امریکہ انخلا کے بعد کابل میں ترک فوجی دستوں کی تعیناتی چاہتا ہے: برطانوی اخبار کا دعوی

  • ہفتہ 29 / مئ / 2021
  • 5500

برطانوی اخبار ’دی سن‘ نے خبر دی ہے کہ امریکہ انخلا کے بعد بھی کابل کی اہم تنصیبات پر بین الاقوامی دستے تعنیات رکھنا چاہتا ہے تاکہ  طالبان کو دارالحکومت پر قبضے سے روکا جا سکے۔

’ دی سن‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی خواہش ہے کہ ترک بٹالین کابل شہر میں ہوائی اڈے کی حفاظت کرے اور چھ سو میرینز تعینات کیے جائیں جو امریکی سفارتخانے کی حفاظت کریں۔ برطانوی فوجی بھی اس کام میں مدد کر سکتے ہیں۔ امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے گیارہ ستمبر تک افغانستان سے مکمل انخلا کا وعدہ کر رکھا ہے۔

اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کابل کا ہوائی اڈہ اہم تنصیب ہے۔ اس کے بغیر افغانستان میں حفاظت سے داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اگر اس پر کنٹرول نہ رہے تو کابل کی صورتحال ابتر ہو جائے گی۔ خبر کے مطابق برطانوی وزیر دفاع بین والس نے پارلیمنٹ کو اس حوالے سے بتایا ہے کہ وہ مختلف راستوں پر غور کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں ایسے تمام آپشنز تلاش کروں گا کہ جس سے ملک (افغانستان) کے اندر سے یا باہر سے افغان فورسز کی مدد جاری رکھی جا سکے۔ یہ بیان اس کے بعد سامنے آیا ہے جب برطانیہ کے جنرل سر نک کارٹر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر نیٹو کے تمام نو ہزار فوجی نکل آئے تو افغانستان کو خانہ جنگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

افغانستان میں اس وقت امریکہ کے دو ہزار پانچ سو، برطانیہ کے سات سو پچاس اور ترکی کے چھ سو فوجی موجود ہیں۔  اخبار کے مطابق ایک ترک فوجی ذریعے نے کہا ہے کہ ترک نہیں چاہتے کہ وہ اپنے طور پر ایسا کریں۔ سوال اس میں یہ ہے کہ کون ان کی مدد کرے گا۔ ترک فوجی ذریعے نے اس بات کی تصدیق ان الفاظ میں کی ہے کہ ’اگر افغان چاہیں کہ ہم افغانستان میں موجود رہیں تو ہم وہاں رہیں گے‘۔

دوسری طرف افغانستان میں طالبان کے زور پکڑتے حملوں کی وجہ سے ہزاروں افغان خاندان گھر بار چھوڑ کر دوسری جگہوں پر منتقل ہو رہے ہیں۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور نیٹو افواج نے یکم مئی سے افغانستان سے انخلا کا عمل شروع کر دیا ہے۔