حامد میر کو جیو نیوز کے ٹاک شو سے ہٹا دیا گیا

  • سوموار 31 / مئ / 2021
  • 8410

پاکستان کے نجی ٹی وی چینل 'جیو نیوز' سے وابستہ صحافی اور اینکر حامد میر کو ہفتے میں پانچ روز نشر ہونے والے پروگرام کیپٹل ٹاک کی میزبانی سے آف ایئر کر دیا گیا ہے۔

اسلام آباد نیشنل پریس کلب کے صدر شکیل انجم کے علاوہ جنگ گروپ سے وابستہ ایک سینئر کارکن نے بھی حامد میر پر اس پابندی کی تصدیق کی ہے۔  پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے حامد میر کو آف ایئر کرنے کی مذمت کی ہے۔ وزیرِ مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب کا کہنا ہے کہ حامد میر کو آف ایئر کرنے کے لیے حکومت نے کوئی دباؤ نہیں ڈالا۔

ذرائع کے مطابق ٹاک شو کی میزبانی اب حامد میر کی جگہ اسی گروپ سے منسلک کوئی اور اینکر کریں گے۔ حامد میر نے بھی ان پر عائد پابندی کی تصدیق کی ہے۔ پریس کلب کے صدر شکیل انجم کے مطابق ان کا حامد میر سے رابطہ ہوا ہے اور حامد میر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہیں اپنے پروگرام سے ہٹا دیا گیا ہے۔

حامد میر نے جمعے کو صحافی اسد طور پر حملے کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی تھی اور اس موقع پر انہوں نے تقریر کرتے ہوئے بعض ریاستی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ صحافی اسد علی طور نے اپنے اوپر ہونے والے حملے کی ذمے داری خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر عائد کی تھی۔ تاہم ہفتے کی شب وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں آئی ایس آئی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ایجنسی کو بدنام کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔

حامد میر کے بقول "صحافی بہت سی باتیں اس وجہ سے نہیں کر پاتے کہ اسٹیبلشمنٹ میڈیا مالکان پر دباؤ ڈالتی ہے جس کی وجہ سے کئی صحافی بے روزگار ہو جاتے ہیں۔" حامد میر نے کہا  تھا کہ "اب اگر آپ ہمارے گھر میں گھس کر ماریں گے تو ہم آپ کے گھر میں تو نہیں گھس سکتے آپ کے پاس ٹینکیں اور بندوقیں ہیں۔ لیکن ہم آپ کے گھر کے اندر کی باتیں آپ کو بتائیں گے اور یہ بھی بتائیں گے کہ کس کی بیوی نے کس کو کیوں گولی ماری اور اس کے یپچھے کون جنرل رانی تھی۔"

حامد میر کی حالیہ تقریر کے بعد سوشل میڈیا پر یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ اس کا ردِ عمل ضرور آئے گا۔ ان کے اس بیان پر گزشتہ تین روز سے ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ 'حامد میر' ٹاپ ٹرینڈ کر رہا ہے اور ان کے حامی و مخالفین اس بارے میں اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

اس بارے میں اب تک 'جنگ و جیو گروپ' کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ البتہ حامد میر پر پابندی سے متعلق صحافی عاصمہ شیرازی کی جانب سے پیر کو کی جانے والی ایک ٹوئٹ پر حامد میر نے کہا کہ ان کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں بھی دو مرتبہ ان پر پابندی لگائی گئی تھی۔ وہ دو مرتبہ ملازمت کھو چکے ہیں اور قاتلانہ حملے میں بھی بچے ہیں لیکن یہ تمام کوششیں انہیں آئینی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے سے نہیں روک سکتیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس مرتبہ کسی بھی قسم کے نتائج بھگتنے کو تیار ہیں اور وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ حامد میر نے کہا کہ ان کے اہلِ خانہ کو دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ تاہم انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ انہیں کون دھمکیاں دے رہا ہے۔

حامد میر کو آف ائیر کیے جانے کے بارے میں نیشنل پریس کلب کے صدر شکیل انجم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ صحافی اس بارے میں پیر کی شام سات بجے ایک اجلاس بلا رہے ہیں۔ اجلاس کا ایجنڈا پہلے اینکر طلعت حسین سے متعلق وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کے بیانات تھے لیکن اب اس میں حامد میر کے بارے میں بھی بات کی جائے گی اور رات آٹھ بجے اگر حامد میر پروگرام میں نہ ہوئے تو اس کے بعد کوئی حتمی لائحہ عمل بنایا جائے گا اور احتجاج کیا جائے گا۔

جنگ گروپ کے ایک سینئر کارکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حامد میر کو فی الحال آف ایئر کیا گیا ہے لیکن وہ بدستور گروپ کا حصہ رہیں گے۔ ان کے بقول پروگرام 'کیپٹل ٹاک' کسی اور اینکر کے ذریعے جاری رہے گا اور حالات بہتر ہونے پر حامد میر ہی اس پروگرام کو دوبارہ کریں گے۔

یاد رہے کہ حامد میر پر دوسری بار یہ پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس سے قبل سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں ان کے پروگرام پر پابندی عائد کی گئی تھی جس کے بعد صحافی محمد مالک کئی ماہ تک ان کا پروگرام کرتے رہے تھے۔ بعد ازاں حکومت کے ساتھ معاملات بہتر ہونے پر حامد میر دوبارہ یہ پروگرام کرنے لگے تھے۔

حامد میر پر اپریل 2014 میں اس وقت قاتلانہ حملہ ہوا تھا جب وہ کراچی ایئر پورٹ سے اپنے کراچی کے دفتر جا رہے تھے۔ نامعلوم ملزمان نے انہیں چھ گولیاں ماریں جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے تھے۔ حامد میر کے بھائی عامر میر نے حملے کا الزام پاکستان کے خفیہ ادارے انٹر سروس انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے اُس وقت کے سربراہ جنرل ظہیر الاسلام پر عائد کیا تھا۔

جیو نیوز نے بھی یہ الزام بارہا نشر کیا تاہم کچھ عرصے کے بعد اپنی معمول کی ٹرانسمیشن میں اس الزام پر معافی بھی مانگی تھی۔ حامد میر کا پروگرام جب ماضی میں بند کیا گیا تو وہ اسلام آباد کی مختلف سڑکوں پر سیاست دانوں اور صحافیوں کے ساتھ پروگرام کرتے رہے تھے۔

حالیہ عرصے کے دوران پاکستان میں صحافیوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ پریس فریڈم انڈیکس نے گزشتہ برس پاکستان کی تین درجہ تنزلی کرتے ہوئے اسے 145 ویں نمبر پر کر دیا تھا۔ فریڈیم نیٹ ورک کے مطابق اسلام آباد اس وقت صحافیوں کے لیے خطرناک ترین شہر بن چکا ہے۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے جمعے کی شام برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے پروگرام 'ہارڈ ٹاک' کو ایک انٹرویو کے دوران صحافیوں پر حملوں کے حوالے سے کہا تھا کہ مغربی میڈیا میں ہر بات کا الزام 'آئی ایس آئی' پر عائد کر دینا فیشن بن چکا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ صحافیوں پر زیادہ تر حملوں کی وجہ امیگریشن وجوہات ہیں۔ ان کے بقول صحافی ان حملوں کو جواز بنا کر بیرونِ ملک اچھے مستقبل کے لیے جانا چاہتے ہیں۔

صحافتی تنظیموں نے فواد چوہدری کے اس بیان کی مذمت کی ہے۔