حکومت طویل المعیاد معاشی پالیسی بنا رہی ہے: وزیر خزانہ
- اتوار 30 / مئ / 2021
- 4960
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے معاشی حکمت عملی سے متعلق کہا ہے کہ ہم ترکی کی طرح معاشی ترقی کے خواہاں ہیں جس نے طویل المعیاد معاشی پالیسی کی بدولت کامیابی حاصل کی۔
اسلام آباد میں ملک کے آنے والے بجٹ سے متعلق منعقدہ ویبینار سے خطاب کے دوران وزیر خزانہ نے کہا کہ 60 کی دہائی کے علاوہ ہمارے پاس کبھی پائیدار معاشی پالیسی نہیں رہی۔ جب سے میں نے قلمدان سنبھالا تو چند ماہر معاشیات کو شامل کیا جبکہ ایک اکنامکس ایڈوائزری کونسل موجود ہے۔ میں نے ایڈوائزری کونسل کو حکومت کے ساتھ مل کر 12 شعبہ جات میں کام کرنے کا کہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس طویل المعیاد اور مختصر المعیاد پالیسیاں ہیں، اتنے وسائل نہیں کہ تمام شعبہ جات میں ایک ساتھ کام کریں۔ 60 کی دہائی میں پاورفل پلاننگ کمیشن تھا اور اسے حکومت کی ماں کا درجہ حاصل تھا لیکن بعد میں آنے والی حکومتوں نے کمیشن کو غیر مؤثر کردیا۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے بجٹ میں زرعی شعبے میں غیرمعمولی مراعات دیں گے۔
وزیر خزانہ نے برآمد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے برآمد ناگزیر ہے اور اس ضمن میں اہم اقدامات لیے جائیں گے۔ 'ہم شبعہ سروسز میں مراعات دیں گے اور ای کامرس کو ڈیجیٹائزیشن کے ذریعے مزید پائیدار بنائیں گے'۔ ہماری ساری توجہ شرح نمو میں بہتری پر مرکوز ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے معیشت کے لیے بڑے فیصلے کیے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) پروگرام بہت مشکل تھا، جب مہنگائی 7 فیصد تھی تب ڈسکاؤنٹ ریٹ 13.25 فیصد بڑھا دیا گیا۔ اس مد میں قومی خزانے کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی ہوئی اور بجلی کے ٹیرف میں غیرمعمولی اضافہ کیا گیا تاکہ گردشی قرضے کم کیے جا سکیں۔ گروتھ ریٹ تنزلی کا شکار ہوا اور اس کے بعد کووڈ 19 کی وبا شروع ہوئی تو شرح نمو منفی ہوگئی۔
اس دوران حکومت نے احساس پروگرام کے تحت مستحق افراد میں نقد رقم تقیسم کی۔ حکومت نے شعبہ تعمیرات کو اہمیت دی اور اس طرح اس شعبے سے منسلک 40 سے زائد صنعتوں میں معاشی سرگرمیاں بحال رہیں۔ اس طرح معیشت تھوڑی بحال ہونے لگی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اپنی جگہ رک گیا اور حالیہ برس میں یہ سرپلس میں ہے لیکن اکنامک گروتھ منفی رہی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس وصول کرنے والے ادارے نے رواں مالی سال کے 11 ماہ میں 41 کھرب 43 ارب روپے اکھٹا کیا جو تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