غریب عوام کا دوزخ

سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قد م آباد

ہم نے پاکستان کو مملکتِ خدادا قرار دیا۔ ایسی مملکت جو خُداداد ہو،  ساری مخلوق کے لیے ہوتی ہے کسی ایک  مذہبی سیاسی  فرقے کے لیے نہیں۔  لیکن ہم نے اسے برِ صغیر میں مسلم لیگی فرقے کی مسجد بنا ڈالا اور  پھر یہ مسلم لیگیں ضرب کھاتی گئیں، مسلم لیگ سے مسلم لیگ نکلتی چلی گئی اور جب مسلم لیگوں کی کثراتِ تعداد کو دیکھو  تو ان میں سے بیشتر کا جنم  جی ایچ کیو کے میٹرنٹی ہوم میں ہوا ہے۔

 اس قسم کی پہلی مسلم لیگ  فیلڈ مارشل ایوب خان کی  دستِ مبارک سے وجود میں آنے والی کنویینشن مسلم لیگ تھی اور کنوینشن کا نام پہلے سے موجود مسلم لیگ پر کونسل مسلم لیگ کا ٹھپہ لگا کر اُسے  مردود قرار دے دیا گیا۔  بہتر سالوں میں درجن بھر مسلم لیگیں بنیں اور  ان میں سے حرفِ غلط کی طرح مٹ گئیں جن میں سے  چند ایک آج بھی موجود ہیں۔ جیسے حضرت ضیا الحق کی  مسلم لیگ جو اب نون کہلاتی ہے، حضرت  جنرل سید مشرف کی لیک جو اب قاف لیگ کہلاتی ہے ،شیخ رشید کی ننھی منی عوامی مسلم لیگ جس کا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے مگر وہ شیخ رشید  کے دم قدم سے لال حویلی سمیت ہر عہد میں زندہ رہتی ہے۔ یہ وہ مسلم لیگ ہے جو سکوٹر کے پچھلی نشست پر آرام سے سماجاتی ہے۔ بڑی کفایت شعار ہے یہ مسلم لیگ۔جب نواز زادہ نصراللہ زندہ تھے تو اُن کا وجود بھی ایک چلتی پھرتی مسلم لیگ تھا جس میں اُن کا حقہ بھی شامل تھا۔  اس کے بعد جنرل مشرف نے آل پاکستان مسلم لیگ کی بنیاد رکھی مگر وہ بھی  ایک سیاسی مذاق بن کر رہ گئی  کہ اُس کا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے۔

 یہ مسلم لیگیں در اصل کاروبار قسم کی سیاسی جماعتیں تھیں اور ہیں جن کا واحد مقصد اقتدار حاصل کر کے ملک کی دولت کو  ٹھکانے لگانا اور اُسے غریب عوام کی دسترس سے دور رکھنا ہے۔  ان مسلم لیگوں کی سیاست میں  بڑی وضع داری تھی جو ایک بیماری تھی مگر ذوالفقار علی بھٹو کو ایوب خان کی کنوینشن لیگ پسند نہ آئی تو  ایوب خان کی کابینہ سے بطور وزیر خارجہ استعفیٰ دے دیا اور پی پی پی کی بنیاد ڈالی جس کی سزا اُنہیں عدالتی قتل کی صورت میں ملی ۔  اب  ایک دوسری جماعت ہے جو اصغر خان کی تحریکِ استقلال کی طرز پر  تحریک انصاف بن کر آئی اور مسلم لیگوں کے رنگ میں بھنگ ڈال کر کرکٹ میچ کی طرز پر سیاست میچ کھیل رہی ہے اور اللہ نہ  کرے،  میرے مونہہ میں خاک کہ  کہیں اس کا انجام بھی  بھٹو کی پارٹی والا نہ ہو  کہ مائینس بھٹو  پیپلز پارٹی لوگوں کو  روٹی، کپڑا اور مکان نہیں دے سکی،  نہ بے نظیر کے دورِ اقتدار میں نہ صدر آصف علی زرداری کے  دورِ صدارت میں نہ  یوسف گیلانی کی وزارت عظمیٰ کے زمانے میں اور نہ ہی  اُن کے بعد  کے ایک مہاراجہ  کی وزارتِ عظمیٰ کے زمانے میں جنہیں زرداری  صاحب نے  قلمدانِ وزارتِ عظمیٰ دلوایا تھا۔ 

