مفاہمت یا مزاحمت؟

ن لیگ میں مفاہمت یا مزاحمت پر مبنی سیاسی بیانیوں کا سلسلہ کوئی نئی بات نہیں لیکن ضمانت پر حالیہ رہائی کے بعد پارٹی صدر شہبازشریف کی جانب سے تسلسل کے ساتھ مفاہمتی بیانیے کی گردان سے سیاسی پنڈت آنے والے عام انتخابات میں ن لیگ کی انتخابی مہم میں مفاہمتی بیانیے کو غالب آتا دیکھ رہے ہیں۔

اگرچہ ن لیگ پنجاب کے حلقوں میں ہونے والے زیادہ تر ضمنی انتخابات نواز شریف کے مزاحمتی بیانیے کی گونج میں جیتتی چلی آ رہی ہے تاہم سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق مزاحمتی بیانیے پر کاربند رہتے ہوئے عام انتخابات میں فیصلہ کن برتری حاصل کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔ عام انتخابات میں ہمارے ہاں مقتدرہ کی حمایت کے بغیر جیتناجوئے شیر لانے سے کم نہیں ہوتااور یہ بات نواز شریف اور مریم نواز سے کہیں زیادہ شہباز شریف اچھی طرح سمجھتے ہیں۔شہباز شریف سمجھتے ہیں کہ اگر2018کے انتخابات سے پہلے نواز شریف اینٹی اسٹبلشمنٹ بیانیے کا اتنی شدت سے پرچار نہ کرتے تو کم از کم پنجاب میں ن لیگ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آسکتی تھی۔سیاسی حلقوں میں ہونے والی چہ مگوئیاں بتاتی ہیں کہ بہت جلدشہباز شریف،نواز شریف کو اپنے مفاہمانہ بیانیے پر قائل کر لیں گے۔اس حوالے سے ہمیں چند روز قبل شہباز شریف کا  "قومی مفا د کے لیے نواز شریف کے پاؤں پکڑنے والا بیان"بھی ذہن میں رکھنا چاہیے۔

واضح رہے کہ شہباز شریف نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ہم ایک ری کنسیلیشن اور نیا معاہدہ عمرانی کریں، فری اینڈ فیئر الیکشن ہوں اور تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں، عدلیہ آزاد ہو،آئین اور قانون کی حکمرانی ہواور تمام ایشوز پر مشاورتی عمل ہو تو تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر روڑ میپ طے کر سکتے ہیں اور اس کے لیے نواز شریف تیار ہوں گے۔غالب امکان یہی ہے کہ عدالت سے ریلیف ملنے کے بعد شہباز شریف لندن جائیں گے جہاں بڑے بھائی کوپارٹی مفاد میں مزاحمتی بیانیہ ترک کرنے پر راضی کرنے کی بھر پور کوشش کریں گے۔شہباز شریف کی کوششوں کے باثمر ہونے کی صورت میں ضروری نہیں کہ نواز شریف یا مریم نواز فوری طور پر مزاحمتی بیانیے سے مراجعت اختیار کرتے ہوئے مفاہمتی بیانیے کی مالا جپنا شروع کر دیں تاہم ان کے روایتی مزاحمتی بیانیے کی شدت میں بتدریج کمی کا مشاہدہ عین ممکن ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ نواز شریف کو قائل کرنے کے لئے شہباز شریف کو ایک سے زیادہ بار کوششیں کرنی پڑیں تاہم ایک بات واضح ہے کہ اس بارشہباز شریف آخری حدوں تک جانے سے گریز نہیں کریں گے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ شہباز شریف شروع سے ہی نواز شریف کو مقتدرہ سے کسی بھی قسم کی محاز آرائی سے بچتے ہوئے مفاہمانہ سیاست پر عمل پیرا ہونے کا مشورہ دیتے آئے ہیں تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں نواز شریف نے شہباز شریف کے ایسے مشوروں کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔اگرچہ صحیح  معنوں میں نواز شریف کی مزاحمتی سیاست طیارہ سازش کیس میں جلا وطنی کی سزاکے بعد سامنے آتی ہے تاہم جاننے والے جانتے ہیں کہ اپنے پہلے دونوں ادوار میں بھی سیاست میں مداخلت پر مقتدرہ سے ان کی ٹھیک ٹھاک ان بن رہی۔تیسرے دور میں مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کی کوششیں اور ڈان لیکس جیسے واقعے کے بعد ان کا انجام نوشتہ دیوار تھا۔ سیاسی طور پر نااہل قرار دیئے جانے کے بعد تو نواز شریف نے یہ سوچ کر ساری کشتیاں جلا ڈالیں کہ اب ان کے پاس کھونے کو کچھ باقی نہیں تھا۔نواز شریف کے برعکس شہباز شریف کا خٰیال ہے کہ اس ملک میں کوئی بھی سیاستدان مقتدرہ کی مخالفت مول لے کر کامیاب سیاست نہیں کر سکتا۔

