گود لیا ہؤا بچہ، اللہ کی رحمت اور امریکہ سے تعلقات
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 28 / مئ / 2021
- 13740
پاکستان کے مستقبل کے بارے میں اس وقت دو حوالے سے گفتگو ہورہی ہے۔ ان میں ایک امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی نوعیت ہے اور دوسرے آئیندہ انتخابات کے منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انعقاد کا معاملہ شامل ہے۔ ان دونوں معاملات میں اسٹبلشمنٹ کا کردار، ترجیحات اور سوچ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
گو کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کا معاملہ خارجہ و سیکورٹی سے متعلق ہے جبکہ کہ انتخابات کا انعقاد بنیادی طور پر الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہوگا جس کی عمومی نگرانی کا فریضہ ملکی عدلیہ کو ادا کرنا ہوگا۔ تاہم ان دونوں حوالوں سے اسٹبلشمنٹ کی طرف نگاہ جاتی ہے اور کسی جبیں پر نہ تو شکن نمودار ہوتی ہے اور نہ ہی کسی حیرت کا اظہار کیاجاتا ہے۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ سیاسی امور سے لے کر خارجہ تعلقات ترتیب دینے کے معاملات تک میں فوج نے اپنی رائے اور مرضی کو مسلط کیا ہے۔ اب یہ حالات پیدا ہوچکے ہیں کہ اگر کوئی حکومت خارجہ، سیکورٹی یا سیاسی معاملات کے بارے میں فیصلے کرنے کے لئے فوج کو ’نظر انداز‘ کرنا بھی چاہے تو بھی وہ اس کی متحمل نہیں ہوسکتی۔
اسٹریٹیجک نوعیت کے اہم خارجہ تعلقات کا تعلق خواہ بھارت یا افغانستان سے ہویا یہ امور چین اور امریکہ سے متعلق ہوں، ان میں فوج کا کردار نمایاں اور بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ یہ رول حکومت وقت کے معاون کے طور پر ادا نہیں کیا جاتا بلکہ عسکری اداروں کو اس حوالے سے حرف آخر کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔ یعنی بھارت کے بارے میں حکومت کوئی بھی فیصلہ فوج کی مرضی سے بالا ہوکر نہیں کرسکتی۔ یوں تو اس کی وجہ یہی بتائی جائے گی کہ چونکہ دونوں ملکوں میں عسکری تصادم کی صورت حال موجود رہتی ہے جس کی وجہ سے فوج کی رائے کو وزن دیے بغیر کوئی قدم اٹھانا قومی مفاد کے برعکس ہوگا۔ لیکن ملک کی جمہوری حکومت جسے عوام نے اپنے ووٹوں سے منتخب کیا ہو اور جس کے پاس آئینی طور سے خود مختاری سے تمام اہم قومی فیصلے کرنے کا مینڈیٹ موجود ہو، جب عسکری اداروں کے طے شدہ ڈھانچہ سے گریز کا حوصلہ نہ کرسکے تو یہ صورت حال ملک میں آئینی بالادستی اور جمہوری عمل کی فعالیت کے حوالے سے بنیادی سوال کے طور پر سامنے آتی ہے۔
کسی بھی حکومت کی کامیابی کی کلید فوج کے ساتھ ہم آہنگی میں ہے۔ بدقسمتی سے یہ ہم’ آہنگی ‘ دو طرفہ تعلقات میں مساوات اور بر ابری کے اصول پر استوار نہیں ہوتی بلکہ مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ منتخب حکومت فوج کی خوشنودی کو ہی اپنی کامیابی کی واحد وجہ سمجھنے اور تسلیم کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت ’ایک پیج‘ کی ڈفری بجا کر اقتدار میں آئی تھی اور ابھی تک وزیر اعظم سمیت حکومت کے تمام ارکان فوج کے ساتھ تعاون کو کامیابی کی حجت کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ میڈیا مباحث اور سیاسی تبصروں میں بھی حکومت کی طاقت اور مدت پوری کرنے کی صلاحیت کا اندازہ اسی بات سے کیا جاتا ہے کہ اس کے فوج کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا ہے۔ یا صاف الفاظ میں فوج کس حد تک اور کب تک حکومت کو برداشت کرنے پر آمادہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت کے ساتھ اپوزیشن کے تصادم کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے تان اسی بات پر ٹوٹتی ہے کہ ابھی فوج حکومت کے سر سے ہاتھ اٹھانے پر آمادہ نہیں ہے۔ حالانکہ اگر آئینی و جمہوری طریقہ کے حوالے سے غور کیا جائے تو ان نکات کو نوٹ کیا جاسکتا ہے:
