مستحسن سعودی اقدام: مشعل راہ؟

برادر اسلامی ملک سعودی عرب ہماری محبتوں کا مرکز حرمین شریفین کی وجہ سے ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ کنگڈم آف سعودیہ عریبیہ کا عالمی سطح پر رول مسلم ورلڈ کے قائد یا لیڈر کا ہے۔

چند ممالک کو چھوڑ کر او آئی سی کے ممالک کی بھاری اکثریت سعودی عرب کی ا س حیثیت کو نہ صرف تسلیم کرتی ہے بلکہ خوشی غمی اور عالمی تنازعات میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔سرد جنگ کے طویل دور میں سعودی عرب کیمونسٹ جبر کے خلاف پیہم مضبوط چٹان کی طرح کھڑے رہا حتیٰ کہ عرب جمہوریہ مصر جیسا عظیم الشان ملک بھی سوویت جبر کے کیمپ سے نکل کر سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گیا۔ پی ایل او اور اس کے قائد یاسر عرفات نے بھی عافیت اسی میں ڈھونڈھی کہ سعودی اپروچ سے ہم آہنگی کرتے ہوئے آگے بڑھے۔ آج بھی مڈل ایسٹ میں سعودی قیادت کا رول توازن و اعتدال پسندی پر مبنی ہے۔ وہ محاذ آرائی اور اسلحہ بندی کی بجائے صلح جوئی اور مکالمے پر یقین رکھتی ہے دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف مضبوط آواز ہے۔

حماس کی حالیہ لاحاصل مہم جوئی کے بالمقابل سعودی عرب نے معتدل اپروچ کی حامل فلسطینی اتھارٹی کا ساتھ دیا ہے اور کوشاں ہے کہ جنگ و جدل پر امن و سلامتی کی سوچ غالب آئے۔ اپنے لوگوں کو بے وجہ مروانا یا ان کی معصوم جانوں کو خطرات میں ڈالنا جہاد نہیں، فساد ہے۔ اپنے مذموم مقاصد کے تحت جلتی پر تیل ڈالنے والی ناعاقبت اندیش حکومتوں کو اپنی ان حرکات سے باز آ جانا چاہیے جن کا نتیجہ بالآخر سوائے تباہی و بربادی کے کچھ نہیں نکلتا۔

سعودی عرب جہاں مسلم ورلڈ کو امن و سلامتی کی راہوں پر چلانے کے لئے کوشاں رہتا ہے وہیں اپنی اس مثبت اپروچ کی بدولت وہ مغربی ممالک میں اسلام اور مسلمانوں کے متعلق خوفناک تاثرات کو خوشگوار بنانے کی کاوشیں بھی کرتا رہتا ہے۔ امریکا اور یورپ میں کتنے شاندار اسلامک سنٹرز ہیں جو سعودی عرب کی کوششں سے تعمیر ہوئے ہیں اور اپنی بھرپور سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس طرح غریب مسلم اقوام کو معاشی بدحالی میں سعودی معاونت ہمیشہ سے جاری و ساری ہے۔

سعودی قیادت کو بلاشبہ اندرون خانہ ایسی متشدد آوازوں کا سامنا رہتا ہے جن کا مشاہدہ ہم پاکستانی اپنے سماج میں ہر روز کرتے ہیں، مذہبی شدت پسندی کی اسی مضبوطی کا اثر تھا کہ القاعدہ جیسی جنونی تحریک کا جنم متمول سعودی شہریوں کی فنڈنگ اور براہ راست رہنمائی میں ہوا۔ صورتحال کی سنگینی کو اس بڑی حقیقت سے سمجھا جا سکتا ہے کہ چند ایک کے سوا نائن الیون کے تمام مرتکبین کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔

اس پس منظر میں سعودی قیادت پوری جانفشانی سے چیلنج سمجھ کر یہ جدوجہد کر رہی ہے کہ قدامت پسند سعودی سماج اور معاشرت کو کس طرح ماڈریٹ، لبرل یا متوازن بنایا جائے۔ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے بھی اس حوالے سے خاصی خدمات سرانجام دی تھیں لیکن اب سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان جس ذمہ داری، عزم اور لگن کے ساتھ اس بھاری پتھر کو اٹھانے کے لئے کوشاں ہیں وہ بے مثال ہے۔ اگرچہ شخصی حکمرانی کے اپنے مفاسد و مسائل ہوتے ہیں جنہیں مدنظر رکھا جانا چاہیے، یہ سسٹم خود ایسی کھلی فضا کے لئے سودمند نہیں جس کے خواب دیکھے یا دکھائے جا رہے ہیں۔ ان حوالوں سے جتنی تنقید چاہیں کر سکتے ہیں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ عدم برداشت کے بالمقابل رواداری یا آزادی اظہار و عمل جمہوریت یا آزاد جمہوری فضا کا اثاثہ ہے لیکن اس گھٹن زدہ ماحول میں اگر فکر تازہ کا کوئی جھونکا آتا ہے تو ہمیں اس کی ستائش ضرور کرنی چاہیے۔

