ایک گُم راہ قوم کا المیہ

گُم راہ  ہونا بظاہر ایک خطرناک لفظی ترکیب لگتی ہے جب  کہ اصل میں اس کا سیدھا  سادہ مطلب  اپنا راستہ کھو بیٹھنا  ہے۔ یہ راستہ قانونی بھی ہے، آئینی بھی ہے اور مذہبی بھی۔

 مذہب نے راستے کو صراط کا نام دیا ہے اور راستے پر چلنے والے دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن پر اللہ کی نعمتیں  ارزاں ہوئیں اور دوسرا وہ جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا۔  چنانچہ مذہب کی بنیاد پر استوار معاشرت اُس راستے پر چلتی ہے ، جو اُسے نفع دیتا ہے۔ جیسا کہ سورہ یونس میں اشارہ دیا گیا ہے کہ:

 تو کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ وہ ایمان لاتی تو اُس کا ایمان اُسے نفع دیتا ۔ سورہ یونس۔ ۸۹

لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم  من حیث القوم  نفع میں نہیں خِسارے میں ہیں اور خسارے کی سب سے  مضبوط  اور  واضح گواہی یہ ہے  ہم نے ۷۴۹۱ میں جس  کارواں  کے ساتھ آزادی کا مارچ کیا تھا، اُس میں سے نصف سے زیادہ آبادی  ہم سے بچھڑ گئی اور اُس نے اپنی شناخت تک بدل لی۔  اور یہ  کام یونہی نہیں ہوا بلکہ  پوری  قوم کو آگ اور خون کے دریا سے گزرنا پڑا اور شکست اور قید کی  سزا سہنی پڑی۔ یہ سزا صرف ملکی افواج کو ہی نہیں پوری قوم کو سہنی پڑی  جس کے نیتیجے میں  ہماری نظریاتی اساس مجروح ہوئی اور ہم  رسوائی کے  جوہڑ میں جا گرے۔  ہم جنہیں اخوت، بھائی چارے اور مساوات کا درس دیا گیا تھا،  ٹوٹ کر دو  ٹُکڑوں میں تقسیم ہو گئے۔  ملک کی باون فی صد آبادی جو ملکی اکثریت تھی، جس نے مسلم لیگ کی بنیاد رکھی تھی اور قرار دادِ لاہور  پیش کرنے والا  مولوی فضل الحق ایک بنگالی مسلمان تھا،  وہ ہم سے روٹھ گئی ۔ ہمارا مشرقی  پاکستان ہم سے جُدا ہوگیا اور ہمارا نظریاتی ہیولیٰ ایک بازو سے محروم ہو گیا ۔

 تب سے اب تک ہم ایک بازو سے اپنی نظریاتی کتاب تھامے ہوئے ہیں  جب کہ ہمارے بچھڑنے والے بھائی  اقتصادی ترقی میں ہم سے کہیں آگے نکل گئے ہیں۔  یہ جدائی ایک سزا تھی جسے سہ کر ہم نے  کچھ نہیں سیکھا اور اب پھر سندھ، پنجاب، پختونخواہ اور  بلوچستان کی بویاں بول کر  نفرتیں پال رہے ہیں حالانکہ  کہ ہماری نظریاتی  تعلیم یہ  کہتی ہے کہ ہم مسلمان آپس میں بھائی ہیں۔ مگر کہاں؟ یہاں تو بھائی پھر  مشرقی اور مغربی بازو والں کی طرح جوتیوں میں دال بانٹ رہے ہیں۔ پنجاب اور سندھ میں پانی کی تقسیم پر جھگڑا ہو رہا ہے۔  وفاق اور سندھ  ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں جس سے پاکستانیت کا پہلا اصول  اتحاد جسے قائد اعظم نے وضع کیا تھا، اپنی موت مر چکا ہے ۔  ہم متحد نہیں، ہمارا ظاہری اتحاد ہماری ریاستی مجبوری ہے ورنہ دل سے ہم ایک دوسرے کے ساتھ نہیں ہیں اور یہ ہمارے بیانات اور رویے بتاتے ہیں۔  اور جب اتحاد نہ رہے تو تنظیم نہیں ہوتی جس اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی قوم اپنا ایمان کھو چکی ہے۔  اور یہ ہماری گمرہی کی دوسری گواہی ہے۔

ہمارے سیاستدانوں کے بیانات اور اُن کی زبان میں تلخی اور ایک دوسرے کے عدم احترام سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہم  قرآن کے احکامات کی صریح خلاف ورزی کرتے ہیں  جب کہ قرآن کا واضح حُکم ہے کہ:

لا تفسدو فی الارض  یعنی اللہ کی زمین پر فساد برپا نہ کرو مگر ہمارے سیاستدان اور اُن کے شریکِ سیاست  صحافی بھائی  دن رات ایک دوسرے کی پگڑیاں، ٹوپیاں اور وِگیں اچھالتے رہتے ہیں۔ یہ بد کلامی  قرآنِ حکیم کے ایک اور حکم  قولو للناسِ حُسنا کی صریح خلاف ورزی ہے کہ لوگوں سے حُسنِ اخلاق سے بات کرو مگر ہم  جو گمراہ لوگ ہیں خُدا کے احکامات کو بھی در خُورِ اعتنا نہیں سمجھتے۔ اور اپنے رہنما قرآن کو غلاف میں لپیٹ کر تاب دان پر رکھ دیتے ہیں اور اُس کے نیچے بیٹھ کر ایک دوسرے کی عزت و آبرو پر زبانی حملے کرتے ہیں۔ یہ ہمارا عمومی رویہ ہے۔  اور تو اور کچھ لوگوں کی  عام بات چیت بھی ماں بہن کی گالی کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔  پاک سرزمین کی گلیوں میں گالیاں بھڑوں اور  سیاہ بھنوروں کی طرح اُڑتی پھرتی ہیں اور  سڑکیں، گلیاں اور چوراہے  کوڑے کے ڈھیروں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