1)کسی منتخب حکومت کو یہ دعویٰ کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے کہ فوج اس کے ساتھ ہے کیوں کہ ملک کے تمام اداروں کا فرض ہے کہ حکومت وقت کی اطاعت کریں اور اس کے حکم کے مطابق عمل کریں۔
2) کسی معاملہ میں حکومت عسکری اداروں سمیت متعلقہ افراد و اداروں سے رائے لے سکتی ہے لیکن فیصلہ کرتے ہوئے ضروری نہیں ہے کہ وہ فوج یا کسی کی طرف سے آنے والی رائے ماننے کی پابند ہو۔
3)فوج کےساتھ حکومتی روابط وزارت دفاع کے توسط سے استوار ہونے چاہئیں۔ بری فوج، فضائیہ یا بحریہ کو اگر کسی بھی معاملہ میں رائے دینا ہو یا حکومت تک کوئی معاملہ پہنچانا ہو تو وہ وزارت دفاع سے رابطہ کریں۔ لیکن پاکستان میں یہ طریقہ کبھی مروج نہیں رہا ۔ اب اس کے بارے میں بات کرنے والے کو مضحکہ خیز نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے کہ کیسی انہونی بات کی جارہی ہے۔
4)آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ وقفے وقفے سے وزیر اعظم سے ملاقات کرتے ہیں۔ کبھی یہ ملاقات وزیر اعظم کے دفتر میں ہوتی ہے اور کبھی ان کے گھر پر منعقد کی جاتی ہے۔ یا وزیر اعظم کو جی ایچ کیو یا آئی ایس آئی کے ہیڈ آفس میں مدعو کیا جاتا ہے اور اس ملاقات کا کوئی خوبصورت سا عذر تلاش کرلیا جاتا ہے۔ یہ ملاقاتیں وزیر اعظم اور اس کے ’نیچے‘ کام کرنے والے فوجی لیڈروں کے درمیان ہونے کا تاثر نہیں دیتیں بلکہ ان سے برابری کے منصب پر فائز افراد کی ’گپ شپ‘ کا گمان ہوتا ہے۔ شاید یہی تاثر مستحکم کرنا ان ملاقاتوں کا مقصود بھی ہوتا ہے کیوں کہ فوج رائے بنانے میں وزیر اعظم کے خیالات کو تسلیم کرنے کی پابند نہیں ہے۔ شاید وزیر اعظم بھی رائے منوانے کی بجائے اقتدار کی ضمانت ملنے پر ہی مطمئن رہتے ہیں۔
5) دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر اعظم تک جو رسائی آرمی چیف یا آئی ایس آئی کے سربراہ کو حاصل ہے، وہ سہولت فضائیہ و بحریہ کے سربراہوں کو میسر نہیں ہے اور نہ ہی جوائینٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چئیرمین کو یہ اعزاز حاصل ہوتا ہے۔ حالانکہ عہدہ کے اعتبار سے اس عہدہ پر فائز شخص بری، بحری و فضائی افواج کے سربراہوں سے سینئر ہوتا ہے۔
حکومتی انتظام کے اس طریقہ پر نگاہ ڈالنے کے بعد مختلف مناصب پر فائز شخصیات کے اختیار و حیثیت کے بارے میں رائے قائم کی جاسکتی ہے۔ یہ رائے اس وقت ملک کے سیاسی منظر نامہ میں سب سے اہم مانی جاتی ہے۔ وفاقی حکومت اس صورت حال کو اپنی حقیقی قوت قرار دینے کا جتن کرتی ہے جبکہ عسکری اداروں کو بھی یہ رائے عام ہونے اور مانے جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ بس افسوس یہ ہے کہ جمہوری و عسکری قیادت ملکی نظام و شہرت پر اس تاثر کے منفی اور تباہ کن اثرات کو سمجھنے اور پرکھنے سے قاصر ہے۔ یوں تو پاکستانی سیاست میں عسکری بالادستی کی تاریخ سات دہائیوں پر محیط ہے لیکن اس کا تازہ ترین نشان میمو گیٹ، ڈان لیکس اور پاناما پیپرز اسکینڈل میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ بدقسمتی یہ ہے کہ ملکی سیاست دانوں نےاس صورت حال کو تبدیل کرنے کے لئے باہمی اشتراک و تعان بڑھانے کی بجائے فوج کی مدد سے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ اس کا تازہ ترین ثبوت پی ڈی ایم میں پھوٹ اور سینیٹ انتخابات کی صورت میں سامنے آچکا ہے۔ یہ ایسا نوشتہ دیوار ہے جس کے ہوتے کوئی مبصر اسٹبلشمنٹ کے سیاسی کردار کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔
