حامد میر کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر تنقید

  • ہفتہ 29 / مئ / 2021
  • 6890

سینئیر صحافی حامد میر نے ریاستی اداروں کو متنبہ کیا ہے کہ آئندہ کسی صحافی پر  تشدد نہیں ہونا چاہیے ورنہ وہ گھر کی باتیں بتانے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے صحافی اور یوٹیوب ولاگر اسد طور پر چند روز قبل نامعلوم افراد کے تشدد کے خلاف مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔

صحافی اسد طور کے ساتھ  کے شدد کا اقعہ منگل کی رات پیش آیا تھا۔ تین نامعلوم افراد ان کے فلیٹ میں زبردستی داخل ہوئے اور ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انہیں زد و کوب کیا اور پھر بعد میں باآسانی فرار ہو گئے۔ اسد علی طور نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا ہے کہ ان پر تشدد کر نے والے افراد پستول سے مسلح تھے اور انہوں نے اسد علی طور کو پستول کے بٹ اور پائپ سے مارا پیٹا۔ یاد رہے کہ اسد طور پر ہونے والے حملے کی ابھی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور حکومتی عہدیداروں کی جانب سے اس واقعے کی مذمت کی گئی ہے۔

صحافی اسد طور کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی مذمت اور ان سے اظہار یکجہتی کے لیے جمعے کو اسلام آباد پریس کلب کے باہر سول سوسائٹی اور صحافیوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی جس دوران تقاریر اور نعرے بھی بلند کیے گئے۔  حامد میر نے اپنی تقریر میں اسد طور پر ہونے والے حملے کے بارے میں کہا کہ ایک ایسے گھر میں گھس کر حملہ کیا گیا جہاں اسد طور کی مدد کے لیے کوئی موجود نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ 'اتنے بہادر ہو تو سینہ تان کر کہو کہ میں اس کے گھر میں گھسا ہوں۔ لیکن تم اتنے بزدل ہو کہ تم یہ تو نہیں مان رہے کہ میں ان کے گھر میں گھسے تھے۔  تم کہتے ہو، اوہو، وہ کوئی لڑکی کا بھائی تھا جس نے مارا ہے۔ یاد رہے کہ اسد طور پر حملے کے بعد سوشل میڈیا پر ایسی افواہیں گردش کرنے لگی تھیں جس میں کہا گیا کہ اسد طور کو کسی ذاتی معاملے کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

حامد میر نے کہا کہ دشمن سمجھتا ہے کہ میرا پتا نہیں چلے گا، میں نامعلوم ہوں۔ حامد میر نے کہا کہ اسد طور پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ سیاسی پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ تو وطن میں ہی موجود ہیں۔ حامد میر نے ملٹری اسٹیبلشمینٹ کو کئی دوسرے معاملوں میں بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اپنی تقریر کے آخر میں حامد میر نے متنبہ کیا کہ اب اگر صحافیوں کے ساتھ اس قسم کا برتاؤ کیا گیا اور ان پر گھروں میں گھس کر تشدد کیا گیا تو 'گھر کے اندر کی باتیں آپ کو بتائیں گے‘۔

حامد میر کی تقریر سے قبل منیزے جہانگیر نے بھی اپنی تقریر میں اسی طرح سخت لہجہ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ آج کے بعد صحافیوں پر اس طرح گھروں میں گھس کر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