یہ کیا ماجرا ہے؟

انیسویں صدی میں بچوں کے   اردو ادب  میں باکمال کام کرنے والے شاعر اسماعیل میرٹھی کا نام  کسے یاد نہیں۔ ان کی  نظمیں بچوں کی ذہنی سطح اور میلان کے مطابق کہی گئیں، اسی لئے بہت مقبول ہوئیں۔  ان کی مشہور نظموں میں سے ایک نظم  برسات ہے جس  کا  ایک شعر  ضرب المثل  ہوا:

یہ دو دن میں کیا ماجرا ہو گیا

کہ جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا

یہ شعر ہمیں گزشتہ ایک ڈیڑھ ہفتے سے  بار بار یاد آرہا ہے۔  وہ یوں کہ  حکومت کو سالانہ بجٹ  سے قبل اچانک احساس ہوا کہ  جی ڈی پی کی سالانہ  شرح نمو جسے اس سال کے آخر تک بمشکل دو فیصد سمجھا جا رہا تھا، وہ اصلاٌ اس سے دو گنا ہے۔  یقین  پختہ ہونے پر حکومت نے اعلان کیا کہ صاحبو! واضح رہے کہ اس مالی سال کے اختتام  تک  جی ڈی پی کی سالانہ شرح نمو  3.94%  تک پہنچنے کی توقع ہے۔   دو دن میں  سالانہ شرح نمو کا جنگل ہرا ہونے پر اصولاٌ تو سب کو خوشی ہونی چاہئے تھی مگر   ماہرین سب  بیک زبان ہوگئے کہ یہ کیا ماجرا ہے؟  کہاں تو یہ کہ  ایک مہینہ پہلے  بجٹ اسٹریٹجی پیپر وفاقی کابینہ نے منظور کیا اور اسے آئی ایم ایف کے  ساتھ شئیر بھی کیا،  جس کے مطابق  جاری مالی سال کے لئے جی ڈی پی کی شرح نمو کا تخمینہ 2.9%  لگایا گیا۔  معروف ماہر معیشت  ڈاکٹر  عبدالحفیظ پاشا  انگشت بدنداں ہوئے کہ چند ہفتوں میں ایسا کیا ہوگیا کہ یہ تخمینہ 3.94% ہو گیا۔

 ڈاکٹر پاشا کے بقول  اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے اندازے کے مطابق متوقع شرح نمو  2.8% to 3% متوقع ہے۔ جبکہ ورلڈ بنک کا تخمینہ  1.5% اور آئی ایم ایف کا اندازہ  2% تھا۔ انہیں اس بات پر حیرانی ہے کہ ایک طرف تو حکومت انرجی سیکٹر میں 23% کمی کا اقرار کر رہی ہے،  جبکہ دوسری طرف  انڈسٹریل سیکٹر میں ٹھیک ٹھاک  بہتری  کی نوید دے  رہا ہے۔ امسال کاٹن کی ریکارڈ کم  پیداور کے بعد اچانک زرعی سیکٹر میں شرح نمو چھلانگیں کیسے مارنے لگی؟  ٹرانسپورٹ اور کمیونی کیشن سیکٹر بھی  مندے کا شکار ہے، یہی حال  ہول سیل اور ریٹیل سیکٹر کا بھی ہے۔  اس سب  میں کمی ہوتے ہوئے پہلے سے متوقع اندازے ہی پورے ہونے پر سوالیہ نشان تھے مگر اب حکومت مصر ہے کہ  دو دن  میں  شرح نمو کا جنگل ہرا  ہو گیا ہے۔

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے فوراٌ  نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے اس تازہ ترین تخمینے کو اپنی حکومت کی جاری پالیسیوں  کا ثمر بتلایا، اور نوید سنائی کہ اب ترقی کا سفر شروع ہوچکا، اب معیشت اوپر اٹھ رہی ہے۔  وی شیپ  معاشی بحالی  زراعت، انڈسٹری اور سروسز سمیت  تینوں سیکٹرز  میں بہتری  کا سبب ہے۔  اپوزیشن  کا اصرار ہے کہ یہ سب اعدادوشمار کا گورکھ دھندا  ہے۔ شہباز شریف، ن لیگ اور پیپلز پارٹی  کی تنقید کا خلاصہ یہ ہے کہ   جو کہا جھوٹ ہے، جو سنایا جا رہا  ہے افسانہ  ہے۔ مہنگائی  بلند ترین سطح پر ہے، بھوک اور افلاس نے  غریبوں کے گھروں میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔  اشیائے خوردونوش سمیت تمام اشیائے ضروریہ عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہیں۔ 