مستقبل کا سیاسی منظر نامہ سمجھنے کے لئے اس پس منظر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ مانا جاتا ہے کہ مقبولیت اور عوامی حمایت کے باوجود 2023 کے انتخابات میں کوئی سیاسی پارٹی اسٹبلشمنٹ کی خوشنودی کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ اگر کسی پارٹی کو مقبول ووٹ مل بھی گئے پھر بھی دریں حالات وہ حکومت سازی کے قابل نہیں ہوگی۔ انہی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے آصف زرداری کی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ صلح جوئی اور مسلم لیگ (ن) میں شہباز شریف فیکٹر کو پرکھا جاتا ہے۔ جاننے کی کوشش ہورہی ہے کہ تحریک انصاف کی ناکامی کے بعد ملکی معاشی معاملات درست کرنے اور قابل قبول حکومت کو اقتدار تک پہنچانے میں کون سے کردار اہم ہوں گے۔ اس گریڈنگ میں نواز شریف اور مریم نواز ناکام رہتے ہیں جبکہ شہباز شریف سرخرو بتائے جاتے ہیں۔ اگر وہ اپنی پارٹی کی مکمل اعانت کے ساتھ کوئی قابل عمل فارمولا فراہم نہیں کرتے تو متبادل کے طور پر جہانگیر ترین کارڈ کو آصف زرداری کی طرف سے تعاون کی خواہش کے ساتھ ملاکر کوئی ایسا حل تلاش کیاجاسکتا ہے جس میں عسکری اداروں کو للکارا نہ جائے اور ملکی انتظام کو موجودہ ہائیبرڈ نظام کی تباہ کاری سے بھی نجات دلائی جائے۔ گویا ملک میں آئیندہ انتخابات میں یہ بات اہم نہیں ہوگی کہ عوام کس پارٹی کوووٹ دے کر اقتدار تک پہنچاتے ہیں بلکہ اس بات کو وزن حاصل ہوگا کہ کون سےسیاسی عناصر عسکری اداروں کے ساتھ مل کر نظام کی ’حفاظت‘ کا مقدس فرض ادا کرسکتے ہیں۔
ملک میں موجودہ ہی نہیں بلکہ مستقبل کی حکومت کے حوالے سے بھی چونکہ یہ اصول طے کرلیا گیا ہے کہ اس میں اسٹبلشمنٹ کو چیلنج کرنے کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے، اس لئے اگر یہ انتظام کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے تو اسے ایک نئے تجربہ کی حیثیت حاصل ہوگی۔ یعنی پاکستان میں جمہوری تجربہ اور عوام کی رائے ماننے کے سوا ہر متبادل قابل عمل تصور کیا جارہا ہے۔ اس کا اشارہ گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بھی دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ’نیا عمرانی معاہدہ‘ کیا جائے تو نواز شریف اسے مان لیں گے۔ اس مشکل اصطلاح کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر اسٹبلشمنٹ تحریک انصاف کو گود لیا ہؤا بچہ سمجھنا بند کردے تو سسٹم سے مسلم لیگ (ن) کی ’بغاوت یا ووٹ کو عزت دو ‘کے نعرے کو محض سیاسی ہتھکنڈا سمجھا جائے۔ نواز شریف بھی اس انتظام پر راضی ہوں گے۔ باریک بین مبصر البتہ یہ کہتے ہیں کہ نواز شریف تو راضی ہوجائیں گے لیکن کیا فریق ثانی بھی راضی ہوگا؟
طاقت کے اس عدم تعاون سے پیدا ہونے والے خوفناک خلا میں پاک فوج کے سربراہ امریکہ کے ساتھ مراسم بڑھانے کی سرتوڑ کوشش کررہے ہیں تاکہ ملک کو ایک بار پھر کوئی ’مصنوعی‘ معاشی ریلیف مل سکے۔ پاک امریکہ تعلقات میں نیا باب صرف اسی صورت میں رقم ہوسکتا ہے اگر پاک فوج افغان طالبان کو اشرف غنی کی حکومت کے ساتھ مل کر عبوری انتظام پر آمادہ کرے اور یہ بات یقینی بنائی جائے کہ اتحادی فوجوں کے انخلا کے بعد افغان سرزمین پر خانہ جنگی کا نیا دور شروع نہیں ہو گا۔ اس کا ایک حل امریکہ کو پاکستان سے فضائی و زمینی عسکری رسائی کا ٹھوس ڈھانچہ فراہم کرنا ہے۔ بدلے میں پاکستانی خواہشات کی فہرست طویل ہے لیکن اس کا لب لباب یہ ہے کہ عالمی اداروں سے پاکستان پر دباؤ کم کرکے اسے معاشی ریلیف فراہم کرنے کا اہتمام ہو۔
اس ’لین دین‘ میں ملک کی منتخب حکومت کاکوئی کردار نہیں ہے۔ یہی پاکستانی جمہوریت کی حقیقت ہے۔ وزیر اعظم لنگر خانے کھول کر ریاست پاکستان پر اللہ کی رحمت کے نزول کا انتظار کرسکتے ہیں۔ اگر یہ ’رحمت‘ براستہ امریکہ موصول ہوتی ہے تو فوج کو اس کا کریڈٹ وزیر اعظم کو دینے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