کشمیریوں کے خون پر بھارت سے تجارت نہیں ہوسکتی: وزیر اعظم
- اتوار 30 / مئ / 2021
- 4470
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کشمیریوں کے خون پر بھارت سے تجارت نہیں ہوسکتی۔ 'آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ' میں عوام کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ ہر مشکل کے بعد آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ مشکل وقت میں اللہ چاہتا ہے کہ ہم صبر کریں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت جو کامیابی ملی ہے اس پر مجھے خوشی ہے کیونکہ کوئی یہ امید لگا کر نہیں بیٹھا تھا کہ تقریباً 4 فیصد گروتھ ہوگی بلکہ کئی ماہر سمجھتے ہیں کہ ساڑھے 4 فیصد یا اس سے بھی اوپر جاسکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جو ہم سوچ رہے تھے اور خاص کر ہمارے مخالف جو سوچ رہے تھے اس سے زیادہ تیزی سے ہم اوپر گئے، اس کی کئی وجوہات ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ لوگوں کی سب سے زیادہ دو مشکلیں مہنگائی اور بے روزگاری ہے۔ گروتھ ریٹ بڑھنے سے معیشت کا پہیہ چلنا شروع ہوگا۔ اللہ ہمیں بڑے مشکل وقت اور امتحان سے گزارا ہے اور اب انشااللہ اس ملک کو مزید آگے بڑھتے دیکھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ہاؤسنگ سوسائیٹیز کا پتہ لگانے لئے ایک بورڈ بنایا ہے۔ تاکہ پتہ چلے کہ کون سی قانونی اور کون سی غیرقانونی ہیں۔ غیرقانونی سوسائیٹیز کو بند کردیں گے۔ 'سپریم کورٹ کے سابق جسٹس عظمت کی زیر سرپرستی میں کمیٹی صورت حال کا جائزہ لے رہی ہے۔
خارجہ امور پر سوال کے وزیراعظم نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر بھارت سے ہمارے تعلقات اچھے ہوں تو ہمارے پاس دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ ہوگی۔ بھارت ایک ارب سے زائد آبادی کے ساتھ بڑی مارکیٹ ہے۔ اگر ہم اس وقت بھارت سے تعلقات معمول پر لاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے ہم کشمیر کے لوگوں سے بہت بڑی غداری کریں گے۔ لہٰذا یہ نہیں ہوسکتا۔ ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
فلسطین کا مسئلہ بھی کشمیر کی طرح ہے۔ وہاں بھی ان کی زمینوں پر قبضہ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اتنا ظلم کریں گے کہ وہ چپ کرکے غلام بن جائیں گے، سب کو پتہ ہے یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔ دنیا میں پہلی دفعہ شعور آیا ہے کہ فلسطین میں لوگوں پر ظلم ہورہا ہے۔
وزیراعظم نے ایک سوال پر کہا کہ سارے پاکستان میں پانی کا مسئلہ ہے۔ پاکستان میں 10 ڈیم بنا رہے ہیں جو شروع ہوچکے ہیں جو اگلے دس سال تک مکمل ہوں گے۔ ہمیں پانی کے ذخائر بہت پہلے بنانے چاہیے تھے کیونکہ جیسے آبادی بڑھتی اور گلوبل وارمنگ کی وجہ سے پانی میں بھی کمی آرہی ہے تو صوبوں کے حصے کے پانی میں بھی کمی آرہی ہے۔
راولپنڈی رنگ روڈ کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ پنڈی کو رنگ روڈ کی اشد ضرورت ہے۔ یہ اچھا منصوبہ ہے کیونکہ پنڈی سے باہر بہت ٹریفک جاتی ہے۔ ہم پنڈی کے اندر نالہ لئی کے اندر ایک بزنس ڈسٹرکٹ بنانا چاہتے ہیں یعنی یہ پنڈی کی ری جنریشن ہے۔ اس کے لیے بھی ضروری ہے رنگ روڈ بنے۔ اس معاملہ میں بے قاعدگی پر اینٹی کرپشن کی ٹیم کام کر رہی ہے اور دو ہفتے کے اندر انکوائری کارزلٹ آئے گا پھر اہم ایکشن لیں گے۔
ایک خاتون کی شکایت کی کہ ہسپتالوں میں صحت کارڈ تسلیم نہیں کیے جاتے۔ خاتون کے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب میں لوگوں کو ابھی اس کی عادت نہیں پڑی ہے اس لیے مسئلے ہیں۔ لوگوں کو نہیں معلوم کہ صحت کارڈ کتنی بڑی نعمت ہے۔ صحت کارڈ صرف ایک کارڈ نہیں بلکہ صحت کا نظام ہے کیونکہ حکومت کے پاس کبھی اتنا پیسہ نہیں آئے گا کہ ملک بھر میں ہسپتالوں کا جال بچھائے۔ اس لیے نجی ہسپتالوں کی ضرورت ہے اور سارے غریب لوگوں کے پاس کارڈ ہوگا اور وہ کسی بھی ہسپتال سے علاج کروا سکتے ہیں۔
شرح نمو کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اب تک 4 ہزار 143 ارب روپے کا ٹیکس وصول ہوا ہے۔ جو بڑی پیش قدمی ہے۔