کسی پریشر گروپ کو حکومتی پالیسی ڈکٹیٹ کروانے کی اجازت نہیں دی جائے گی: وزیر خارجہ
- بدھ 26 / مئ / 2021
- 4380
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کسی مسلح یا پریشر گروپ کو ریاست کی رٹ چیلنج کرنے اور حکومت کو پالیسیز ڈکٹیٹ کروانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یورپی یونین کی خارجہ امور کمیٹی کے ساتھ ورچوئل ملاقات میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان توہین رسالت سے متعلق قوانین کے حوالے سے یورپی پارلیمان میں منظور کردہ قرارداد پر مایوس ہوا ہے۔ یورپی پارلیمان میں ہونے والا اقدام توہین رسالت کے قوانین سے متعلق کم فہمی اور پاکستانی عوام کے مذہبی جذبات سے پوری واقفیت نہ ہونے کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات اور دیگر مقدس شعائر و علامات سے وابستہ مذہبی جذبات کے ادراک کی ضرورت ہے۔ کسی جمہوری اور آزاد معاشرے کی طرح ہماری اظہار رائے کی اپنی اقدار ہیں تاہم اس حق کا دوسروں کے مذہبی احساسات اور جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دانستہ اشتعال دلانے اور اکسانے، نفرت پھیلانے اور تشدد کی اجازت نہ دی جائے اور عالمگیر سطح پر اسے قانون کے خلاف قرار دینا چاہیے۔ ہماری حکومت نے یورپ میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور قرآن پاک کی بے حرمتی سے پیدا ہونے والی صورتحال کو ختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے اور حالیہ رپورٹس کے بعد بنیاد پرست گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مذہب یا عقائد کی بنیاد پر عدم برداشت، اشتعال انگیزی اور تشدد پھیلانے والوں کے خلاف مشترکہ عزم دکھانا ہوگا۔ یاد رہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئی قانون سازی کی گئی ہے۔ اس ماہ کے اوائل میں وفاقی کابینہ نے صحافیوں اور میڈیا کے تحفظ اور جبری گمشدگیوں کے انسداد کا بل منظور کیا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم دنیا کے معاشی تعاون میں شمولیت چاہتے ہیں اور امن و ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔ ہماری توجہ جیوپالیٹیکس سے جیواکنامکس کی طرف بدل رہی ہے۔ پاکستان 22 کروڑ افراد کی ابھرتی ہوئی مارکیٹ ہے جہاں 30 سال سے کم عمر کے 60 فیصد افراد بستے ہیں۔ پاکستان تجارت اور سرمایہ کاری کے لاتعداد مواقع پیش کرتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں امن و استحکام ہمارے علاقائی معاشی یکجائی اور خطے سے پار رابطے استوار کرنے کے لیے نہایت ناگزیر ہے۔ پاکستان مذاکرات کے ذریعے سیاسی تصفیے سے افغانستان میں لڑائی کا خاتمہ چاہتا ہے۔