 شہبازشریف مقتدرہ سے الجھے بغیر ملکی وعوامی سطح پر ڈلیور کرنے کے حق میں ہیں جب کہ نواز شریف کے خیال میں سیاسی وانتخابی نظام میں مقتدرہ کی مداخلت کو یقینی بنائے بغیرملک کو آگے کی سمت میں لے جانا بہت مشکل ہے۔مریم نواز کے خیا ل میں مقتدرہ سے مفاہمت کے لیے سیاسی جماعتوں کی جانب سے مزاحمت ناگزیر ہے۔ایسے ہی خیالات نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کے ہیں لیکن افہام وتفہیم کی سیاست پر یقین رکھنے والے شہباز شریف یہ سارے معاملات مفاہمت و مشاورت سے طے کرنے پر زور دیتے ہیں۔شہباز شریف سمجھتے ہیں کہ اگر نواز شریف اور مریم نواز مزید مزاحمتی بیانیے پر کاربند رہے تومقتدرہ پہلے سے مفاہمت پر تیار پیپلز پارٹی سے معاملات طے کر لے گی جس کا نتیجہ پارٹی کے بندگلی میں جانے کی صورت میں برآمد ہوگا۔

شہباز شریف کی مفاہمت پر مبنی سیاست کوئی نئی چیز نہیں لیکن موجودہ حالات ماضی کے مقابلے میں بہت مختلف ہیں۔سب سے بڑا فرق تو نواز شریف کی سیاست سے نااہلی اور وطن سے دوری ہے۔نواز شریف کی نااہلی کے نتیجے میں پہلے پارٹی صدر اور بعد ازاں اپوزیشن لیڈر بننے کی صورت میں ان کی پارٹی پوزیشن مستحکم اور اختیارات میں اضافہ ہوا۔اگرچہ تین سالوں سے احتساب کی چکی میں پسنے کی وجہ سے وہ پارٹی معاملات میں اپنی پوزیشن اور اختیارات کا صیح استعمال نہیں کر سکے تاہم ضمانت پر حالیہ رہائی کے بعد وہ پارٹی کے ساتھ ساتھ ملکی سطح پر اہم کردارادا کرنے کی پوزیشن میں آ چکے ہیں۔ایک طرف پی ڈی ایم میں پیپلز پارٹی اور اے این پی کی واپسی سمیت ملکی معاملات میں ان کا مفاہمانہ و مصالحت پسندانہ کرداراہمیت رکھتا ہے تو دوسری طرف پارٹی کو بند گلی میں جانے سے بچانے کے لیے ان کا مفاہمت پر مبنی سیاسی کردار ناگزیرہو چکا۔

سیاسی پنڈتوں کے خیال میں مشکل سے مشکل حالات اور بدترین مواقع پر مفاہمت اور مصالحت کی کھڑکیاں کھلی رکھنے والے شہباز شریف اس موقع پر بھی کچھ ایسا کمال دکھا سکتے ہیں جو آئندہ انتخابات میں ن لیگ کو پنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی برسراقتدار لے آئے۔شہباز شریف کی مفاہمت پرمبنی پالیسی کارگر رہنے کا سب سے زیادہ نقصان پیپلز پارٹی کو پہنچے گا جو نواز شریف اور مریم نواز کے مزاحمتی بیانیے اور غیر لچک دار رویے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آنے والے مقتدرہ سے مفاہمت پر ذہنی طورتیار ہو چکی ہے۔پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ مقتدرہ سے بگاڑ کر مرکز میں حکومت بنانا بہت مشکل ہے تاہم وہ یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہی کہ مقتدرہ زرداری صاحب کے مقابلے میں شہباز شریف کی مفاہمانہ سیاست کو زیادہ ترجیح دے سکتی ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ وزیراعظم عمران خان بھی شہباز شریف کو نواز شریف اور جہانگیر ترین سمیت کسی بھی سیاسی حریف سے زیادہ خطرناک سمجھتے ہیں۔

سیاسی پنڈتوں کے نزدیک اگر پیپلز پارٹی پی ڈی ایم سے جڑی رہ کر پی ڈی ایم کے اغراض ومقاصد کے مطابق جدوجہد جاری رکھتی تو نواز شریف کے کہنے پر ن لیگ آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کے وزیراعظم کی حمایت کر سکتی تھی لیکن بدلے حالات میں شہباز شریف وزیراعظم بننے کے خواب کی تکمیل کے لیے بڑے بھائی کے پاؤں پڑنے سمیت کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