سیاستوں بس کریں او یار
- تحریر افتخار بھٹہ
- سوموار 31 / مئ / 2021
- 6130
پاکستان ڈیمو کریٹ مو ومنٹ کا قیام اور ٹوٹ پھوٹ ہم غیر نظریاتی اور مفاداتی انا پر ستی پر مبنی سیاست کی آیئنہ دار جہاں پر مہنگائی اور بے روزگاری سے پسے عوام کیلئے کوئی امید نہیں ہے۔
حکو متی معاشی اشاریوں کے مطا بق معیشت درست سمت کی طرف بڑھ رہی ہے کیونکہ کاروباری حضرات منا فعُ خوری و ذخیرہ اندوزی کے ذریعہ جی بھر کر لوگوں کو لوٹ رہے ہیں۔ حکومت مختلف مافیاز کا نام لیتے نہیں تھکتی ہے۔انکوائری کمیشن بناتی ہے مگر ہر ایکشن کا الٹا ری ایکشن نکلتا ہے۔ بیرونی ممالک سے آنے والی ترسیلات معیشت کو سہارا دئیے ہوئے ہیں۔ زرمبادلہ میں اضافے اور سرپلس کرنٹ اکاؤنٹ تذکرہ کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں ہم مختلف ممالک اور عالمی اداروں سے مستعار ڈالر لے کرزرمبادلہ کے ذخائر اکٹھے کئے ہیں جبکہ سعودی عرب سے موخر ادائیگی پر تیل مل رہاہے۔
اس ساری صور تحال میں معیشت کی بہتری صرف امیر طبقات کی دولت میں اضافہ کر رہی ہے وہی حکومت کی پالیسیوں سے مطئمن ہیں۔ سٹاک مارکیٹ میں چھ سو کمپنیاں اور خاندان سٹے بازی کررہے ہیں۔ جی ڈی پی کی بڑھوتی سے عوام کا کیا لینا دیناہے۔ ان کو تو آٹے گھی گیس بجلی اور پٹرول کے نرخوں سے غرض ہے۔ بات کہا ں سے شروع ہوئی کہاں نکل گئی۔ معیشت کو سمجھنا ایک مشکل کام ہے۔ اب ہم اس کٹھن معاشی صور تحال میں سیاست کی طرف آتے ہیں کیو نکہ جمہوریت ملکی قیادت سیاستدانوں ہی سنبھالنی ہے۔
پی ٹی آئی حکو مت کرپشن میں خاتمے کے نعروں پر برسر اقتدار آئی، اس کے پاس معاشی سیاسی اور سماجی سدھار کا کوئی روڈ میپ نہیں ہے۔ یہی صورتحال مسلم لیگ کی ہے کیونکہ اس کو بھی ماضی میں نظر یہ ضرورت کے تحت کاروباری اور علاقائی اجارہ داریوں کے ذریعہ تشکیل دیاگیا۔ اس کے حامی طبقات کبھی انقلابی نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کا کاروبار ہی مقتدرہ طبقات اور ریاست کی مددسے چلتاہے۔ نواز شریف کی اداروں کی مخالفت کو بیانیہ نہیں بلکہ رائے کہا جاسکتا ہے۔ بیانیہ لینن، مازوے تنگ اور ذوالفقار علی بھٹو کا تھا جس کے پیچھے نظر یہ اور تحریک تھی۔ یوں بھی مسلم لیگ ن مزاحمت اور مفاہمت کی دونوں راہیں اختیار کئے ہوئے ہے۔ اصل مقصد حصول اقتدار کیلئے ان دو راہیوں کے درمیان سے مقتدرہ سے قرب حاصل کرنا ہے۔
دیکھا جائے تو نوازشریف خاندان لندن کاروبار کررہا ہے اپنی سیاسی دکانداری چلانے کیلئے مریم نواز کوپاکستان چھوڑ رکھاہے جو نواز شریف کی ہدایت پر بے نظیر بھٹو کی طرح انقلابی بننا چاہتی ہے۔یادرہے ماضی میں نواز شریف کس بھٹو کی مخالفت میں غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے آگے لایا گیاجنرل ضیاء سے سب سے زیادہ مالی اور سیاسی مفادات شریف خاندان نے حاصل کئے پھرمشرف سے معاہدہ کرکے سعودی عرب چلے گئے۔ اب اپنے عا لمی اور مقامی سرپرستوں کی مددسے لندن سے ریاستی اداروں کے خلاف بیانات دہے رہے یہی انداز ان کی بیٹی اہنائے ہوئے ہے۔ پی ڈی ایم سے پیپلز پارٹی اور اے این پی کو نکال کر اب استعفوں کے معا ملات کہاں گئے۔
ضمنی انتخابا ت میں بھی حصہ لیا اب پارلیمانی کردار اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کو پی ڈی ایم سے بالا بالا حکومت کی مخالفت میں ساتھ ل ے کر چلنے کا کہا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی ابھی جئے بھٹو کا نعرہ لگاتی ہے ان کا اس کا لیڈر کون ہے کیونکہ اس وقت نواز شریف، مریم نوازاو شہباز شریف بیک وقت مسلم لیگ کے کارکنوں کو مختلف نعر ے دے رہے ہیں۔ بالآخر مسلم لیگی سو چیں گے کس کاساتھ دینا ہے۔ د یکھتے ہیں شریف خاندان کی سیاست کیا کروٹ لیتی ہے۔
آخر میں ذکر کچھ پیپلز پار ٹی کا وہ انتخاب کے بائیکاٹ اور استعفوں کے خلاف تھی ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کا فائیدہ اپوزشن کو ہؤا جبکہ پی ٹی آئی کوشکست ہو ئی۔ پی پی پی اپنی سیاسی فہم و فراست کا اور کیا ثبوت مہیا کرے؟ اس کی سندھ میں حکومت نے پنجاب اور پختون خواہ اور پنجاب کی نسبت صحت وتعلیمی اور ترقیاتی شعبوں میں زیادہ کام کئے ہیں۔ جنوبی پنجاب سرحد اور بلوچستان سے زیادہ کام کئے ہیں۔ وزیراعلی سندھ مرادعلی شاہ دیگر صوبوں کے وزرائے اعلی سے زیادہ سوجھ بوجھ رکھتے ہیں یہ الگ بات ہے ان کا تذکرہ میڈیا پرنہیں ہوتا ہے۔ اگلے الیلشن سندھ کے شہری علاقوں سے پیپلزپارٹی ہی جیتے گی کیونکیہ ایم کیو ایم کے ایک رہنما کے بقول لوگو ں کو اس پارٹی کوووٹ دینے چاہئیں جو لوگوں کے مسائل حل کر سکے۔
شہباز شریف مزاحمت اور مفاہمت کے درمیان عملی بیانیہ نکالنے میں کامیاب ہوجائیں گے بہر صورت مریم اور نواز شریف سیاسی حقیقت ہیں جنہں نظر انداز نہیں کیا جا سکتاہے۔ پی ڈی ایم کی تحریک سندھ میں پی پی کے تعاون کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