اسد طور پر حملہ کرنے والوں کی شناخت کی جائے گی: وزیر داخلہ
- منگل 01 / جون / 2021
- 3590
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں نامعلوم افراد کی جانب سے صحافی اسد طور کو زد وکوب کرنے کے واقعے میں ہم بہت جلد کیس میں حقیقت تک پہنچ جائیں گے۔
اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ نادرا، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) اور پولیس مل کر تحقیقات کررہی ہے۔ فنگر پرنٹس کی کل تک شناخت ہوسکتی ہے اور اگر آئند چند روز میں ملزمان کو گرفتار نہ کرسکے تو اشتہار شائع کریں گے۔ ایک ملزم کی شناخت کے قریب ہیں۔
وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ ملزمان کو گرفتار کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ بعض عناصر اپنے غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے ملک کی خفیہ ایجنسیوں کو بلاجواز تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ جو لوگ ایسے واقعات پر ملک کے انتہائی اہم ادارے پر الزامات لگاتے ہیں، انہیں اندازہ نہیں ہوتا کہ عالمی سطح پر ادارے کی ساکھ کو کتنا نقصان پہنچتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ میں نے نجی نیوز چینل جیو پر تجزیہ کار اور اینکر حامد میر کے پروگرام کو بند نہیں کیا۔ میں گزشتہ کئی برس سے ان کے پروگرام میں شریک نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی رابطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یقینی طور پر ایک پالیسی ہونی چاہیے جس کی بنیاد پر ایسے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہو۔
وزیر داخلہ شیخ رشید نے پاکستان میں مزدور طبقے پر مشتمل افرادی قوت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب 30 لاکھ ویزوں میں سے 30 فیصد ویزے پاکستانیوں کو دے گا۔ اس سے ترسیلات زر میں اضافہ ہوگا اور معاشی نمو میں مزید بہتر آئے گی۔ انہوں نے کویت سے متعلق بتایا کہ وہاں 52 پاکستانی قیدی ہیں جن میں سے صرف 6 واپس آنا چاہتے ہیں۔ زیادہ تر قیدی منشیات کے جرم میں جیل کاٹ رہے ہیں۔
شیخ رشید نے سائبر کرائم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس 54 لاکھ جبکہ میرے دور میں 36 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 6 ہزار کی انکوائری مکمل کرلی گئی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ سائبر ونگ کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا جائے اور اس ضمن میں بھرتیوں کے اشتہارات بھی آچکے ہیں۔ شیخ رشید نے کہا کہ نادرا میں تکنیکی بنیادوں پر جدید تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ سعودی عرب میں ویکسینیشن کا معاملہ وزیر اعظم عمران خان کے علم میں ہے جس پر جلد ساری صورتحال واضح ہوجائے گی۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کردیا کہ کسی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ یا بلیک لسٹ میں شامل کیا جارہا ہے۔