اصولی نقطہ نظر سے آمریت یا بادشاہت عوامی سیاسی یا سماجی مسائل کا حل نہیں از خود بیماری ہے، جس کا علاج ہونا چاہیے۔ لیکن مت بھولیے کہ اس سے بھی ایک خطرناک اور بھیانک بیماری ہے جو کہ نہ صرف تاریخی طور پر موجود رہی ہے بلکہ آج کے متوازن حالات میں بھی اس کے زہریلے دانت نہیں نکالے جا سکے۔ اور وہ مذہب کے مقدس نام کو استعمال کرتے ہوئے پھیلایا گیا نظریہ جبر ہے جس سے کوئی بھی ہوش مند پاکستانی بے خبر نہیں ہے۔ کہنے کو ہماری پاکستانی سوسائٹی ایک جمہوری سماج ہے لیکن یہاں جس قدر گھٹن ہے اس کا تقابل عرب سوسائٹی سے کرنا مشکل ہے۔ مثال کے طور پر حالیہ کورونا وبا کے خلاف سعودی عرب نے مختلف النوع اقدامات اٹھاتے ہوئے جس طرح حرمین شریفین کو طویل دورانیے تک مقفل کیے رکھا، کیا ہمارے نام نہاد جمہوری پاکستانی سماج میں اس نوع کا بڑا اقدام ممکن تھا؟ ہم تو یہاں اپنی عام مساجد اور درباروں میں ایسی کسی کارروائی سے خوفزدہ رہے۔ ہمارے طاقتور ادارےیا حکومت کی زبان گنگ ہو جاتی ہے جب اس نوع کی اشتعال انگیزی کے معاملات سامنے آتے ہیں۔ اپنے شتر بے مہار طبقات کو سعودی قیادت جس عزم و ہمت کے ساتھ نکیل ڈالتی ہے اس کی تحسین نہ کرنا پرلے درجے کی کم ظریفی ہو گی۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں سعودی عرب کی وزارت مذہبی امور نے مساجد کے سپیکرز کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک نئی پالیسی نافذ کی ہے جس کے مطابق آئندہ سے سپیکرز صرف اذان اور اقامت کیلئے استعمال ہو سکیں گے اور اس میں بھی سپیکرز کی آواز کا محض ایک تہائی یا تیسرا حصہ استعمال ہو گا تاکہ اس آواز کا پھیلاؤ کم سے کم رہے۔ سعودی وزیر برائے مذہبی امور نے حکومت کے اس اقدام کا جواز بیان کرتے ہوئے کہا ہے ہمارے بہت سے شہریوں نے یہ شکایت کی تھی کہ مساجد سے اٹھنے والی تیز آوازوں سے آس پاس کے گھروں میں رہنے والے بڑی عمر کے افراد اور بچے پریشان ہوتے ہیں۔ مساجد کے سپیکرز سے تلاوت اور خطبات کو یکسر روک دیا گیا ہے۔ سعودی وزیر مذہبی امور کا یہ بھی کہنا تھا کہ ذرائع مواصلات کے اس دور میں مساجد میں اذانوں کی آوازوں کا کون انتظار کرتا ہے جن افراد نے نماز ادا کرنی ہوتی ہے وہ اس سے قبل ہی مساجد میں پہنچے ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 2017 میں جب خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دی گئی تھی تو سعودی سماج میں اس کے خلاف بھی کئی آوازیں اٹھی تھیں مگر سعودی قیادت نے اس پر ثابت قدمی دکھائی مابعد سعودی خواتین کو ان کے شوہروں کی اجازت کے بغیر کاروبار کرنے کی اجازت دے دی گئی اور غیر محرموں کے بغیر باہر نکلنے پر پابندیاں بھی ہٹا دی گئیں۔ نیز سعودی عرب میں سینما کھولنے، موسیقی کی تقریبات منعقد کرنے اور خواتین کو تفریحی مقامات پر تنہا جانے کی اجازت جیسے اقدامات بھی اٹھائے گئے ہیں، تنقیدی آوازیں بھی اب بڑی حد تک دبتی چلی جا رہی ہیں۔

اگر ریاست ہمت و حوصلہ دکھائے تو اشتعال انگیزی و جنونیت پر مبنی قدامت پسندانہ نعرے بازی جھاگ کی طرح بیٹھ سکتی ہے جس کے خوف سے ہمارے لوگوں کی ٹانگیں کانپ رہی ہوتی ہیں۔ وجہ اس کی واضح ہے کہ عوامی الناس کو اشتعال دلاکر جنونی لوگ اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال ضرور کرتے ہیں جبکہ عام آدمی کی اپنی اس میں کوئی خصوصی دلچسپی نہیں ہوتی۔ وہ محض منفی پروپیگنڈہ کے زیر اثر چل رہے ہوتے ہیں۔ اس صورتحال کو ہمارے یہاں تحریک لبیک کی مصنوعی مقبولیت اور اس کے توڑ سے سمجھا جا سکتا ہے۔ غور طلب امر یہ ہے کہ ایسی مصنوعی پھونک بھرنے والے کون لوگ ہیں؟ اور انہیں جنونیت کے اس پھیلاؤ سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ ایسے سعودی اقدامات ہمارے لئے مشعل راہ بن سکتے ہیں۔