رنگ روڈ اسکینڈل پر حیرت کیسی!
- تحریر خالد محمود رسول
- ہفتہ 29 / مئ / 2021
- 5320
راولپنڈی رنگ روڈ اسیکنڈل انکوائری کے انکشافات حیران کن تھے۔ یہ الگ بات کہ جن پر الزامات لگے انہوں نے فرداٌ فرداٌ ان الزامات کی تردید کرکے دامن جھاڑ دیا۔ زلفی بخاری مستعفی ہو گئے کہ بقول ان کے بعد میں یہ الزام نہ لگے کہ وہ حکومت میں رہتے ہوئے تحقیقات پر اثرانداز ہوئے۔
اس انکوائری رپورٹ کی بنیاد پر وزیر اعظم نے مزید تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ رنگ روڈ اور ماس ٹرانزٹ انفرا اسٹرکچر کسی بھی بڑے شہر کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمیں پیرس جانے کا موقع ملا، وہاں دو تین رنگ روڈز دیکھیں۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ پہلی رنگ روڈ بنانی پڑی تاکہ شہر کی ٹریفک کا دباؤ کم ہو سکے، شہر پھیلا تو کچھ عرصے بعد دوسری رنگ روڈ بنانی پڑی۔ یہی تجربہ بیجنگ اور جنوبی کوریا کے شہر سئیول میں بھی ہوا۔ ویت نام کے شہر ہوچی من شہر میں نوے کی دہائی کے اوائل میں جانے کا موقع ملا تو روڈ افرااسٹرکچر انتہائی فرسودہ اور غربت کی تصویر تھا۔ سڑکوں پر سب سے زیادہ تعداد ہونڈا پچاس سی سی اور ٹرائی سائیکلز کی تھی، گاڑیوں کی تعداد خال خال تھی۔ 2000 کے بعد کایا پلٹی تو ویت نام نے د یکھتے دیکھتے مشرق بعید میں نئے مینوفیکچرنگ جنکشن کا اسٹیٹس حاصل کرلیا۔ اب اسی ہوچی من شہر میں سڑکوں کا ایک وسیع جال ہے جس میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔ گاڑیوں اور ٹرانسپورٹ گاڑیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ انڈر گراؤنڈ ریلوے کا جال بھی بن چکا اور پھیل بھی رہا ہے۔
بہترین انفرا اسٹرکچر دنیا میں کامیاب اور قابل ترجیح شہروں کی پہچان ہے۔ ایسا نہیں کہ ان ممالک میں ایسے میگا پروجیکٹس میں کرپشن اور سیاست نہیں ہوتی، ضرور ہوتی ہے۔ فرانس، چین، جنوبی کوریا اور ویت نام میں بہت اسکینڈلز سامنے آئے، احتساب کا عمل بھی جاری رہا مگر انفرا اسٹرکچر پر کام کبھی رکا نہیں۔ اور ایسا بھی نہیں ہوا کہ ترقیاتی بجٹ کا سارا زور انفرا اسٹرکچر منصوبوں پر ہی رہا۔
پاکستان اس اعتبار سے منفرد ملک ہے جہاں سیاست اور حکومتی ڈویلپمنٹ کا سارا زور پچھلے تیس چالیس سالوں سے سڑکوں، انڈر پاسز، پلوں اور انفرااسٹرکچر منصوبوں پر ہی رہا ہے۔ صوبائی حکومتوں کا ڈویلپمنٹ بجٹ کا بیشتر حصہ اسی کام کے لئے مختص ہے، ممبران اسمبلی اپنے حلقے کے لیے ترقیاتی فنڈز کے لئے کیا کیا پاپڑ نہیں بیلتے، حکومت سے ناراض یا اپوزیشن کے ارکان کو رام کرنے کے لئے بھی ترقیاتی اخراجات ہی نسخہ کیمیاہے۔ قومی اسمبلی ارکان جن کا بنیادی کام وفاقی قانون سازی ہے، وفاقی بجٹ میں ان کے لئے بھی ترقیاتی بجٹ کا خاصا بڑا حصہ مختص ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے کہ سیاست اور حکومتِ وقت کا سب سے زیادہ زور ایسے ترقیاتی منصوبوں پر رہتا ہے جن پر کروڑوں اربوں خرچ ہوتے ہیں؟
