احتساب کا دوہرا معیار کیوں؟
- تحریر مظہر چوہدری
- بدھ 26 / مئ / 2021
- 10120
اس میں کوئی شک نہیں کہ کرپشن ایک عالمی مسئلہ ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مختلف ملکوں میں حکومتی و سیاسی اور سماجی و انتظامی سطح پر پائی جانے والی کرپشن کی نوعیت اور شدت میں فرق موجود ہے۔تقریباً دنیا کے تمام ممالک میں ریاستی و حکومتی سطح پرایسے ادارے سرگرم عمل ہوتے ہیں جن کا مقصد حکومتی وسیاسی اورسماجی و انتظامی سطح پر کرپشن کی روک تھام کے لئے تسلسل سے ٹھوس اقدامات کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔
جن ممالک میں ریاستی وحکومتی سطح پر"احتساب سب کا "کے اصول پر سختی سے عمل پیرا رہتے ہوئے کرپشن کے سدباب کے لئے کوششیں کی جائیں وہاں کرپشن کی شرح بتدریج کم ہوتی جاتی ہے لیکن جہاں "احتساب سب کا" کے اصول پرعمل پیرا ہونے کی بجائے احتساب کے دوہرے معیار کو فروغ دیاجائے وہاں کرپشن میں کمی کی بجائے الٹااضافہ ہو جاتا ہے۔بدقسمتی سے پاکستان بھی ایسے کچھ ممالک میں شامل ہے جہاں احتساب کا دوہرا معیار رائج رہا ہے۔
مختلف ادوار میں ملک میں ہونے والے احتسابی عمل بارے عمومی تاثر یہ ہے کہ یہاں سب کا یکساں احتساب کرنے کی بجائے ایسے مخالفین کے گرد احتساب کا گھیرا تنگ رکھا جاتا ہے جو یا توحکومت وقت کے سخت ناقد و ناپسندیدہ ہوں یا پھر جو مقتدر حلقوں کی نظروں میں خار کی طرح کھٹکتے ہوں۔سیاسی بنیادوں پر ہونے والے ایسے احتسابی عمل سے سیاسی مخالفین کو ڈرا دھمکا کراپوزیشن کرنے سے وقتی طور پرتوروکا جا سکتا ہے لیکن ایسے امتیازی احتساب سے ریاستی و حکومتی اور انتظامی و سماجی سطح پر کرپشن میں قابل ذکر حد تک کمی لانا کسی بھی طرح ممکن نہیں ہوتا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ تبدیلی کے نام پر ووٹ لینے والی موجودہ حکومت کے حالیہ تین سالوں میں ماضی کی نسبت احتسابی عمل زیادہ تیزی سے جاری رہا ہے لیکن بدقسمتی سے اس دورمیں بھی "سب کے احتساب"کی بجائے صرف سیاسی مخالفین کا ہی احتساب کرنے کی کوششیں ہوئی ہیں۔حکومتی صفوں میں موجود کرپٹ عناصراور حکومتی منصوبوں میں سامنے آنے والی کرپشن کے خلاف یا تو سرے سے کوئی کاروائی ہی نہیں ہوتی یا پھر ان کے خلاف احتسابی عمل انتہائی سست رفتاری سے جاری رکھا جاتا ہے۔
حالیہ تین سالوں سے جاری احتسابی عمل میں احتساب کا شکنجہ صرف حکومت کے سیاسی مخالفین کے گرد کسا نظر آتا ہے۔اگرچہ ن لیگ کی مرکزی قیادت موجودہ حکومت کے آنے سے پہلے ہی زیر عتاب تھی لیکن حکومت کے اقتدار سنبھالتے ہی شریف خاندان سمیت ن لیگ کے اہم رہنماؤں کے خلاف احتسابی کاروائیوں میں بہت تیزی آ گئی۔حکومت اور مقتدر ہ پرسخت تنقید کرنے والوں کو ایک ایک کرکے پابند سلاسل کر دیا گیا۔ احتسابی عمل کو جامع بنانے کے لئے پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے پہنچانے کے لئے احتسابی اداروں کو ڈرامائی انداز میں حرکت میں لایا گیا۔احتسابی عمل کوشفاف بنانے کے لئے حکمران جماعت کے کچھ رہنماؤں کے خلاف بھی احتسابی ادارے حرکت میں آئے لیکن کچھ عرصہ کی کاروائیوں کے بعد انہیں کلین چٹ دے دی گئی۔سیاسی جماعتوں کے واویلوں کے باوجود بھی حکومتی منصوبوں میں سامنے آنے والی کرپشن پر کوئی کاروائی نہ ہو سکی۔سیاسی جماعتوں کے بقول ایک طرف فارن فنڈنگ، مالم جبہ اور ہیلی کاپٹر کیسز میں ہونے والی کرپشن کا حساب نہیں لیا گیاتو دوسری طرف بلین ٹری سونامی اور بی آر ٹی منصوبوں میں ہونے والی مبینہ کرپشن کو دانستہ نظر انداز کیا گیا۔ علاوہ ازیں پاور سیکٹر، ادویات کی درآمد اور آٹا چینی سکینڈلز میں وزیراعظم صاحب کے قریبی ساتھی ملوث پائے گئے لیکن اپوزیشن رہنماؤں کے برعکس ان کے خلاف احتسابی عمل کو چیونٹی کی رفتار سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
