گھوٹکی کے قریب گاڑیوں کے تصادم میں 40 افراد جاں بحق

  • سوموار 07 / جون / 2021
  • 4170

پاکستان کے صوبہ سندھ میں گھوٹکی کے قریب سرسید ایکسپریس اور ملت ایکسپریس میں تصادم کے نتیجے میں حکام کے مطابق کم از کم 40 افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

ترجمان ریلوے کے مطابق یہ حادثہ گھوٹکی میں ریتی ریلوے سٹیشن کے قریب پیر کی صبح پیش آیا اور حکام کا کہنا ہے کہ جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں اور ایک بوگی میں متعدد مسافر اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب کراچی سے سرگودھا جانے والی ملت ایکسپریس کی بوگیاں پٹڑی سے اتر کر ڈاؤن ٹریک پر جا گریں اور راولپنڈی سے آنے والی سرسید ایکسپریس ان سے ٹکرا گئی۔

اب تک 40 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 100 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 35 شدید زخمی ہیں۔ حادثے کے نتیجے میں ملت ایکسپریس کی بوگی نمبر پانچ اور چھ سرسید ایکسپریس کے انجن کی زد میں آئی تھیں اور اب بوگی نمبر چھ سے زخمیوں اور لاشوں کو نکالنے کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ دوسری بوگی سے ریسکیو کا عمل جاری ہے۔

100 سے زیادہ زخمیوں میں سے 50 مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں جبکہ ایسے مریضوں کو طبی امداد دے کر فارغ دیا گیا ہے جنھیں ممعولی چوٹیں آئیں تھیں۔ ڈی ایچ او کے مطابق جائے حادثہ کافی دور ہے اور یہ ٹریک مرکزی شاہراہ سے کافی اندر کی طرف ہے، جہاں گاڑیاں پہنچنے میں دشواری ہوئی۔ زخمیوں کو ڈی ایچ کیو میرپور ماتھیلو منتقل کیا گیا ہے اور جن کی حالت تشویشناک ہے انھیں رحیم یار خان منتقل کیا جا رہا ہے۔

جائے حادثہ پر ٹرین کی بوگیوں میں پھنسے مسافروں کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں جن میں ایدھی رضا کار بھی شامل ہے۔ ٹرین کی بوگیوں کو کاٹ کر ان کے تلے دبے مسافروں کی تلاش بھی کی جا رہی ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فوج اور رینجرز کے دستے بھی جائے حادثہ پر امدادی سرگرمیوں میں مدد دے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق پنوں عاقل سے ایمبولینس کے ساتھ فوجی ڈاکٹر اور طبی عملہ بھی حادثے کی جگہ پر پہنچے ہیں جبکہ فوری امدادی اقدامات کے لیے ملتان سے ہیلی کاپٹر بھی بھیجے گئے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں حادثے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ’آج صبح ٹرین کو گھوٹکی کے مقام پر پیش آنے والے ہولناک حادثے اور اس کے نتیجے میں 30 مسافروں کی موت پر بے حد رنجیدہ ہوں۔ وزیر ریلوے کو جائےحادثہ پر پہنچنے، زخمیوں کیلیے مکمل طبی امداد کا اہتمام یقینی بنانے اور ہلاک افراد کے اہلخانہ کو بھرپور معاونت فراہم کرنے کی ہدایات دی ہیں۔ اس کے ساتھ ریلوے کے حفاظتی نظام میں نقائص کی نشاندہی کیلیے جامع تحقیقات کے احکامات بھی صادر کر رہا ہوں۔‘

وفاقی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے 24 گھنٹے کے اندر حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ کمشنر سکھر کو فون میں وزیر اعلیٰ نے تمام ضلعی انتظامیہ کو متحرک کرنے اور مسافروں کو نکالنے کے لیے فوری طور پر مشینری کا بندوبست کرنے کی ہدایت کی ہے۔