سیاسی جماعتوں کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو کسی کے دورِ اقتدار میں عوام کا  بھلا نہیں ہوا۔ اگر بھلا ہوا تو سیاستدانوں کا جنہوں نے خیر سے  ملکی سیاست کو کاروبار بنا کر رکھ دیا ہے اور پورا ملک مافیا کی طرز پر چلایا جاتا ہے۔ قبضہ مافیا کی پشت پناہی کی جاتی ہے،  سینیٹ کی سیٹیں کروڑوں میں بکتی ہیں،  قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان عیاشانہ مراعات اور  تنخواہوں کے علاوہ ترقیاتی فنڈ کے نام پر  قوم کا لہو پیتے ہیں مگر ملک کے عام آدمی کے مندے دیہاڑے اور بُرے حالات ہی رہتے ہیں ۔ عزیزم بلاول بھٹو سے کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ جب تین بار برسرِ اقتدار رہ کر پیپلز پارٹی  روٹی کپڑا اور مکان کا وعدہ پورا نہیں کر پائی تو کیا آنے والی  بائیسویں صدی میں کر پائے گی؟ ہاں البتہ پارٹی لیڈروں، قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے اراکین کی ہمیشہ پانچوں  انگلیاں گھی میں اور سر جنت کی حوروں کی گود میں رہا ہے۔

ہم مسلمانوں  کو اس قسم کے وعدوں سے ایک قول یاد آتا ہے جو ادارہ ء رسالت  ﷺ سے منسوب ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا  جا تا  مگر ہمیں تو سیاسی جماعتوں کے سانپوں نے بار بار ڈسا ہے اور ہم  بار بار اُن کے زہر سے مر کر بھی اُن کی جے بولتے رہے ہیں ۔ پاکستان زندہ باد، مسلم لیگ زندہ باد۔   نعرے ہم غریبوں کے لیے سیاسی جماعتوں کے وہ کھلونے ہیں  جن سے کھیلتے کھیلتے ہم بوڑھے ہوگئے ہیں اور ہم میں سے بہت سے قبر میں پاؤں لٹکائے جنت میں روٹی، کپڑے اور مکان کا خواب دیکھ رہے ہیں۔مگر یہ سب کچھ اُنہی کی قسمت میں ہے جو  سیاسی سیاست کھیلتے ہیں۔ سیاست  تو سیاست اب مروجہ مذہب بھی  ملکی سیاست کا ایک اہم ستون ہے حالانکہ مسلمان ملک میں خاص طور پر  مذہبی سیاسی جماعتیں بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ساری جماعتیں مسلمانوں کی ہیں، مسلمان ہی اُن کے سربراہ ہیں اور مسلمان ہی اُن کو چلاتے ہیں تو پھر الگ سے جماعتِ اسلامی اور جمعیت العلماء، پاکستان عوامی تحریک  اور تحریکِ لبیک جیسی مذہبی سیاسی   جماعتوں کا الگ  وجود کیا معنی رکھتا ہے۔ 

ہیں تو سبھی ایک ہی سیاسی تھیلی کے  چٹے بٹے مگر بات کاروباری صلاحیتوں کی ہے۔ مولانا ڈاکٹر طاہر القادری تو سیاست کی سانپ سیڑھی کھیلتے کینیڈا واصل ہو گئے اور اب نہ عوامی تحریک عملی سیاست میں ہے نہ شیخ الاسلام۔  لیکن اس کے باوجود تحریک کا زمین و آسمان میں ڈنکا بج رہا ہے اور  منہاج  القرآن کا  باغ پھل لارہا ہے۔ اسے کہتے ہیں ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور نگ بھی چوکھا آئے۔ سیاسی جلسوں  کی سیاست گئی بھاڑ میں، قادری صاحب کا طوطی تو چار دانگِ عالم میں بول رہا ہے اور سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ 

