عدالتی اصلاحات ضروری ہیں

جمہوریت، سیاست اور نظام کی شفافیت کے لیے اصلاحات بنیادی ضرورت ہیں۔  جمہوریت، پارلیمانی طرز سیاست،قانونی کی حکمرانی میں انقلاب کی بجائے اصلاحات کی بنیادپر  تبدیلی کے عمل کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔

اصلاحات کا عمل بتدریج آگے بڑھتا ہے او روقت کے ساتھ ساتھ بہتر نتائج دیتا ہے۔ اصلاحات پر مبنی ایجنڈا سیاسی او رجمہوری نظام کی ساکھ بھی قائم کرتا ہے اور  لوگوں کی توقعات پر پورا اترتا ہے۔ اسی بنیاد پر ریاست، حکومت اور اداروں کا عوام میں اعتماد بڑھتا ہے اور سیاسی نظام کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے۔ پاکستان کا سیاسی نظام اگرچہ اصلاحات کے ایجنڈا پر قائم ہے مگر اس میں اول تو اصلاحات کے ایجنڈے کو ترجیح نہیں دی جاتی۔ لیکن اگر کہیں اصلاحات کا عمل آگے بڑھتا ہے تو یہ مصنوعی انداز سے آگے بڑھایا جاتا ہے او ر عملدرآمد کا نظام عدم شفافیت پر مبنی ہوتا ہے۔

سیاست او رجمہوریت کی کامیابی کیے لئے انصاف کا شفافیت پر مبنی نظام ضروری ہوتا ہے۔  لوگوں کو سب سے زیادہ شکایات کا سامنا ہی انصاف کے نظام سے ہوتا ہے۔ اوپر سے لے کر نیچے تک  عدالتی  نظام میں جو خامیاں، خرابیاں یا نقائص ہیں اس نے لوگوں کا انصاف سے جڑے اداروں پر اعتماد  کم کیا ہے۔انصاف کے نظام میں تاخیر، سیاسی مداخلت، کمزور اور طاقت ور میں تفریق، تفتیش کا غیر موثر نظام، بار او ربنچ میں تنازعات یا گٹھ جوڑ جیسے مسائل کی موجودگی میں حقیقی اور شفاف انصاف کا  حصول بس ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔  ملک کے اہم مسائل پر سروے کی مدد سے ان کی رائے کو جانچنے یا سمجھنے کی کوشش کریں تو ادارہ جاتی عمل میں ہمیں انصاف کے نظام پر لوگوں کا اعتماد سب سے کم نظر آتا ہے۔

بدقسمتی سے  سیاسی قیادت جمہوریت اور سیاسی نظام کی کامیابی کے لیے اصلاحات کو بنیاد بنا کر بہت کچھ کرنے کا دعوی کرتی ہے۔ لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ان کا ایجنڈا اصلاحات سے زیادہ روائتی انداز میں پہلے سے چلنے والا نظام ہی ہوتا ہے۔ ان کو لگتا ہے کہ پہلے سے چلنے والا نظام ہی ان کی سیاسی طاقت ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ اصلاحات سے زیادہ پہلے سے موجود نظام کو بنیاد بنا کر اپنے اقتدار کو مستحکم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کا بھی بنیادی نعرہ اصلاحات کا ایجنڈا تھا۔ ان کے بقول ہم اقتدار میں آنے کے بعد پولیس، مقامی حکومت، ایف بی آر، بیوروکریسی، تعلیم، صحت جیسے معاملات پر جدید او رنئی اصلاحات لاکر نظام میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کو لائیں گے۔ لیکن تحریک انصاف کی حکومت بھی تین برسوں میں یا تو اصلاحات کے ایجنڈے پر مخلص نہیں یا پہلے سے موجود روائتی نظام اس حد تک مضبوط ہے کہ اسے توڑنا ان کی حکومت کے لیے ممکن نہیں۔

پارلیمانی نظام سیاست میں پارلیمنٹ سے اہم ادارہ ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری پارلیمانی سیاست او رپارلیمنٹ میں سب کچھ ہوتا ہے۔ اگر کچھ نہیں ہوتا تووہ حقیقی اصلاحات کا ایجنڈا یا قانون سازی نہیں ہوتی۔اگرچہ شفاف اصلاحات کا کام پارلیمنٹ نے نہیں کرنا تو پھر اس ملک کے سیاسی نظام میں پارلیمنٹ کا سیاسی بوجھ کیوں سنبھال کر رکھا گیا ہے۔  سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ کے ارکان کی خوبی یا ان کی سیاسی کمٹمنٹ اسی بات سے جڑی ہوتی ہے کہ وہ پارلیمان کو موثر بنائیں اور ملک و قوم کی توقعات کے مطابق کردار ادا کریں۔ وگرنہ دوسری صورت میں سیاست، جمہوریت، پارلیمانی نظام یا پارلیمنٹ عوام میں اپنی ساکھ کھو دیتی ہیں۔یہ کام مشکل ضرور ہے،مگر یہ کہنا کہ یہ کام ممکن نہیں درست نہیں۔ سیاسی نظام کی خوبی ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ برے سے برے حالات میں بہتری کا راستہ تلاش کرتا ہے اور لوگوں کا سیاسی نظام پر اعتماد قائم کرتا ہے۔

