آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر پاکستان چھوڑنا چاہتے ہیں: وزیراعظم
- جمعرات 27 / مئ / 2021
- 6670
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 5 جون کو عالمی یومِ ماحولیات کی میزبانی پاکستان کررہا ہے جو بہت بڑا اعزاز ہے۔ یہ بات کا اعتراف ہے کہ پاکستان سنجیدگی سے گلوبل وارمنگ کے اثرات کم کرنے کی کوششیں کررہا ہے۔
خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور میں بلین ٹری سونامی منصوبے کے افتتاح کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہم یہ کوششیں دنیا کو دکھانے کے لیے نہیں بلکہ اس لیے کررہے ہیں کہ کیوں کہ ہم اپنے آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر پاکستان چھوڑنا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا موسمیاتی تبدیلیوں کا سب سے بڑا نقصان آنے والی نسلوں کو ہوگا۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ 10 ممالک میں سے ایک ہے۔ ہمارے دریاؤں میں سب سے زیادہ پانی گلیشیئرز سے آتا ہے اور عالمی درجہ حرارت بڑھنے گلیشیئرز اسی تیزی سے پگھلتے رہے تو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف ہمارا ہی مسئلہ نہیں بلکہ بھارت میں بھی یہی صورتحال ہے اور وہاں ان کا دریائے گنگا کا میدانی علاقہ گلیشیئرز پر ہی انحصار کرتا ہے۔ بلین ٹری سونامی منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کیا جائے۔ ہم چاہتے ہیں آنے والی نسلوں کے لیے وہ پاکستان چھوڑ کر جائیں کہ جو ہم نے دیکھا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ میں جس پاکستان میں پلا بڑھا ہوں اس میں وسیع رقبے پر جنگلات تھے۔ جنگلی حیات زیادہ تھی، شہر بھی قابل انتظام تھے لاہور ایک صاف شہر تھا، پانی صاف تھا اور آلودگی نہیں تھی۔ لیکن کسی نے آگے کا نہیں سوچا اور اپنے شہروں کو بھی نقصان پہنچایا۔ اب ہم نے چین کی مثال سے دیکھا کہ اگر قوم ایک فیصلہ کرلے تو چیزیں بدل سکتی ہیں۔