افتخار بھٹہ: ایک سچا اور غریب دوست مبصر
- تحریر پروفسر ڈاکٹر سعادت سعید
- ہفتہ 29 / مئ / 2021
- 4750
افتخار بھٹہ صاحب اپنی آزاد خیال ترقی پسند سوچ کی بدولت صحافتی دنیا میں اپنی الگ پہچان بنا چکے ہیں۔ ان کی کتاب ’’میرے فکری سفر کے پچاس سال‘‘ ان کے ان جائزوں پر مشتمل ہے جو انہوں نے زندگی اور سماج کو نئے زاویوں سے دیکھنے کے حوالے سے رقم کیے ہیں۔
دانشورانہ جائزوں اور تجزیوں پر مشتمل نصف صدی کا یہ قصہ پاکستان کی مدنیت، سیاست، ثقافت اور مختلف ادوار میں بننے والی اخلاقیات کے مختلف سانچوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ افتخار بھٹہ صاحب نے ایک سچے پاکستانی کی حیثیت سے اپنی تاریخی، علمی، تحقیقی اور فکری جستجو کے مختلف سلاسل کو اپنے صحافیانہ مضامین کی زینت اس طور بنایا ہے کہ یہ قارئین کے لیے رہنمائی کا کام کر رہے ہیں۔ ان کے مشاہدوں ، مطالعوں، جائزوں پر مشتمل شفاف دانشوری ان کے فکری سفر کا ناقابل فراموش اثاثہ ہے۔ بطور صحافی افتخار بھٹہ صاحب کی دیانت دارانہ اپج سے ان کے کالموں کا مطالعہ کرنے والا ہر قاری واقف ہے۔ انہوں نے اپنی عملی اور فکری جدو جہدکی روشنی میں پاکستان کی سیاست و ثقافت کے مختلف ادوار کی قلمی تجسیم کرنے کا کام بہ طریق احسن کیا ہے۔
افتخار بھٹہ صاحب نے اپنی تاریخی فکر ، طبقاتی شعور اور سائنسی و منطقی اپروچ کو اپنی تحریروں میں یوں جگہ دی ہے کہ یہ ان کی تحصیل شدہ مبصرانہ صداقتوں کی امین بن چکی ہیں۔ افتخار بھٹہ صاحب نے اپنی فکر کی عمارت جس آزاد خیال اپروچ کی بنیادوں پر استوار کی ہے اس میں کٹھ ملائیت، سرکاری مذہب پرستی، نظریہ ضرورت دوستی کے رنگ کہیں بھی نظر نہیں آتے۔ اس لحاظ سے ان کا شمار ان چند صحافیوں اور دانشوروں میں ہوتا ہے کہ جنہوں نے اپنے قلم سے قومی زندگی کے ترقی پسند پہلوئوں کو اجاگر کرتے رہنے میں اپنی بقا کا سامان مہیا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو قلمی خراج تحسین پیش کرنے والے بلند پایہ صحافیوں اور دانشوروں نے ان کی ترقی پسندانہ فکر کی کھل کر تائید کی ہے۔
کون نہیں جانتا کہ پاکستانی سیاست ، ثقافت اور معیشت کے سلسلے ایک تواتر سے جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور مفاد پرست سیاست دانوںکی منشا و مرضی کے تابع رہے ہیں اور اسی لیے ان میں سامراجی آمریت کے متعدد پہلوئوں کو رواج ملتا رہا ہے۔ نیم جمہوری حکومتیں ہوں یا فوجی آمریتیں مقتدر طبقوں نے عوام کو مغلوب و محکوم بنانے کے لیے ہر نوع کے شعور کش حربے استعمال کیے۔ افتخار بھٹہ صاحب نے جا بجا ان حربوں کے نتیجے میں سامنے آنے والی ملک دشمنی اورعوامی استحصال پر گہری نظر رکھی اور یوں نظریہ پاکستان، اسلام اور جمہوریت کی روشنی میںقارئین کی بڑی تعداد کو اپنی حقیقی معاملہ فہمی سے مستفید کیا ہے۔ یہ معاملہ فہمی علامہ اقبال اور قائد اعظم کے ارشادات سے استفادے کا نتیجہ ہے۔ افتخار بھٹہ صاحب کا مذہبی نقطہ نظر اس لحاظ سے صائب ہے کہ اس کے نتیجے میں ہر نوع کے عوامی استحصال کی فکری سطح پر حد بندی ہوئی ہے۔ انہیں حبیب جالب کی تقلید میں اسلام نہیں زر دار خطرے میں نظر آتے ہیں۔
پاکستان کے عصری نظام سیاست کے جائزے نے انہیں اس امر سے آگاہ کیا ہے کہ اہل اقتدار ہمیشہ سے ہی لوٹ مار پر اتارو رہے ہیں۔ قومی خزانے کو انہوں نے ذاتی سمجھ کر بے دریغ استعمال کیا اور یوں اپنی پالیسیوں کی بدولت عوام کو غربت کے گہرے گڑھے میں دھکیل دیا۔ اسی طرح ان کی نظر بین الاقوامی سامراج پر اس انداز سے رہی کہ ان کے مظلوم اور پسماندہ علاقوں پر فوج کشیاں اور قبضے انہیں ناجائز اور جابرانہ نظر آئے۔اس حوالے سے ویت نام سے لے کر عراق تک، کشمیر سے لے کر افغانستان تک اور فلسطین سے لے کر پسماندہ افریقی ممالک تک ہونے والی نسل کشیوں کے خلاف ان کا قلم حق و صداقت کی آواز بلند کرتا رہا اور وقت کے فراعین کو آئینے دکھاتا رہا۔
افتخار بھٹہ صاحب نے اپنی زندگی کے پچاس سالوں کی کاوشوں کو قارئین کے سامنے لا کر پاکستانی قوم کے فکری اور ثقافتی مستقبل کے جہت نمائی کا کام کیا ہے۔ وہ آزادی رائے کی روشنی میں پاکستان کے ہر فرد کے حقوق کی نگہ داری پر اپنے کالموں اور مضمونوں میں انتہائی مستعدی سے اپنی آرا رقم کر رہے ہیں۔ ان سے ہونے والی میری ملاقاتیں ہمیشہ بار آور ثابت ہوئی ہیں۔ میں نے ان کے خیالات و افکار کو پاکستان کے مظلوم اور بے بس عوام کے حق میں بلند ہونے والی اہم آواز کے بطور سراہا ہے۔