مذہبی پیروں کی دعا و برکت سے  پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا بھی کروڑوں میں کھیل رہا ہے۔ چاپلوسی، خوشامد اور کاسہ لیسی کے ہتھیاروں نے  بہت سے صحافیوں کے وارے نیارے کردیے ہیں، اور ایسے گنتی کے چند ہی رہ گئے ہیں جو والقلم وما یسطرون کے راستے پر گامزن ہیں اور اُن کا ہونا سماجی ضرورت ہوتا ہے اور اگر وہ نہ ہو تے  تو میڈیا کا جہاز جہالت کے پانیوں میں جانے کب کا ڈو ب چکا ہوتا ۔صحافی بنیادی طور پر غیر جانبدار ہوتا ہے۔ وہ  کسی سیاسی جماعت کا رکن ہوتے ہوئے بھی اپنے پیشے  کی حرمت اور قلم کی آبرو کا نگران ہوتا ہے۔  وہ اپنے قلم کو کوٹھے پر بٹھا کر اُسے پیشہ نہیں کراتا۔ لیکن صحافت کی ہیرا منڈی میں ایسے  غیرت مند صحافی انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں ورنہ میڈیا کی صنعت شوقیہ فن کاروں اور نوآموزوں سے بھری پڑی ہے جن کو ڈھنگ سے عبارت لکھنی اور اپنے موقف کا اظہار کرنا بھی نہیں آتا۔ ایسے میں بے چارے عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ 

کاروبارِ سیاست ایک بہت مشکل شعبہ ہے جس میں  لوگوں کو اپنی آف شور کمپنیوں، سوئس بنکوں کے اثاثوں  اور یورپ، امریکہ اور دوبئی میں اپنی سرمایہ کاری کے معاملات کو دیکھنا ہوتا، اپنے چاردانگِ عالم میں پھیلے ہوئے کاروبار کی نگرانی کرنی ہوتی ہے، اس کاروبار کو مزید پھیلانا ہوتا ہے، ایسے میں بے چارے عوام کی حیثیت پرِ کاہ سے زیادہ نہیں ہوتی ۔ عوام کے نام پر فلاح کے جو منصوبے بنائے جاتے ہیں اُس کا فائدہ حاصل کرنے والوں میں سیاسی خانوادوں،  سول اور فوجی افسروں  کے علاوہ اُن کے منظورِ نظر لوگ پیش پیش ہوتے ہیں۔ اور رہے غریب عوام تو اُن کا کیا ہے۔ اُن کے لیے بے روزگاری، اُن کے بچوں کے لیے تعلیم سے محرومی اور بیماریوں اور وباؤں کا وافر اثاثہ  موجود ہے جس میں وہ خود بھی خود کفیل ہیں اور حکومت بھی اُن کے لیے شبینہ پناہ گاہیں اور لنگر خانے کھول کر اُن کی بیچارگی پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی رہتی ہے۔

یہ صورتِ حال  بتاتی ہے کہ عوام مصائب اور رنج و الم کے دوزخ کا ایندھن ہیں  ۔  ہم بطور قوم غریب، مصیبت زدہ اور  مفلسی کے دوزخ میں جلتے عوام  کو   جنت کی حوروں کے خواب دکھا کر اُنہیں

شانت کرتے رہتے ہیں لیکن بھوک وہ عذاب ہے جو  مت ماردیتا ہے  لیکن جن کے پیٹ بھرے  ہوئے ہیں اُن کو حامد میر کے ساتھ ہونے والا ظلم تو نظر آجاتا ہے اور وہ اس پر حسب توفیق اپنہ ردِ عمل ظاہر کرتے رہتے ہیں  لیکن انہیں وہ غریب بچہ نظر نہیں آتا جو سکول نہیں جا سکتا اور اپنے  ماں باپ کو پالنے کے لیے جوتے پالش کرنے اور چائے خانے کی میزیں صاف کرنے کی ذمہ داری نبھا رہا ہے۔ 

یعنی اس جمہوری عہد میں  اب ایسے ماں باپ بھی ہیں جو بچوں کو تو نہیں پالتے بلکہ بچے اُنہیں پالتے ہیں۔ تب مجھے سورہ مزمل کی یہ آیت  استعجاب میں ڈال دیتی ہے فکیف تتقوں ان کفرتم یوماً یجعل الولدان شیبا۔ تم کیسے صاحبِ تقویٰ ہو اگر اُس دن کاا نکار کرو جو بچوں کو بوڑھا کردے گا۔ وما علینا الالبلاغ