کیا شہباز شریف کا بیانیہ چل سکے گا؟
- تحریر سلمان عابد
- منگل 01 / جون / 2021
- 5340
شہباز شریف انقلابی سے زیادہ انتظامی لیڈر ہے۔ انتظامی لیڈرکی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ نظریاتی بندشوں میں خود کو قید کرنے کی بجائے حالات کے مطابق سیاسی کارڈ کھیلنے کا ہنر رکھتا ہے۔ ایسی سیاست پاپولر کم مگر طاقت کے مراکز کے گرد زیادہ گھومتی ہے یا ان کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔
یہ ہی وجہ ہے کہ شہباز شریف اسٹیبلیشمنٹ کے حلقوں میں اپنی اہمیت رکھتے ہیں او ربلاوجہ ان سے ٹکراؤ پیدا کرنا یا ان کے ساتھ بداعتمادی ان کے ایجنڈے کا کبھی بھی حصہ نہیں رہا۔شہباز شریف اپنی سیاسی سوچ اور فکر کو چھپا کر نہیں رکھتے بلکہ ہر فورم پر اور اپنی جماعت میں اس موقف کو برملا پیش کرتے رہے ہیں کہ ہمیں اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ بلاوجہ ٹکراؤپیدا کرنے کی سیاسی حکمت عملی سے گریز کرنا چاہیے۔ یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ ماضی میں بھی مسلم لیگ ن کی سیاست میں اسٹیبلیشمنٹ او رن لیگ کے درمیان پل کا کردار شہباز شریف اور چوہدری نثار ہی کیا کرتے تھے۔ جو لوگ مسلم لیگ ن کے مجموعی مزاج اور ان کے سیاسی پس منظر کو سمجھتے ہیں وہ یہ اعتراف کریں گے کہ ن لیگ کبھی بھی اسٹیبلیشمنٹ مخالف یا مزاحمت کی جماعت نہیں۔ اس جماعت کا مجموعی کردار اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت او رمدد کے ساتھ مل کر سیاسی یا اقتدار کا راستہ تلاش کرنا ہوتا ہے، یہ عمل آج بھی مزاحمت کی سیاست کا کارڈ کھیل کر بھی پس پردہ مفاہمت ہی کی سیاست کو فروغ دیتا ہے۔
جو لوگ نواز شریف یا مریم نواز کو مزاحمت یا ووٹ کو عزت دو، سول حکمرانی یا اسٹیبلیشمنٹ کی مداخلت پر مبنی سیاست کے کردار کے طو ر پر پیش کرتے ہیں وہ بھی محض جذباتیت کا تجزیہ ہے، نواز شریف ہمیشہ سے اسٹیبلیشمنٹ کی مدد سے ہی سیاست کرتے تھے اور اب بھی کرنا چاہتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ اس مفاہمت میں ان کا کردار غالب ہو اور یہ راستہ اقتدار کے حق میں جاتا ہو۔اسی بنیاد پرنواز شریف او رمریم نواز خود بھی پس پردہ قوتوں یا ملکی و غیرملکی سطح پر دوستوں کی مدد سے آج بھی پس پردہ قوتوں سے رابطوں میں ہیں۔
شہباز شریف موجودہ حالات میں زیادہ سیاسی طور پرسرگرم او رپرجوش نظر آرہے ہیں۔ وہ نہ صرف اپنا سیاسی بیانیہ کھل کر پیش کررہے ہیں بلکہ خود کو ایک متبادل قیادت کے طور پربھی پیش کررہے ہیں۔حال ہی میں وہ کافی عرصے بعد ایک ٹی وی انٹرویو میں پیش ہوئے اور خو د قوم کے سامنے ”قومی مفاہمت“ کا ایجنڈا پیش کیا۔ ان کے بقول اگر اس قومی ایجنڈا کی تکمیل پر ان کواپنے بھائی نواز شریف کو راضی کرنے کے لیے ان کے پیر بھی پکڑنے پڑے تو وہ گریز نہیں کریں گے۔ان کے بقول یہ تاثر غلط ہے کہ نواز شریف قومی ایجنڈے سے انحراف کی پالیسی اختیار کریں گے۔ان کے بقول شفاف انتخابات، آئین کی حکمرانی،اداروں کا اپنے دائرے کار میں کام کرنا اور تمام فریقین کے ساتھ مشاورت پر مبنی روڈ میپ تیار ہوں تو وہ اور ان کے قائد نواز شریف اس قومی مفاہمت میں سب کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
