انصاف کا نظا م اور نظام کی تبدیلی

افراد کے مقابلے میں اگر نظام کی مضبوطی کا عمل موجود نہ ہو تو یہ نظام طاقت ور افراد کے ہاتھوں یرغمال رہتا ہے۔ کیونکہ کمزور لوگوں کی بنیادی خواہش افراد کے مقابلے میں اداروں کی مضبوطی ہوتی ہے اور ان ہی اداروں سے ان کو انصاف یا اپنے بنیادی حقوق شفاف انداز میں مل سکتے ہیں۔

 پاکستان میں انصاف کے نظام کو تین بنیادی چیلنجزہیں۔ اول یہ نظام طبقاتی بنیادوں پر قائم ہے جہاں طاقت ور اور کمزور کے درمیان تفریق کا پہلو نمایاں ہے۔ دوئم انصاف کے نظام میں سیاسی اور بااثر افراد کی مداخلتیں، کرپشن، بدعنوانی پر مبنی مسائل کی بہتات، سوئم ہمارے عدالتی نظام میں پائی جانے والی خامیاں، پولیس او رتفتیش کا نظام، انصاف میں تاخیراور اس تناظر میں اصلاحات کا نہ ہونا جیسے امور سرفہرست ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں مجموعی طور پر لوگوں کو  انصاف کے اداروں پر اعتماد نہیں اور اس بحران نے عدالتی نظام اور عام آدمی میں ایک بڑی نمایاں خلیج پیدا کردی ہے جو ریاستی و عوامی رشتہ کو کمزور کرتی ہے۔

حالیہ دنوں میں وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے براہ راست فون کال پر کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی ایک بیوہ عورت عائشہ اور اس کی والد ہ جو خود بھی بیوہ ہے اپنے مکان پر قبضہ اور کرایہ نہ دینے پر جو ماتم کیا وہ ہمارے معاشرے میں کوئی نیا واقعہ نہیں۔ روزانہ کی بنیادوں پر کئی ایسی عائشہ ہیں جو بااثر اور پولیس، اداروں یا غنڈہ عناصر کی مدد سے لوگوں کے مکانوں، زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں، کرایہ دارہونے پر کرایہ دینے سے انکار کرتے ہیں، دھمکیاں دیتے ہیں، عورتوں کی کردار کشی کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نے بجا فرمایا کہ ہمارا عدالتی یا انصاف سے جڑا نظام اپنی افادیت کھورہا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ قبضہ کرنے والا فرد پولیس کے اعلی افسر کا بھائی تھا اور کرایہ یا مکان خالی کرنے کے مطالبہ پر پولیس کا دباؤ ڈالتا او راس عورت کی کردار کشی کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا تھا۔ وزیر اعظم کی مداخلت پر اس کو کرایہ کی مد میں بقایا رقم بھی مل گئی اور سابقہ سی سی پی او عمرشیخ کی مداخلت کی بنا پر اسے اپنا مکان بھی مل گیا۔

یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارا انصاف کا نظام اسی بنیاد پر کھڑا ہے کہ کوئی فرد اگر وزیر اعظم، صدر، وزیر اعلی، گورنر، چیف جسٹس تک رسائی  میں کامیاب ہوجائے تو اس کی بات سنی جاسکتی ہے۔ اگر اس دن عائشہ کی وزیر اعظم سے کال نہ ملتی تو مسئلہ جوں کا توں ہی رہتا او رنہ جانے کتنی عائشہ ایسی ہوں گی  جنہوں نے وزیر اعظم کو کال کرنے کی کوشش کی ہوگی لیکن  رسائی نہیں ہوسکی ہوگی۔ یہ ہے کہ ہمارا عدالتی اور پولیس یا انصاف کا نظام جہاں ایک بیوہ عورت کو اپنے انصاف یا بنیادی حق کے لیے کہاں کہاں دھکے نہیں کھانے پڑتے بلکہ اس سے ایک قدم آگے اپنی شخصیت کو بھی داغدار کرنا پڑتا ہے یا مختلف برے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

عدالتی نظام کے حوالے سے جو سب سے اہم مسئلہ عام  آدمی کو درپیش ہے وہ عدالتی نظام میں طاقت ور  افراد کی جانب سے سٹے آڈر کا ملنا ہے۔ سوال یہ  ہے کہ کیسے عدالت کا یہ نظام جانتے ہوئے بھی کہ طاقت ور اپنے مفاد کے لیے کیسے سٹے لیتا ہے اسے سٹے دے دیا جاتا ہے۔پولیس، وکیل اور ججوں کے درمیان ہونے والا یہ باہمی گٹھ جوڑ کمزور لوگوں کے لیے وبال جان بن جاتا ہے۔سٹے آرڈر کا مطلب کمزور مخالفین کو دباؤ میں لانا، اسے عدالتوں میں زلیل و خوار کرنا، مقدمات کو طول دینا ہوتا ہے تاکہ کمزور لوگ ہمت ہار کر گھر بیٹھ جائیں۔

