پاکستان کی افغانستان میں سیکیورٹی خلا کے حوالے سے تشویش
- بدھ 02 / جون / 2021
- 4640
امریکا کے افغانستان سے انخلا کے بعد پیدا ہونے والے سیکیورٹی خلا کے حوالے سے پاکستان کی پریشانی بڑھ رہی ہے کیوں کہ متحارب افغان گروہوں کے مابین مفاہمت کے امکانات کم ہیں ۔
آئندہ چند روز میں بین الافغان مذاکرات کا ایک اور دور ہونے والا ہے لیکن پاکستانی حکام کسی اہم پیشرفت کے حوالے سے زیادہ پُرامید نہیں ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغانستان کے ولیسی جرگہ کے اسپیکر میر رحمٰن رحمانی سے بات کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ 'اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھا کر افغانستان اور خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ایک جامع، ٹھوس اور وسیع تر سیاسی تصفیے پر کام کریں'۔
واضح رہے کہ افغان امن عمل میں جمود کے باعث سیکیورٹی خلا کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ برس ستمبر میں شروع ہونے والے امن مذاکرات میں اصولوں اور طریقہ کار کے بارے میں سمجھوتے پر معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔
صدر جو بائیڈن کے منصب سنبھالنے کے بعد امریکا کی جانب سے طالبان سے 2019 کے معاہدے پر نظرثانی کے اعلان اور امریکی افواج کے انخلا کے لیے 11 ستمبر کی ڈیڈ لائن مقرر کرنے سے یہ تعطل مزید بڑھ گیا۔ پاکستان اور بین الاقوامی برادری نے فریقین کو بقیہ مسائل پر بات چیت کے لیے دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی متعدد کوششیں کیں لیکن اب تک کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔
اس ضمن میں ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی درخواست پر بتایا کہ پاکستان نے دیگر چیزوں کے علاوہ عبوری حکومت پر زور دیا تھا لیکن افغان صدر اشرف غنی کی سخت مخالفت کی وجہ سے یہ خیال زور نہ پکڑ سکا۔ دوسری جانب طالبان بھی اس اُمید پر امن معاہدے کے زیادہ خواہشمند نہیں کہ وہ میدان جنگ میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران طالبان نے متعدد فوجی اڈوں پر چڑھائی کے بعد کئی اہم اضلاع اپنے قبضے میں لے لیے ہیں اور بڑی تعداد میں افغان فوجیوں نے بھی طالبان کے آگے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ پاکستان کا اندازہ یہ ہے کہ امریکا کے انخلا کے بعد افغان سیکیورٹی فورسز میں ملک سنبھالنے کی صلاحیت نہیں ہے۔