 عدالتی نظام میں اصلاحات یا تبدیلی کا عمل ناگزیر ہوگیا ہے۔کیونکہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے ملک کے عدالتی نظام کی اصلاح  اہم ہے۔  اگر ہم عالمی سطح پر اپنی ملکی عدالتی حیثیت کو دیکھیں تو اس کے لیے ورلڈ جسٹس رپورٹ2020 کاجا ئزہ لینا ہوگا۔ اس رپورٹ  میں پاکستان 128ممالک کی درجہ بندی میں سے 120ویں نمبر پر جبکہ ساؤتھ ایشیا میں سے ہم چھ میں سے پانچویں نمبر پر ہیں۔یہ رپورٹ او راس کے اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ ہمارا عدالتی نظام او راس کی شفافیت  عالمی درجہ بندی میں کہاں ہے۔ہمیں اس تصور کو بھی ختم کرنا ہوگا کہ یہاں نظام ہمیں محض کتابوں میں ہی سرگرم یا اچھا نظر آتا ہے اور عملی طور پر یہ نظام طاقت ور کے گرد ہی گھومتا ہے یا یہ نظام طاقت ور لوگوں کے ہاتھوں عملی طور پر یرغمال بنا ہوا ہے۔

پچھلے چند برسوں میں ہم نے عدالتی نظام میں ہونے والے  اہم فیصلوں، بار او ربنچ میں ٹکراؤ، وکلا میں تشدد کے رجحانات دیکھے ہیں۔ خاص طور پر وکلا تحریک کے بعد جو کچھ تشدد کے مناظر ہمیں عدالتی نظام میں دیکھنے کو مل رہے ہیں وہ قابل گرفت ہے۔بڑے فیصلوں میں ہم کو قانون کی حکمرانی سے زیادہ سیاسی رجحانات یا گروپ بندی  دیکھنے کو ملتی ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ آج ملک کی پالیسی سازی یا پالیسی سازوں میں جن بڑی اصلاحات کی بات بڑی شدت سے کی جارہی ہے ان میں عدالتی  اصلاحات کا عمل بھی ہے۔یہ بات درست ہے کہ عدلیہ کی خود مختاری بڑی اہمیت رکھتی ہے او راس میں بار و بنچ کے معاملات کی سب سے زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔ یہ ہی عمل اس تاثر کی بھی نفی کرے گا کہ بڑے مقدمات میں قانون سے زیادہ سیاست کو برتری ہوتی ہے۔اسی طرح دو اہم معاملات بھی زیر بحث ہیں اول ججوں کی تقرری کا نظام موثر اور شفاف ہونا چاہیے۔ موجودہ ججوں کی تقرری کے طریقہ کار پر بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں او ر لگتا ہے کہ یہ طریقہ کار شفافیت سے زیادہ پہلے سے موجودہ دھڑے بندیوں کو طاقت دیتا ہے۔ دوئم ججوں کے احتساب کا طریقہ کار بھی واضح اور ہر سطح پر شفاف ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ تاثر عدالتی نظام سے آگے بڑھنا کہ ججز یا ان کے خاندان کے افراد ہر سطح پر احتساب یا جوابدہی کے عمل سے آزاد ہیں، درست نہیں۔

ہمیں اپنی عدالتی اصلاحات میں بنیادی نقطہ کو اہمیت دینی ہوگی کہ آئین اور قانونی نظام میں شہریوں میں جو برابری کا تصور ہے اس کو ہر سطح پر مضبوط  کیا جائے او راسی بنیاد پر قانون او رانصاف کو پرکھا جائے۔اسی طرح اس نقطہ کو بھی سمجھنا ہوگا کہ ایک متحرک، فعال اور شفافیت پر مبنی عدالتی یا انصاف کا نظام  ہی ستور کے تحت جمہوریت، اچھی حکمرانی، سیکورٹی،معیشت کی ترقی اور  ادارہ جاتی عمل کو بھی مضبوط بنانے کے عمل کو  طاقت فراہم کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں محرومی کی سیاست، معاشی تفریق، امیر او رغریب میں بڑھتا ہوا فرق، ریاست اور شہریوں کے درمیان کمزور رشتے، خود سے بدلہ لینے یا انصاف کی خواہش، جرم کی دنیا میں عام آدمی کی شمولیت جیسے مسائل بھی ایک مضبوط عدلیہ اور شفاف انصاف کے نظام نہ ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔

ہمارے عدالتی نظام سے جڑی قیادت، وکلا، بار، بنچ سب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ موجودہ دور میں ہمارا عدالتی نظام لوگوں یا ریاستی توقعات کے برعکس ہے۔اسی طرح ہمارے ملک میں جو بہت زیادہ سیاسی ماحول میں عدم اعتماد یا بہت زیادہ محاذ آرائی پائی جاتی ہے اس کی وجہ سے بھی عدالتی فیصلوں پر سیاست کا عنصر منفی یا مثبت یعنی مخالفت یا حمایت کی صورت میں نظر آتا ہے۔کیا ہماری حکومت، ادارے، پارلیمنٹ، حزب اختلاف اور عدلیہ سے جڑے افراد عدالتی اصلاحات کو اپنی ترجیحات کا اہم ایجنڈا بناسکیں گے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہمارا انصاف کا نظام جو پہلے ہی اپنی ساکھ کھوچکا ہے مزید غیر اہم ہوتا جائے گا۔اس لیے عدالتی نظام کی اصلاح ہماری اہم ترجیح ہونی چاہیے۔