ترانوے فی صد پاکستانیوں کے پاس موبائل فونز، 16 فی صد گھرانے غذائی عدم تحفظ کا شکار
- جمعہ 28 / مئ / 2021
- 8050
پاکستان کے ادارہ شماریات نے پاکستان سوشل اینڈ لیونگ اسٹینڈرڈز میئرمنٹ (پی ایس ایل ایم) سروے برائے سال 20-2019 کے نتائج کے مطابق 16 فی صد پاکستانی خاندان غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ملک میں پرائمری تعلیم کی سہولیات 67 فی صد، سیکنڈری تعلیم 47 فی صد اور اپر سیکنڈری تعلیم تک 23 فی صد لوگوں کی رسائی ہے۔ پانچ سے 16 برس تک کے 32 فی صد بچے آج بھی سکول سے باہر ہیں، سندھ واحد صوبہ ہے جہاں شرح خواندگی کم ہو رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غذائی عدم تحفظ صحت کے نظام اور دیگر عوامل کے ساتھ منسلک ہے جس کی وجہ سے تمام شعبوں میں بہتری آنا ضروری ہے، تعلیم کے شعبہ میں پرائمری تعلیم کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور بیشتر فنڈز اعلیٰ تعلیم کے لیے مختص کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان شماریات بیورو نے ملک کے 6500 بلاکس میں ایک لاکھ 95 ہزار خاندانوں پر مشتمل یہ سروے کیا ہے جس کا مقصد قومی، صوبائی اور ضلعی سطح پر ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے لیے شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے اعدادوشمار فراہم کرنا ہے۔ سروے میں صحت، تعلیم، رہائش، صاف پانی کی فراہمی، انٹرنیٹ کے استعمال، خوراک کے عدم تحفظ کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
غذائی تحفظ کے بارے میں سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور پر 84 فی صد گھرانوں کو محفوظ خوراک حاصل ہے۔ 16 فی صد گھرانوں میں خوراک کے عدم تحفظ کا بتایا گیا جب کہ دو فی صد گھرانوں میں خوراک کا شدید عدم تحفظ پایا جاتا ہے۔ پاکستان میں جن علاقوں میں حالت خراب ہے ان میں بلوچستان میں شدید اور درمیانے درجے کا غذائی عدم تحفظ سب سے زیادہ 29.84 فی صد، اس کے بعد سندھ میں 18.45 فی صد، پنجاب میں 15.16 فی صد اور خیبرپختونخوا میں 12.75 فی صد ہے۔
غذائی تحفظ کے حوالے سے کام کرنے والے ماہر غذائیت ڈاکٹر اسد علی کہتے ہیں کہ غذائی تحفظ کا تعلق غذائی قلت سے نہیں ہے بلکہ عام زندگی میں مختلف پہلو اس پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ غذائی کمی یا غذائی عدم تحفظ بہت سی بیماریوں کا موجب بنتا ہے لیکن اس کی وجہ صرف غذائی قلت نہیں ہے۔ اس کی وجوہات میں ضروریات زندگی کے دیگر شعبے بھی شامل ہیں، جیسے پینے کے صاف پینے تک رسائی ایک بہت اہم پہلو ہے۔
سروے رپورٹ میں تعلیم کے شعبہ کے بارے میں بتایا گیا کہ پانچ سے سولہ برس کی عمر کے اسکول جانے کی عمر کے 32 فی صد بچے ابھی بھی اسکولوں سے باہر ہیں۔ اسکولوں سے باہر رہنے والے بچوں میں سے سب سے زیادہ 47 فی صد بلوچستان میں اور سب سے کم پنجاب میں 26 فی صد ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 12 فی صد گھرانوں کے پاس کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ ہیں، 93 فی صد کے پاس اپنے موبائل فون ہیں اور 33 فی صد شہری علاقوں میں عوام کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے۔ مجموعی طور پر 10 برس یا اس سے اوپر کی عمر کے 45 فی صد افراد اپنے ذاتی موبائل فون اور 19 فی صد انٹرنیٹ سہولیات کا استعمال کرتے ہیں۔ ملک میں 65 فی صد مردوں کے پاس موبائل ہیں جب کہ 25 فی صد خواتین کے پاس ذاتی موبائل فون ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 96 فی صد گھرانے روشنی کے لیے بجلی کا استعمال کرتے ہیں۔ 91 فی صد کمپنیوں سے فراہم کردہ بجلی اور 5 فی صد شمسی پینل سے پیدا ہونے والی بجلی استعمال کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 48 فی صد خاندان گیس کو کھانا پکانے کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