چین اور امریکا سے تعلقات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے

  • جمعہ 04 / جون / 2021
  • 4310

وزیراعظم کے مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکا کا اچانک انخلا مناسب نہیں اور اپنی ساکھ بچانے کے لیے پاکستان پر کوئی الزام عائد کرنا قابل قبول نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا ہے کہ پاک امریکا تعلقات کو قومی سلامتی پر کسی سمجھوتے کے بغیر افغانستان، پاکستان کے لینز سے آگے نکلنا ہوگا جبکہ چین، پاکستان کا سر فہرست اسٹریٹجک پارٹنر ہے۔ انہوں نے یہ بات 'ڈان نیوز' کے پروگرام 'لائیو وِد عادل شاہزیب' میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

مشیر قومی سلامتی کا کہنا تھا کہ امریکا نے یقین دہانی کروائی ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا میں پاکستان کو قربانی کا بکرا نہیں بنایا جائے گا لیکن یہ وقت ہی ثابت کرے گا کیوں کہ تاریخ کچھ اور کہتی ہے۔ ابھی کوئی اندازہ لگانا قبل از وقت ہوگا کہ کیا وہ اپنے الفاظ پر قائم رہتے ہیں۔

معید یوسف نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے افغانستان میں امن کا متمنی ہے لیکن یہاں سے جلد بازی میں انخلا ٹھیک نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فضائی اڈوں کو امریکا کے حوالے کرنے کا نکتہ اٹھانا بھی بے کار ہے۔ واضح طور پر امریکا کو بتادیا گیا ہے اس لیے اس پر بحث کی گنجائش نہیں ہے کیوں کہ وزیر اعظم عمران خان، افغانستان میں جنگ کی بھی مخالفت کرتے رہے ہیں۔

معید یوسف کا کہنا تھا کہ افغانستان میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے اہم ہے کہ وہ ایک جامع حکومتی اور سیاسی تصفیے کے لیے ایک ساتھ بیٹھیں۔ جب تک وہاں معاشی عدم استحکام ہے افغان معیشت اپنے پیروں پر آزادانہ طور پر کھڑی نہیں ہوسکتی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے لیے صرف پاکستان انہیں چین اور امریکا کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے ریجنل کنیکٹیوٹی دے سکتا ہے، صرف پاکستان ریڑھ کی ہڈی ہے۔ افغانوں کو یہ سمجھنا چاہیے۔ اب ہم دنیا کو اپنی ترجیحات سے آگاہ کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ پاک امریکا دوطرفہ تعلقات اس چیز سے آگے نکلیں کہ امریکا ہمیں کیا دے سکتا ہے بلکہ یہ دیکھیں کہ امریکا سے ہم کیا لے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم جنیوا میں پاکستان کی واضح ترجیحات کا بلو پرنٹ لے کر گئے۔ افغانوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنا ہوگا۔ معید یوسف کا کہنا تھا کہ ہماری ریڈ لائن یہ ہے کہ ہم افغانستان سے پاکستان میں کوئی دہشت گردی کی کارروائی نہیں چاہتے۔ یہ ناقابل قبول ہے۔ چاہے افغانستان میں کسی بھی قسم کی حکومت بنے، یہ پاکستان کی واضح پوزیشن ہے۔