یہ ماجرا کیا ہے؟ حکومت کے بہی خواہ بتلا  رہے ہیں کہ گزشتہ سال  اسٹیٹ بنک نے  شرح سود  میں پانچ فیصد  کمی کی، کووڈ 19  کے اثرات کے مقابلے کے لئے سینکڑوں ارب روپے کے سستے قرضے اور مراعات دیں، احساس پروگرام کے تحت  سینکڑوں ارب روپے ڈائریکٹ   حقدار عوام تک پہنچائے، ان سب معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ معیشت کے تنِ مردہ میں جان پڑ گئی ہے۔ ہاں پچھلے سال  معاشی نمو  میں کمی  کی وجہ سے سال بہ سال تقابل لامحالہ بہتر ہے۔  برآمدات میں  گیارہ ماہ کے دوران 14% اضافہ ہوا ہے۔  بیرون ملک ترسیلاتِ زرکی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ مسلسل سرپلس ہے۔

ناقدین کی سنیں تو وہ نقشہ بالکل الٹ بتاتے ہیں۔ ان کے بقول امپورٹس میں اضافہ اسی عرصے میں 22% ہوا ہے۔ تجارتی خسارہ  تیس فی صد کے لگ بھگ بڑھا ہے۔ اس کا لامحالہ نتیجہ  روپے کی شرح مبادلہ پر پڑے گا۔  افراطِ زر پچھلے دو تین ماہ میں بڑھا ہے۔ ترسیلاتِ زر کے باوجود  کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ  چار سے چھ ارب  ڈالرز بڑھنے کا اندیشہ ہے۔نئے وزیر خزانہ شوکت ترین کے بقول ن لیگ نے 2018 میں قرض لے کر گروتھ دکھائی، روپے کو مصنوعی طور پر مضبوط رکھا، جس سے  خسارہ بیس ارب ڈالرز  تک پہنچا دیا۔   بقول ان کے  آئی ایم ایف کو صاف بتا دیا  ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں مزید  اضافہ نہیں کرسکتے کہ عوام اور انڈسٹری میں سکت ہی نہیں۔ سرکلر ڈیبٹ2.3   ٹریلین روپے تک روکنے کی کوشش کریں گے۔ نئے  ٹیکسوں کی بابت آئی ایم   ایف کی نہیں مانیں گے۔  بقول ان کے عوام  دوست اور معاشی ترقی  کا حامل بجٹ ہوگا۔اگلے مالی سال کے لئے جی ڈی پی  کی شرح نمو  کا اندازہ پانچ چھ فیصد تک لگاتے ہیں۔

معیشت ایک پیچیدہ موضوع ہے۔ پولیٹیکل اکونومی   کی سیاسی ضرورتوں اور مہم جوئیوں نے گزشتہ پچیس تیس سالوں  کے دوران  معیشت کی  چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ دو تین سال منفی گروتھ اور اس سے اگلے دو تین سال مثبت گروتھ کے شادیانے یعنی    تھوڑی بہت  کمی بیشی کے ساتھ ماضی قریب کی   تقریباٌ تمام حکومتیں اسی دائرے میں سفر کرتی رہی ہیں۔   حکومت سنبھالنے پر آئی ایم ایف کی مجبوری،  مشکل فیصلوں کا نزلہ عوام پر، روپے کی شرح مبادلہ  مزید  کمزور،  افراطِ زر بے قابو،  پژمردہ شرح نمو۔ مگر  پھر اچانک  آخری  ڈیڑھ دو سالوں میں  الیکشن  کے آمد آمد کی دھمک سنتے ہی حکومتوں کو گروتھ کی سوجھتی ہے۔

ڈویلپمنٹ اور افراسٹرکچر  پر سرمایہ کاری اور  معاشی مراعات کا  اِذن عام ہو نے لگتا ہے، خزانے اور پلاننگ سے جو بھی زائچہ برآمد ہوتا ہے، سب گھروں میں اچھے لگن کی گواہی دیتا ہے۔اب یہ  سب کچھ دیکھا بھالا سا لگتا ہے۔  پی ٹی آئی حکومت بھی دائرے کے اس  سفر میں اُسی  مقام پر آ پہنچی ہے۔  چند ہفتوں میں  شرح نمو کے تخمینے  میں حیرت انگیز  اضافے کا   بظاہر  وہی ماجرا  ہے جو ماضی قریب کی سب حکومتوں کے آخری ڈیڑھ  دوسالوں میں ہوتا آیا۔