پاکستان کے عدالتی نظام کی ساکھ پر پہلے سے ہی سوالیہ نشان موجود ہیں۔ ورلڈ جسٹس رپورٹ کے مطابق ہم 128 ممالک میں سے 120 نمبر پر ہیں جبکہ ساؤتھ ایشیا میں ہم چھ میں سے پانچ نمبرز پر ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ ہم کیسے قانون کی حکمرانی ا ور اپنے عدالتی، تفتیش یا پولیس کے نظام کو شفافیت میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ اول مسئلہ تو ہے کہ ہمیں مرض کو قبول کرنا ہوگا اور اس کی تشخیص کرنی ہوگی کہ کن وجوہات کی بنا پر یہ خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ دوئم ہمیں اپنی قومی ترجیحات کا درست تعین کرنا ہوگا اور اصلاحات کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا ہوگا اور محض قانون سازی یا پالیسی سازی ہی نہیں بلکہ اس کی کڑی نگرانی، عملدرآمد کا نظام اور شفافیت سمیت جوابدہی کے نظام کو یقینی بنانا ہوگا۔ ہم کو یہ تاثر ختم کرنا ہوگا کہ انصاف یہاں یرغمال ہے اور طاقت ور لوگوں کے قبضہ میں ہے۔

عمران خان کی حکومت کا سب سے بڑا نعرہ ہی سیاسی، انتظامی، قانونی او رمعاشی اصلاحات پر مبنی ایجنڈا تھا۔ پولیس ریفارمز بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی۔ لیکن بدقسمتی سے یہ حکومت بھی اصلاحات سے زیادہ ردعمل کی سیاست کا شکار ہوئی ہے۔ بہت سی اصلاحات پر یا تو سیاسی سمجھوتے کرلیے گئے ہیں یا ترجیحات کی تبدیلی ہوئی ہے یا عددی برتری نہ ہونے کی وجہ سے وہ واضح قانون یا پالیسی سازی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ وزیر اعظم کو سمجھنا ہوگا کہ ایک اچھی حکومت اور جمہوریت یا سیاست بنیادی طور پر نظام کو مضبوط بناتی ہے اور تمام افراد کو چاہے وہ چھوٹے ہوں یا بڑے سب کوقانون کے تابع کرتی ہے۔ حکومت کو اس تصور کو سیاسی شکست دینی ہوگی کہ افراد اتنے طاقت ور ہوجائیں کہ ان کے سامنے قانون کمزور ہو۔ عملی طو رپر اداروں او رقانون کی حکمرانی کا تصور مضبوط ہوں تاکہ سب ہی قانون کی حکمرانی کے سامنے کھڑے ہوسکیں۔وزیر اعظم نظام کی خرابیوں کا تو خوب ماتم کرتے ہیں او راچھی بات ہے کہ ان کو اندازہ ہے کہ ہمارا نظام فرسودہ اور طاقت ور کے قبضہ میں ہے۔لیکن محض ماتم سے کام نہیں چلے گا بلکہ اس کے لیے وزیر اعظم او ران کی حکومت کو کچھ آگے بڑھ کر غیر معمولی حالات میں عملی طور پر غیرمعمولی اقدامات ہی کرنے ہوں گے۔

عدالتی نظام کی اصلاحات ہماری بنیادی ترجیح ہونی چاہیے۔ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات او رانصاف میں تاخیر سے ہمارے نظام کی ساکھ پہلے ہی سوالیہ نشان پر ہے۔ نئی عدالتوں کا قیام ہماری ضرورت ہے اور خاص طو رپر نیب کے حوالے سے جو ہم نے نئی احتساب عدالتیں بنانی ہیں ان کوفوری طور پر تشکیل دی جائیں او راس میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔ وزیر اعظم نے درست فرمایا کہ ان کے دور حکومت میں نیب کی کارکردگی پہلے سے کافی بہتر ہوئی ہے بالخصوص رقم کی وصولی یا ریکوری کے معاملے میں نیب پچھلے تین برسوں میں سابقہ سترہ برسوں کا بھی ریکارڈ توڑ چکا ہے۔لیکن اس وقت بھی بہت سی سیاسی قوتیں نیب کو کمزور کرنا چاہتی ہیں او ربار بار اس منطق کو مختلف سیاسی او رکاروباری طبقہ کی جانب سے دلیل دی جارہی ہے کہ اگر ملک میں معاشی صورتحال کو بہتر کرنا ہے تو نیب کو لگام دی جائے یا ختم کردیا جائے۔

یہ وہ ہی روائتی نقطہ نظر ہے جو اس ملک میں احتساب کو کمزو رکرنے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مسئلہ نیب کو کمزو رکرنا نہیں بلکہ اسے زیادہ مضبوط، فعال کرنا، متحرک اور شفافیت کے عالمی معیارات کے مطابق ڈھالنا ہے۔نیب کو بھی سمجھنا ہوگا کہ جو لوگ یا ادارے ان پر تنقید کررہے ہیں اس کی کیا قانونی یا سیاسی وجوہات ہیں یا اس کے پیچھے پس پردہ ایجنڈا کیا ہے۔مقدمات میں تاخیر یا سیاسی لوگوں کے مقدمات یا ان سے رقم کی وصولی یا ان سے کچھ نہ نکالنے کے جو سوالات ہیں ان کا جواب بھی دلیل یا شواہد کے ساتھ نیب کو قوم کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ عدالتی نظام میں شفافیت، اصلاحات اور بڑی موثر تبدیلیاں ناگزیر ہیں او راب معاملا ت کو محض روائتی انداز میں نہیں چلایا جاسکے گا اس کے لیے کچھ کرکے عملی طو رپر دکھانا ہوگا۔