ٹھنڈی اور گرم پھونکیں؟

ہماری قومی سیاسی گاڑی اِس وقت کسی حد تک نئے اور دلچسپ فیز میں داخل ہو چکی ہے۔ بالخصوص چھوٹے بھائی کی جیل یاترا سے واپسی کے بعد دو سوچوں کا ٹکراؤ واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے اگرچہ یہ ٹکراؤ نیا نہیں ہے مگر موجودہ مخصوص حالات میں اس کی اثر افرینی کو سمجھا جانا چاہئے۔

اس امر میں کوئی اشتباہ نہیں ہے کہ اِس وقت ن پہلے سے بھی زیادہ پاپولیریٹی کے ساتھ ابھری ہے۔ کسی بھی جماعت کی مقبولیت ماپنے کا بہترین پیمانہ یہ ہوتا ہے کہ اُس کے ٹکٹ کی مارکیٹ ویلیو کا جائزہ لے لیا جائے کہ زیادہ سے زیادہ الیکٹ ایبل کس کے ٹکٹ کی خواہش رکھتے ہیں۔ پنجاب جو تنہا آدھا پاکستان ہے یہاں حکمران پارٹی کی قیادت انتہائی کمزور ہے یہاں جن حالات میں حکومت سازی ہوئی تھی اور اس کیلئے جو پاپڑ بیلنے پڑے تھے، یہ خود پاپڑوں والے بخوبی جانتے ہیں۔ شوگر والے نے خود یامخصوص اشاروں پر اپنے پتے جس خوبصورتی سے کھیلے ہیں اس صورتحال نے رہتا سہتا بھرم بھی نکال باہر پھینکا ہے ۔سینیٹ الیکشن میں ووٹ کیلئے جب اس نوع کے تقاضے کئے جا رہے تھے کہ ووٹ حاضر ہے بشرطیکہ ہمارے لئے فلاں کا ٹکٹ کنفرم کر دیا جائے اس تناظر میں صورتحال کو بہتر سمجھا جا سکتا ہے۔

آگے بڑھنے سے قبل یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ اس پاپولیریٹی کی بنیاد بہرحال لندن کا وہ بیانیہ ہے جو شروع میں تو بہت سے لوگوں کو خوفناک دکھتا تھا۔ جب وہ نام لے لے کر بھگو بھگو کر مار رہا تھا تو یہ بڑے دل گردے کی بات تھی مگر آج سب کو نظر آ رہا ہے کہ اس بولڈ بیانیے نے نہ صرف یہ کہ ان کی انتخابی معرکہ آرائی کو قائم و دائم رکھا ہے بلکہ بدلے ہوئے حالات میں اسے ایک نیا اعتماد اور نئی توانائی بخشی ہے ۔جس کا سہرا صرف لیڈر کو نہیں اس کی نڈر بیٹی کو بھی جاتا ہے ۔ دوسری طرف وفادار بھائی ہے جو شروع دن سے مصلحت اور مصالحت کی سیاست کرتا چلا آ رہا ہے اور موجودہ حالات میں بھی یہ چاہتا ہے کہ سیاسی کشتی کو منجھدار سے نکالنے کیلئے طاقتور حلقوں کے ساتھ کمپرومائز کرتے ہوئے آگے بڑھا جائے۔ بظاہر یہ اختلاف افتراق کا باعث دکھتا ہے لیکن باریکی سے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اینڈ پر جاکر یہ باعث برکت ثابت ہو سکتا ہے۔اس اختلاف رائے سے کشتی میں ایک نوع کا توازن رہتا ہے اور وہ یکطرفہ طور پر ایک شدت پر پہنچنے یا کارنر ہونے سے بچ جاتی ہے ۔

اس دوسری اپروچ پر اصولی دلائل کے ساتھ بلاشبہ شدید ترین تنقید کی جا سکتی ہے۔ بہت سے اصول پسند کہہ سکتے ہیں کہ وہ بیانیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے سامنے کھڑےہونے کے بلند بانگ دعوے کہاں گئے ؟ اگر اس آستانہ عالیہ پر سجدہ ریز ہو کر اقتدار کے سنگھاسن پر جلوہ افروز ہونا تھا تو پھر اتنے اونچے آدرشوں کے ساتھ سہانے سپنے دکھانے کی ضرورت کیا تھی ؟ جب پاپولیریٹی کی بنیاد انقلابی بیانیہ ہے تو پھر اس سے انحراف کے معنی یہ ہوئے کہ پاپولیریٹی کی ہنڈیا بھی بیچ چوراہے کے پھوڑ دی جائے ۔ذرا ٹھہریئے اس صورتحال کو پاکستان کے معروضی حالات اور زمینی حقائق کی روشنی میں پرکھیئے۔ یہاں عوامی خواہشات یا عوامی مقبولیت کو کون دیکھتا ہے ؟ آپ کے قائد کا جمہوری بیانیہ کیا 2018 کے الیکشن میں مقبول نہیں تھا ؟ لیکن جو اس ملک کے اصل کرتا دھرتا ہیں، انہوں نے کیا درگت بنائی اس عوامی مقبولیت کی ؟

