ریاست غریبوں کی مدد کرے تو اللہ معاشرے میں برکت دیتا ہے: وزیراعظم

  • بدھ 26 / مئ / 2021
  • 4850

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میرا ایمان یہ ہے کہ پیسہ نہ ہونے کے باوجود جب آپ انسانیت کے لیے کوشش کرتے ہیں اور ان کی بہتری کے لیے پیسہ خرچ کرتے ہیں تو اللہ خوش ہوتا ہے۔ ریاست غریب طبقے کی مدد کرے تو وہ اس معاشرے میں برکت ڈالتا ہے۔

لیہ میں صحت انصاف کارڈ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہی وجہ تھی کہ ریاست مدینہ میں جب پیسہ نہیں تھا اس وقت ریاست نے اپنے کمزور طبقے کی ذمہ داری لے کر دنیا کی تاریخ کی پہلی فلاحی ریاست قائم کی۔ دنیا گواہ ہے کبھی اتنا بڑا انقلاب نہیں آیا جو مدینہ کی ریاست لے کر آئی۔

پاکستان کا بھی یہی ماٹو ہے۔ ہمارے پاس اتنا پیسہ نہیں ہے، مقروض ہیں، قرضوں پر سود دینے میں ہی آدھا پیسہ چلا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود صوبہ خیبرپختونخوا اور پنجاب نے عوام کے لیے ہیلتھ انشورنس کا فیصلہ کیا۔ اس کی وجہ سے آپ لوگوں کے پاس پیسہ آئے گا۔ ایک وہ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ پہلے پیسہ اکٹھا کریں گے پھر فلاحی ریاست بنائیں گے۔ دوسرے ہماری طرح کے ہوتے ہیں کو اللہ پر یقین رکھتے ہیں اور سجھتے ہیں کہ پہلے ہم لوگوں کی خدمت کریں گے پھر اللہ پیسہ دے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب پاکستان قائم ہوا تو اسے اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا لیکن ہم نے کبھی یہاں فلاحی ریاست نہیں دیکھی۔ اگر کسی غریب یا سفید پوش کے گھر میں بیماری اور علاج کا پیسہ نہ ہو تو صرف وہ جانتا ہے کہ اس کا گھر کس عذاب سے گزرتا ہے۔ شوکت خانم ہسپتال بھی اسی لیے بنایا کہ والدہ کے علاج کے لیےگیا تو وہاں کینسر کا مریض مل گیا تھا جس کے پاس دوائی کے پیسے نہیں تھے۔

اس وقت میں نے سوچا کہ اللہ نے کبھی ملک کا اقتدار دیا تو سب سے پہلے لوگوں کے لیے یہ کام کرنا ہے کہ بیماری کی صورت میں انہیں پیسے کی فکر نہ ہو لہٰذا آج ہیلتھ انشورنس کا اعلان کرنے میں  لیہ آیا ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری پہلی ڈیوٹی یہ ہے کہ اللہ کو خوش کریں اور وہ اس وقت خوش ہوتا ہے جب انسانوں کی خدمت کی جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہر خاندان کے پاس 7 لاکھ 20 ہزار روپے کی ہیلتھ انشورنس ہوگی اور وہ صرف سرکاری نہیں بلکہ کسی بھی ہسپتال میں جا کر علاج کرواسکتے ہیں اور اگر پیسہ ختم ہوجائے تو علاج مکمل کروانے کے لیے مزید 3 لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے۔