بنیادی طور پر شہباز شریف 2023کے عام انتخابات سے قبل اپنے، خاندان او راپنی جماعت کے لیے محفوظ راستہ کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔کیونکہ ان کے بقول اگر ٹکراؤ کی پالیسی نواز شریف اور مریم نواز کی طرف سے بدستور جاری رہتی ہے تو اس کے نتیجہ میں مسلم لیگ ن کو اگلے عام انتخابات میں بھی اقتدار کا راستہ نہیں مل سکے گا۔ مسئلہ محض اقتدار کے راستہ کا ہی نہیں بلکہ شریف خاندان کو لگتا ہے کہ ان کے خلاف جو مقدمات چل رہے ہیں اس سے بھی کوئی بڑا ریلیف نہیں مل سکے گا۔لیکن اس سارے کھیل میں شہباز شریف کو لگتا ہے کہ مشکل ان کی جماعت نہیں ہے۔کیونکہ ان کے بقول مسلم لیگ ن کے ارکان قومی،صوبائی اور سینٹ کے لوگوں کی مجموعی تعداد اس وقت مفاہمت کی سیاست چاہتی ہے۔ لیکن شہباز شریف کا مسئلہ نواز شریف ا و ر مریم نواز ہیں۔ شہباز شریف کو لگتا ہے کہ نواز شریف کو سیاسی طور پر منانا آسان جبکہ مریم نواز کو منانا مشکل ہے۔شہباز شریف کی لندن یاترا بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی تاکہ وہ اپنے بھائی اور پارٹی قائد نواز شریف کو اپنی حمایت میں سیاسی طور پر رام کرسکیں۔
اب کیا نواز شریف او رمریم نواز راضی ہوسکیں گے او رکیا وہ خود کو پچھلی صفوں میں رکھ کر قیادت شہباز شریف کو دے دیں گے۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا ہے تو ایسی صورت میں کم ازکم مریم نواز کی سیاست کو بڑا نقصان ہوگااور پارٹی میں برتری شہباز شریف یا حمزہ شہباز کو مل جائے گی جو یقینا مریم کے لیے بڑا سیاسی دھچکہ ہوگا۔جہاں تک بہت سے سیاسی پنڈت اس تھیوری کو پیش کررہے ہیں کہ مستقبل کے سیاسی یا اقتدا ر کے منظرنامہ میں اسٹیبلیشمنٹ اور شہباز شریف کے درمیان معاملات طے ہوگئے ہیں۔ اسی بنیاد پر شہباز شریف سرگرم بھی ہوئے ہیں اور خود کو متبادل قیادت کے طور پر بھی پیش کررہے ہیں۔حالانکہ مسئلہ معاملات کے طے ہونے کا نہیں بلکہ خود شہباز شریف یہ بیانیہ کو سیاسی حلقوں سمیت اپنی پارٹی میں اجاگر کررہے ہیں تاکہ پارٹی متحد بھی رہ سکے او رلوگ نواز شریف کے مقابلے میں ان کی طرف دیکھیں۔فی الحال لگتا ہے کہ اسٹیبلیشمنٹ اور شہباز شریف کے درمیان معاملات طے ہونے کی باتیں سیاسی کہانی کے سوا کچھ نہیں۔ ابھی تو شہباز شریف ایک امتحان گاہ میں ہیں اور ان کو ثابت کرنا ہے کہ وہی مسلم لیگ ن میں اصل فیصلہ ساز ہیں۔ شہباز شریف نواز شریف سے بغاوت نہیں کریں گے بلکہ ان کی کوشش ہوگی کہ نواز شریف ہی ان کی حمایت کریں تاکہ پارٹی اس معاملہ پر تقسیم نہ ہو۔لیکن اگر معاملات حل نہیں ہوتے تو پھر کیا وہ کوئی بڑا متبادل فیصلہ کریں گے، اس کا امکان محدود نظر آتا ہے۔
مسلم لیگ ن اس وقت جس بڑے بحران سے گزررہی ہے اس سے یقینی طور پر مفاہمتی بیانیہ کے ساتھ شہباز شریف بچاسکتے ہیں، لیکن اس کے لیے ان کو یقینی طور پر نواز شریف کی مکمل حمایت کی بھی ضرورت ہے او ران کو سیاسی فیصلوں میں فری ہینڈ بھی ملنا چاہیے۔یہا ں اصل میں نواز شریف کے سیاسی تدبر کا بھی امتحان ہے کہ وہ پارٹی کو بچانا چاہتے ہیں یا مریم کے لیے سیاسی سطح پر ن لیگ کے لیے امکانات کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔ شہباز شریف اگر مسلم لیگ ن او ربالخصوص نواز شریف سے معاملات کو مفاہمت کی طرف لے جانے میں کامیاب نہیں ہوتے او ران کو حمایت نہیں ملتی تو پھر ان کے پاس بھی پارٹی کے بحران سے نمٹنے کے امکان کم ہوجائیں گے۔کیونکہ ایک بات تو نظر آتی ہے کہ فوری طور پر اقتدار کی سیاست میں ہمیں نواز شریف یا مریم نواز کا کوئی کردار نظر نہیں آتا اور ان کو کسی اور کی اس کھیل میں حمایت کرنا ہوگی۔
شہباز شریف کا مسئلہ محض مریم نواز نہیں بلکہ پارٹی کے اندر مریم نواز کا وہ گروپ بھی ہے جو ہر صورت میں شہباز شریف کے مقابلے میں شاہد خاقان عباسی کو سامنے لانا چاہتا ہے۔اس لیے شہباز شریف کو محض خارجی سطح پر ہی نہیں بلکہ پارٹی کے اندر سے مریم اور اس کی سیاسی لابی سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔شہباز شریف کے پاس پارٹی کی سیاسی حکمت عملی میں مفاہمتی سیاسی کارڈ کے آپشن کو فوری طور پر نتیجہ خیز بنانا ہوگا۔کیونکہ ایسا نہیں ہوگا تو ان کی پوزیشن بھی غیر مستحکم ہوگی اور وہ جو نئے انتخابات سے قبل اپنی پارٹی، ذات او رخاندان کے لیے محفوظ راستہ تلاش کرنا چاہتے ہیں اس کی منزل او ربھی دور ہوسکتی ہے