امریکی صدر کا 90دن میں وائرس کے آغاز کے بارے میں رپورٹ تیار کرنے کا حکم

  • جمعرات 27 / مئ / 2021
  • 5020

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے انٹیلی جنس اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کورونا وائرس کے ماخذ کے بارے میں چھان بین کی کوششیں تیز کریں اور  90 روز کے اندر تحقیقاتی رپورٹ پیش کریں۔

صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ کووڈ 19 وبا کی ابتدا کے اصل حقائق جاننے کی ضرورت ہے۔ خصوصی طور پر اس امکان سے متعلق حتمی رائے سامنے آنی چاہیے کہ آیا کورونا وائرس کی شروعات حادثاتی طور پر چینی لیباریٹری سے ہوئی؟ صدر بائیڈن نے بدھ کو اپنے ایک بیان میں امریکی قومی لیباریٹریز کو ہدایت کی کہ وہ اس تحقیقات میں انٹیلی جنس اداروں کی مدد کریں اور چین سے مطالبہ کیا کہ اس چھان بین اور اسباب کے تعین میں امریکی حکام کے ساتھ تعاون کیا جائے۔

بائیڈن انتظامیہ کئی ماہ سے اس امکان کو رد کرتی آئی ہے کہ کورونا وائرس کا آغاز چین کی لیباریٹری سے ہوا تھا۔ لیکن وبا کے پھیلاؤ کے اسباب جاننے کے لیے حال ہی میں امریکہ اور کئی ممالک کی جانب سے بیانات اور مطالبات سامنے آئے ہیں۔ بائیڈن نے کہا کہ اس بات کا ثبوت کم ہی ہے کہ یہ وائرس انسانوں میں کسی جانور سے منتقل ہوا یا پھر حادثاتی طور پر کسی لیباریٹری سے انسانوں کو لگا۔

امریکی صدر نے کہا کہ اس ضمن میں اب تک چین کی حکومت نے بین الاقوامی تحقیقات میں تعاون کرنے سے انکار کیا ہے۔ اس لیے اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ چین کی جانب سے اب بھی تعاون میسر نہ آئے اور کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہ آئے۔ اس بات کی کھوج لگائی جائے گی کہ یہ امکان کہاں تک درست ہے کہ کورونا وائرس کی شروعات چینی لیباریٹری سے ہوئی۔

یاد رہے کہ دسمبر 2019 سے دنیا بھر میں یہ باتیں گردش کرتی رہی ہیں کہ کورونا وائرس کی ابتدا چین کے شہر ووہان سے ہوئی۔ اس سلسلے میں یہ الزام بھی لگایا جاتا رہا ہے کہ یہ وائرس ووہان کی لیبارٹری سے نکل کر پھیلا، یا پھر اس کی شروعات ووہان کی جانوروں کی مارکیٹ سے ہوئی جہاں چمگادڑ سمیت کئی جانور فروخت ہوتے تھے۔

حال ہی میں امریکہ کی حزبِ اختلاف کی جماعت ری پبلکن پارٹی کی قیادت نے الزام لگایا تھا کہ صدر بائیڈن اس معاملے پر چین پر دباؤ نہیں ڈال رہے۔  ماضی میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف رہا تھا کہ کورونا وائرس حادثاتی طور پر چین کی لیباریٹری سے یا پھر ووہان کی جانوروں کی مارکیٹ میں وائرس زدہ جانور سے انسانوں میں پھیلا۔

جو بائیڈن نے کہا ہے کہ انٹیلی جنس کمیونٹی کی اکثریت ان دونوں امکانات پر غور کرتی رہی ہے۔  ان کے پاس حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لیے درکار ضروری ثبوت موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی خفیہ اداروں کے کئی اہل کار دونوں امکانات کو غور طلب خیال کرتے ہیں، جب کہ مزید ثبوت تلاش کرنے کی جستجو جاری ہے اور ان کوششوں کو اب تیز کیا جانا چاہیے۔

صدر بائیڈن کے بیان کے بعد امریکہ میں چین کے سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کورونا وائرس کے آغاز کو سیاسی رنگ دینا وبا کی روک تھام کے لیے کی جانے والی عالمی کوششوں اور مزید تحقیقات میں رکاوٹ کا سبب ہے۔ چین کے سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بعض سیاسی طاقتیں کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر سیاست اور الزام تراشیاں کر رہی ہیں۔

چین کی جانب سے کورونا وائرس کا آغاز ووہان کی لیبارٹری سے ہونے کے مفروضوں کو مسترد کیا جاتا رہا ہے۔ چین یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ امریکہ اور دیگر ملک وبا پر قابو پانے میں اپنی ناکامی کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