ایک سال سے زائد عرصہ گذرنے کے باوجود چینی سکینڈل کے مرکزی ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جا سکا جب کہ قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کوگذشتہ تین سالوں میں تین بار جیل کے سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جا چکا ہے۔اپنے خلاف احتسابی کاروائیوں کو رکوانے کے لیے ترین گروپ کے سیاسی حربوں اور دباؤ کے آگے وفاق اور پنجاب حکومت کی بے بسی سب کے سامنے ہے۔ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ایک طرف وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب وداخلہ شہزاد اکبر کو کہنا پڑ رہا ہے احتساب اگر سب کے لیے نہیں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں اور دوسری طرف وزیراعظم عمران خان یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ نیب کے 23سالوں سے کام کرنے کے باوجود بدعنوانی پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
راولپنڈی رنگ روڑ سکینڈل میں وزیراعظم کے قریبی ساتھیوں زلفی بخاری اور غلام سرور خان کا نام آنا حکومت کے لئے ایک اور بڑا چیلنج ہے۔اس حوالے سے ابھی تک ہونے والی کارروائیوں سے معلوم یہی ہوتا ہے کہ حکومت تمام تر مدعا بیوروکریٹس پر ڈال کر اصل ذمہ داروں کوبچانا چاہتی ہے۔اس سیکنڈل کی تفصیلات کے لئے تو الگ سے کالم درکار ہے تاہم مختصر طور پر اتنا ہی عرض ہے کہ شہباز شریف کے دور میں بننے والے اس منصوبے کی لمبائی میں 30کلومیٹر کا اضافہ کر کے رنگ روڑ کو زلفی بخاری کی زمینوں تک پہنچانا تھا جس سے زلفی بخاری کی اراضی کی قدرو قیمت کئی گنا بڑھ جاتی جب کہ اسی طرح منصوبے میں تبدیلی کرکے ہوا بازی کے وفاقی وزیرکے بیٹے کی مجوزہ ہاؤسنگ سوسائٹی کو بھی فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی۔دو حرفی بات یہ ہے کہ راولپنڈی رنگ روڑ کا روٹ تبدیل کرکے اس میں اٹک لوپ اور اسلام آباد کے کچھ سیکٹرز شامل کرنے جیسے اہم فیصلے صرف کمشنر راولپنڈی سمیت بیوروکریسی کے چند افسران نہیں کر سکتے۔بیوروکریسی وزیراعظم کے مشیر اور وزیر اثر انداز ہوئے ہیں۔
کرپشن کے سدباب کے لئے احتسابی عمل اس لئے بھی ناگزیر ہے کہ کرپشن نہ صرف عوام کو بنیادی وسائل و خدمات کی فراہمی کی حکومتی کوششوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے بل کہ کرپشن زدہ ملک میں کی جانے والی سرمایہ کاری کرپشن سے پاک ملک میں سرمایہ کاری کی نسبت20فیصد سے زائدمہنگی پڑتی ہے لیکن بدقسمتی سے وطن عزیز میں احتسابی عمل میں روا رکھے جانے والے دوہرے معیارات نے احتسابی عمل کو سرے سے ہی مشکوک بنا دیا ہے۔ وزیراعظم صاحب اگر واقعتا کرپشن کو ختم کرنے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں حکومتی صفوں میں موجود کرپٹ عناصر کے خلاف بھی اتنی ہی شدومد کے ساتھ احتسابی عمل کی حمایت کرنی چاہیے جتنی کہ وہ اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم صاحب آج چینی اور رنگ روڑ سکینڈل کے اصل ذمہ داروں کے خلاف فیصلہ کن کاروائی کا حکم نہیں دیتے تو عوامی سطح پر قائم اس تاثر کو مزید تقویت ملے گی کہ حکومت اپنے قریبی لوگوں اور اپنے سیاسی مخالفین کے لئے احتساب کا دوہرامعیار رکھتی ہے۔وزیراعظم صاحب آپ کے بقول اوپر بیٹھے لوگوں کو گرفت میں لائے بغیر کرپشن کم نہیں کی جا سکتی۔ اب آپ کے پاس موقع ہے، آپ چینی اور رنگ روڑ سکینڈل کے اصل ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر بلا امتیاز احتساب کی مثال قائم کر سکتے ہیں۔