کون کہہ سکتا ہے حیلوں بہانوں سے وہی تاریخ پھر نہیں دہرائی جا سکتی ؟ مانا کہ من مانی کرنے والوں کیلئے اب کے حالات خاصے گنجلک اور سخت ہو چکے ہیں پھر بھی بھڑوں کے جھتے میں ہاتھ ڈالنا اتنا آسان نہ ہو گا۔ لہٰذا کیا بہتر نہ ہو گا کہ اپنے کچھ مطالبات منواتے ہوئے مصلحت و مصالحت کی شہبازی راہ اپنا لی جائے تاکہ نہ صرف اناڑیوں اور بڑھک بازوں سے جان چھوٹے بلکہ آنے والے ماہ و سال میں اصل بیانیئے کیلئے بھی راستہ کشادہ ہو سکے ۔ قیادت اور کارکن آخر کب تک آزمائشوں کی بھٹی میں جلتے رہیں ۔

نہیں ہرگز نہیں ہم نے جتنی بھٹیوں میں جلنا تھا جل چکے، ہمارے خلاف نفرت انگیز جھوٹے پروپیگنڈے کے طوفان اٹھائے گئے ذلت آمیز جعلی مقدمات بنواۓ گئے۔ ہمارے لیڈر کو جان سے مار ڈالنے کا پورا بندوبست کیا گیا لیکن قیادت سے لے کر کارکنان تک کسی کے قدم نہیں ڈگمگائے۔ قومی یا صوبائی چھوڑ، یونین کونسل کا کوئی ممبر تک نہیں ٹوٹا قیادت سے نہیں روٹھا، ایسے حوصلے، جذبے اور ولولے کے ہوتے ہوئے ہم کیوں مصالحتی گھٹنے ٹیکنے لگے ۔ الحمدللہ رحمت ایزدی سے میں خونخوار شکنجوں سے نکل کر بہت دور اور محفوظ مقام پر آچکا ہوں۔ اب ہمارا سمجھوتہ صرف ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ ہم آنے والے الیکشن میں شب خون نہیں مارنے دیں گے۔ میرا بھائی مصلحت یا مصالحت کی باتیں کرتا ہے ضرور کرے ایک گھر میں دونوں بھائیوں کو ایک جیسی کڑوی باتیں کرنی بھی نہیں چاہئیں۔ حکمت اور دانائی کا تقاضا ہے کہ اگر بڑا سخت اور اصولی مطالبات کے ساتھ انقلابی طوفان اٹھائے تو دوسرا اسے نرم بناتے ہوئے بیچ بچاؤ کی راہیں نکالنے والا بھی ہو، جو حرارت کو ایک خاص حد سے آگے بڑھنے نہ دے۔ اس سے بڑی حماقت کیا ہو سکتی ہے کہ دونوں ہی گرم مصالحہ بیچنے لگیں۔ کوئی تو ہو جو شیرینی کھلاتے ہوئے کڑواہٹ کو دور کرے۔

ہمیں اقتدار کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ اقتدار تو پکے ہوئے پھل کی طرح ازخود ہماری جھولی میں گرنے والا ہے ہم تو صدق دل سے نہ صرف یہ کہ شب خون مارنے والوں کو عوامی نظروں میں گرانا چاہتے ہیں بلکہ کٹھ پتلیوں اور اناڑیوں کی اصلیت بھی قوم پر واضح کروانا اپنا فرض عین سمجھتے ہیں تاکہ اتمام حجت ہو جائے نا اہلی و مکاری کی اصلیت جاننے میں جن کو مشکل پیش آ ر ہی ہے ان کی مشکل کشائی اور ذہنی صفائی ہو جائے۔ اور کوئی نوسرباز کل کلاں دوبارہ اٹھ کر عوامی ہجوم کو بہکانے کے قابل نہ رہے۔ لہٰذا ٹھنڈی اور گرم پھونکیں حسب ضرورت مارنی پڑیں گی۔جو اصل سیاسی حریف ہیں وہ بھی سوچ لیں کہ انہوں نے اپنی قائد کے حقیقی وارث بننا ہے یا طاقتوروں کی بیساکھیاں۔ایک پیج کا ڈھول پیٹنے والا کٹھ پتلی اگر اس قدر گر کر بھی سوائے ذلت کے کچھ حاصل نہیں کر پایا ہے تو آپ لوگ اس سے نیچے کہاں تک جائیں گے۔

بھاری بھاری کے نعرے لگانے سے کوئی بھاری نہیں ہو جاتا۔ پنجاب سے یوں فارغ ہو کر تم لوگوں نے وہ زنجیر خود توڑ دی ہے جس کے نعرے لگاتے نہیں تھکتے تھے ۔اب جو بچے ہیں تیر سنبھال لو اور تائب ہو کر مولانا کی کمین گاہ میں آجاؤ۔ طاقت کی اصلیت جاننے کیلئے کیا ابھی کچھ اور شہادتیں پیش کرنی ہیں تم لوگوں نے۔ شہادتوں جلاوطنیوں اور کرپشن کرپشن کا گھناؤنا کھیل اب اختتام پزیر ہونا چاہیے۔