بلوچستان میں پیسہ خرچ ہونے کے باوجود دہشت گرد حملے افسوسناک ہیں: وزیراعظم
- منگل 01 / جون / 2021
- 3840
وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان جتنا پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے ایسا پہلے کبھی نہیں کیا گیا لیکن اس کے باوجود ایف سی اہلکاروں پر دہشت گردوں کے حملے افسوسناک ہیں۔
زیارت کے دورے کے موقع پر قائد اعظم ریزیڈنسی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ قائد اعظم نے اپنی زندگی کے آخری ایام زیارت میں اس مقام پر گزارے اور میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ یہاں جاؤں گا۔ میں سارا پاکستان گھوما ہوں لیکن جس طرح سے آج ہیلی کاپٹر سے زیارت کا جائزہ لیا ہے، ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا اور یہاں پر موجود چار سے پانچ ہزار سال پرانا جنگل دنیا کا اثاثہ ہے۔
وزیر اعظم نے شہید ہونے والے ایف سی اہلکاروں کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری اتحادی حکومت نے بلوچستان پر خاص توجہ دی اور یہاں اس طرح پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے جو پہلے کبھی نہیں کیا گیا لیکن اس کے باوجود دہشت گردوں کے حملے افسوسناک ہیں۔ ہم نے مشکل حالات کے باوجود بلوچستان کو فنڈز دیے ہیں اور مجھے خیبر پختونخوا اور پنجاب حکومتیں کہتی ہیں کہ آپ بلوچستان پر بہت زیادہ مہربان ہو گئے ہیں لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں بلوچستان کو نظر انداز کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان پر جو پیسہ خرچ کیا جانا چاہتا تھا، وہ بھی صحیح طریقے سے خرچ نہیں کیا گیا اور نہ ہی توجہ دی گئی جبکہ جو پیسہ دیا بھی گیا، وہ بھی صحیح معنوں میں خرچ نہیں ہوا۔
عمران خان نے کہا کہ خوشخبری یہ ہے کہ ملک مشکل وقت سے نکل رہا ہے۔ ہمارے مخالفین نے پہلے سے شور مچا دیا تھا کہ حکومتی ناکام ہو گئی، وہ چاہتے تھے کہ حکومت ناکام ہو جائے کیونکہ حکومت اگر اس معاشی بحران سے ملک کو نکال دیتی تو ان کی سیاسی دکانیں بند ہو جاتیں۔ لہٰذا انہوں نے ساری قوم کو دو ڈھائی سال کہا کہ پاکستان تباہ ہو گیا، معیشت تباہ ہو گئی اور غریبوں کا برا حال ہو گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پچھلے سال حکومت 0.5فیصد سے ترقی کررہی تھی لیکن پچھلے ہفتے جو شرح نمو کے اعدادوشمار آئے ہیں اس کے مطابق تقریباً 4 فیصد نمو سے معیشت ترقی کررہی ہے اور ساری اپوزیشن کہہ رہی ہے کہ یہ اعدادوشمار ٹھیک نہیں ہیں۔ پاکستان اس لیے ترقی کرے گا کیونکہ اللہ نے پاکستان کو ہر طرح کی نعمت دی ہے۔ ہمیں خود ہی نہیں پتہ کہ اللہ پاکستان پر کتنا مہربان ہے کیونکہ ہمارے جن حکمرانوں کے گھر، چھٹیاں عیدیں اور علاج بھی باہر ہیں، انہیں کیا پتہ کہ اللہ نے اس ملک کو کتنا نوازا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ زیارت کے پورے علاقے میں سیاحت میں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مقامی لوگوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، ان کی آمدنی میں اضافہ ہو سکتا ہے، غربت کم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر جمال خان آلیانی کو کہا کہ جس طرح خیبر پختونخوا اور پنجاب کے لوگوں کو ہیلتھ کارڈ دیا گیا، بالکل اسی طرح بلوچستان کے لوگوں کو بھی ہیلتھ کارڈ ملنا چاہیے۔
ماضی میں بلوچستان کو نظرانداز کیا گیا اور اسی لیے ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اس کی پوری طرح مدد کریں۔ بلوچستان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ بہت بڑا علاقہ ہے اور یہاں کنیکٹیویٹی بہت مہنگی ہے، سڑکوں کو ایک دوسرے ملانے میں بہت زیادہ خرچ آتا ہے۔ پاکستان کی صحیح معنوں میں ترقی اسی وقت ہو گی جب سارے ملک کی ترقی ہو، یہاں چھوٹے چھوٹے علاقوں کی ترقی ہوتی ہے لیکن باقی ملک پیچھے رہ جاتا ہے اور اسی وجہ سے بلوچستان بھی پیچھے رہ گیا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ ہمارے ملک میں جو علاقے پیچھے رہ گئے ہیں ان پر ہم خاص توجہ دے رہے ہیں، ہم قبائلی علاقوں سے شروع کررہے ہیں۔ اس کے بعد بلوچستان، پنجاب کے مغربی علاقے اور اندرون سندھ بھی مدد کریں گے کیونکہ اندرون سندھ کےعلاقے بھی پیچھے رہ گئے ہیں۔ پہلی کوشش ہے کہ جو علاقے پیچھے رہ گئے ہیں ان کی ترقی پر کام کیا جائے اور دوسری چیز یہ کہ جو لوگ پیچھے رہ گئے ہیں، جو کمزور طبقہ ہے، ان کی ترقی بھی یقینی بنائیں۔