مرکزی حکومت سندھ کے ساتھ متعصبانہ سلوک کررہی ہے: وزیراعلیٰ سندھ

  • اتوار 06 / جون / 2021
  • 5280

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام  پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔  انہوں نے مجوزہ پروگرام کو یک طرفہ اور صوبے کے عوام کے مفادات کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

وزیراعظم کو سخت الفاظ پر مبنی بھیجے گئے ایک خط میں وزیراعلیٰ نے لکھا ہے کہ جب سے موجودہ حکومت اقتدار میں آئی ہے سندھ کے ساتھ متعصبانہ سلوک کیا جارہا ہے۔ پی ایس ڈی پی میں سندھ کے لیے منصوبوں اور اس کے لیے مختص فنڈز کا حوالہ دیتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ سال 2021 میں 5 ارب 6 کروڑ 91 لاکھ روپے کی 6 اسکیمز تجویز کی گئی جبکہ سال 18-2017 میں 23 ارب 38 کروڑ 72 لاکھ روپے کی 27 اسکیمز مختص ہوئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سال 21-2020 میں 8 ارب 30 کروڑ 20 لاکھ روپے کی 10 اسکیمز، سال 20-2019 میں 8 ارب 50 کروڑ 88 لاکھ روپے کی 13 اور 19-2018 میں 14 ارب 26 کروڑ 67 لاکھ روپے کی 22 اسکیمز مختص کی گئیں۔ وزیراعلیٰ نے لکھا کہ  اگست 2018 میں جب سے یہ حکومت اقتدار میں آئی ہے سندھ کے عوام کے ساتھ ناانصافی کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی ملک میں سڑکوں کے بڑے منصوبے تعمیر کرتی ہے لیکن دیگر صوبوں کے مقابلے میں سندھ کو دی گئی اسکیمز میں بڑا فرق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سال 22-2021 میں پنجاب کے لیے 32 ارب 15 کروڑ 15 لاکھ روپے کی 22 اسکیمز، خیبرپختونخوا کے لیے 41 ارب 25 کروڑ 64 لاکھ روپے کی 21 اسکیمز اور بلوچستان کے لیے 24 ارب 15 کروڑ روپے کی 15 اسکیمز تجویز کی گئیں جبکہ سندھ کے لیے 7 ارب 11 کروڑ 19 لاکھ روپے کی صرف 2 اسکیمز مختص کی گئیں۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ میں جانتا ہوں کہ مندرجہ بالا اعداد و شمار ناقابل یقین ہیں لیکن بدقسمتی سے یہی حقیقت ہے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ این ایچ اے کے پورٹ فولیو میں سندھ کے لیے مختص 2 اسکیمز میں سے ایک سیہون جامشورو روڈ ہے جس کی مجموعی لاگت 14 ارب روپے ہے اور اس میں سے 50 فیصد رقم صوبائی حکومت اپریل 2017 میں فراہم کرچکی ہے۔

4 سال سے جاری منصوبے میں نصف سے بھی کم سڑک مکمل کی گئی جس کے نتیجے میں متعدد حادثات میں کئی ہلاکتیں ہوئیں جن کی ذمہ داری وفاقی حکومت ہے۔ انہوں نے وزیراعظم پر زور دیا کہ یک طرفہ پی ایس ڈی پی پروگرام پر نظرِ ثانی کریں اور 'متوازن ترقی اور علاقائی مساوات کے لیے آئینی شرائط پر عملدرآمد کریں۔