانفرنس کی حتمی تاریخ کا اب تک کوئی اعلان نہیں ہوسکا۔
یاد رہے کہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے 11 ستمبر تک افغانستان سے مکمل فوجی انخلا کے اعلان کے بعد واشنگٹن نے اپریل میں استنبول کانفرنس کی تجویز دی تھی۔ طالبان نے افغان امن عمل کے سلسلے میں روس کے دارالحکومت ماسکو میں اسی طرح کی ایک کانفرنس میں شرکت کی تھی لیکن انہوں نے ترکی میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت سے معذرت کر لی تھی۔
طالبان رہنما کے مطابق استنبول کانفرنس میں شرکت سے متعلق قیادت سے مشاورت کا عمل تقریباً ایک ماہ تک جاری رہا اور یہ گزشتہ ہفتے ہی اختتام کو پہنچا ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق طالبان رہنماؤں کی بات چیت کا عمل پاکستان میں ہوا ہے، جہاں افغان حکومت کے مطابق، بیشتر طالبان قیادت مقیم ہے۔
امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے بھی حال ہی میں جرمن نیوز ویب سائٹ 'ڈیر اشپیگل' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس دعوے کی تصدیق کی تھی۔ خلیل زاد کا کہنا تھا کہ اگر امن کی یہ کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور پاکستان و افغانستان کے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہوا تو پاکستان کو اس کا نقصان برداشت کرنا ہو گا۔ پاکستان کو ناکامی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا کیوں کہ بیشتر طالبان قیادت وہیں مقیم ہے۔
دوسری جانب پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے کی جانے والی کوششوں میں مدد کے لیے طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر رہا ہے۔ طالبان رہنما کا کہنا ہے کہ طالبان قیادت استنبول کانفرنس میں شرکت کی حامی نہیں۔ تاہم وہ پاکستان اور قطر کی درخواست پر چند شرائط کے ساتھ کانفرنس میں شرکت کریں گے۔