حکومت سے ترقیاتی فنڈز حاصل کرنے کی سی پھرتی اور حساسیت کبھی تعلیم، صحت، ریسرچ، ٹیکنالوجی اور ووکیشنل ٹریننگ کی کوالٹی اور گورننس کے بارے میں دیکھی نہ سنی۔ پاکستان کی کوئی بھی یونی ورسٹی دنیا اور ایشیا کی رینکنگ میں پہلے ایک سو میں شامل نہیں۔ پہلے پانچ سو میں شاید دو ایک یونی ورسٹیاں شامل ہیں، تعلیم اور ٹیکنالوجی کی اس پسماندگی پر ممبران اسمبلی کو کبھی پریشان دیکھا نہ سنا۔ غضب خدا کا دنیا میں آبادی کے اعتبار سے چھٹا سب سے بڑا ملک مگر تعلیم کی رینکنگ میں اس قدر پسماندگی، مگر مجال ہے کسی ممبر اسمبلی کو یاد رہا ہو کہ اسکولوں، کالجوں اور یونی ورسٹیوں کا نصاب وقت کے ساتھ دنیا کے ساتھ اپ ڈیٹ کیوں نہیں ہوتا؟
نام کی حد تک درجنوں ریسرچ ادارے ہیں مگر کاٹن، گنا، گندم سمیت ہر فصل کی پیداوار میں جمود طاری ہے۔ کاٹن کا گہوارہ ملک اس سال بمشکل 56 لاکھ گانٹھیں پیدا کرسکا، دو ارب ڈالرز سے زائد کاٹن انڈسٹری کی ضرورت کے لئے اس سال امپورٹ کی جائے گی۔ کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں۔۔ممبران اسمبلی مگر ان مسائل کے بارے میں کبھی پریشان ہوئے نہ اسمبلی میں چیخے چنگھاڑے، کیوں؟ ایک بنیادی وجہ گزشتہ 35 سالوں سے تشکیل پا جانے والا سیاسی نظام ہے جس میں کامیابی کے لئے بے شمار دولت کا عمل دخل کلیدی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ الیکشن اور پارٹیاں پیسے کے بغیر ممکن نہیں۔ اس پر مستزاد یہ سب دولت کیش کی صورت گردش میں رہتی ہے، دینے والے بے نام،خرچ کرنے والا بھی بے نام۔ الیکشن گوشواروں کا پیٹ لگے بندھے اخراجات کے مطابق بھر دیا جاتا ہے، سب نظر آتا ہے مگر سلیمانی ٹوپی پہن کر چھپ بھی جاتا ہے۔
پاکستان کی حلقہ سیاست میں سڑکوں اور تعمیراتی انفرااسٹرکچر کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے حلقے میں مرضی کے مطابق انتظامی افسران کی پوسٹنگ ٹرانسفرز بھی سیاسی استحقاق کا جزوِ لاینفک بن گیا ہے۔ یہ عملاٌ حکومتی اختیارات پر باالواسطہ کنٹرول حاصل کرنے کے مترادف اور اپنے سپورٹرز کے مفادات کی سہولت کاری کا بندوبست ہے۔ حالانکہ ریاست کا روایتی مقامی، صوبائی اور وفاقی حکومتی ڈھانچہ ان ہی کاموں کے لئے بنا ہے مگر اب اس پر سیاسی تصرف نے ہر سطح پر گورننس کا حشر نشر کر دیا ہے۔
تین چار عشرے قبل اس کھوج میں کہ قدرتی وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود نائیجیریا غریب ملک کیوں ہے اور اس کی گورننس کیوں کر اشرافیہ کے ہاتھوں یرغمال ہے؟ اس سیاسی عمل کی وضاحت کے لئے معروف پولیٹیکل ماہر رچرڈ اے جوزف نے ایک نئی ترکیب متعارف کروائی یعنی
Prebendalism۔
اس کا سادہ مطلب ایک ایسا سیاسی نظام ہے جس میں سیاست دان، سیاسی ورکرز اور ان کے بہی خواہ حکومتی افسران ریاستی وسائل میں حصہ وصول کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اس حق سے وہ خود، ان کے حواری، متلعقین، ان کی برادری یا قبیلے کے لوگ فائدے اٹھاتے ہیں اور اس سیاسی نظام پر اپنے تسلط اور تصرف کو برقرار رکھنے کے لئے ہر حربہ اختیار کرتے ہیں۔ رنگ روڈ راولپنڈی اسکینڈل پر وقتی طور پر شاید کچھ لوگوں کو حیرت ہوئی ہو لیکن سیاسی دشنام طرازی اور وقتی شور و شغب سے قطع نظر ہماری سیاست پر سڑکیں، پلاٹس اور انڈر پاسز جیسے ترقیاتی منصوبوں سے جڑے مالی فوائد ایک منظم انداز میں عرصے سے حاوی ہو چکے ہیں، اس میں اب حیرت کیسی؟