افسوس تو اس بات کا ہے کہ جس قوم کو سکھایا گیا تھا کہ صفائی نصف ایمان ہے، وہ بہتر برس میں اپنا اجتماعی ایمان مکمل ہی نہیں کرسکی، اور اُن کے نیم مسلمان ہونے کے لیے صرف یہی گواہی کافی ہے کہ وہ پاک سرزمین کو پاک نہیں رکھ سکے۔  شاید ہمارے لیے  مذہب صرف قول تک محدود ہے  اور اُس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم  نے دین کو  زبانی  عقائد تک ہی محدود کردیا ہے اور  عملوں کی گواہی  سے  منحرف ہو گئے ہیں۔ اقبال نے کہا تھا:

عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ

ہمیں سختی سے حُکم دیا گیا  ہے کہ ہم غیبت نہیں کریں گے اور غیبت کو مردہ بھائی کا گوشت کھانے جیسی مکروہ اور حرام کارروائی قرار دیا گیا ہے مگر ہم مسجدوں میں بیٹھ کر بھی یہ حرام کھاتے ہوئے ذرا سا بھی نہیں جھجکتے۔ شاید ہم خپدا پر ایمان ہی نہیں رکھتے۔ ہمیں پڑھایا گیا ہے کہ خپدا حاضر و ناظر ہے، وہ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ نزدیک ہے اور ہمیں دیکھ رہا ہے مگر رب کو اتنا قریب پا کر بھی ہم کرپشن، رشوت، منی لانڈرنگ، اور دوسرے کا مال ناجائز ہڑپ کرنے سے  باز نہیں آتے اور پھر اُمتِ خیر ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں اور عشقِ رسول ﷺ کی  قوالی بھی گاتے رہتے ہیں۔  ہر  شخص جس کو مسلمان ہونے کا وہم ہوجاتا ہے، مدینے جانے کی آرزو کرتا ہے۔ مدینے کا سفر استطاعت سے مشروط ہے لیکن نبی ﷺ کی سیرت تک رسائی توفیقِ عمل کی بات ہے۔ ہم اُس توفیق  سے مشرف ہونے کے بجائے سفر کے لیے تڑپتے رہتے ہیں کہ: میرے مولا بلا لو مدینے مجھے۔

مدینے جانا کسی بھی ایسے شخص کے لیے  ممکن ہے جس کے پاس سفر خرچ ہو اور ٹکٹ خرید سکے  لیکن اس بات کی  کیا ضمانت ہے کہ اُس کا سفر بارگاہِ حق میں قبول بھی ہو گا کہ نہیں۔  لیکن اس کے باوجود ہمارا اصرار ہے کہ ہم دنیا کی بہترین اُمت ہیں لیکن اس کا ثبوت ہم اپنے اعمال سے نہیں دے سکتے  کیونکہ عمل کے گواہی کے بغیر ہر دعوےٰ  جھوٹ ہوتا ہے خواہ وہ مذہبی دعویٰ ہی کہیں نہ ہو۔  مسلمان ہونے کے لیے کمہ طیبہ اور کلمہ  ء شہادت  کا زبانی یاد ہونا ہی کافی نہیں بلکہ  اس کے لیے خپدا اور رسول کے قونین  کے مباطق زندگی بسر کرنا بنیادی شرط ہے۔ قرآنِ حکیم قانون کی کتاب ہے جس میں وہ تمام قوانین بیان کیے گئے ہیں جن پر چل کر، جن پر عمل پیرا ہو کر ہم اسلام میں شامل ہوسکتے ہیں۔ اور محض  زبانی فریب کاری سے خود کو مسلمان قرار دینا  زبانی فریب کاری دجل اور  منافقت ہے۔ اقبال نے اس کو یوں بیان کیا ہے:

خرد نے کہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل

دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم آٹھ لاکھ مساجد اور کروڑوں مذہبی کارکنوں جن میں حفاظ، خطیب، مفتی، پیش امام  اور مدرسوں کے اساتذہ شامل ہیں ، بہتر سال میں ایک قوم کو تربیت دے کر صحیح معنوں میں ایسا مسلمان نہیں بنا سکے جس کے اعمال بولتے ہوں۔ ہمارا ھال یہ ہے کہ روشت کے بغیر دفتروں مین کاغذ حرکت نہیں کرتا اور ہم عشقِ رسول ﷺ کا دعویٰ کرنے والوں کو رشوت لیتے اور دیتے وقت یاد ہی نہیں رہتا کہ  ایسا

کالا کاروبور کرنے والوں کونبی ﷺ نے دوزخی قرار دے رکھا ہے۔ مگر ہم کیا کریں یہ گمرہی ہمارا نصیب ہے۔