افغانستان اور پاک امریکہ تعلقات
- تحریر افتخار بھٹہ
- سوموار 07 / جون / 2021
- 7130
افغانستان سے امریکی فوجوں کے بتدریج انخلا کاآغاز ہو چکا ہے۔ اہم ایئر بیس بڈگرام کو بھی افغان فوج کے حوالہ کیا جارہا ہے۔ یہ تمام اقدامات قطر(دوہا) طالبان اور امریکہ معاہدے کے تحت اٹھائے جارہے ہیں جن پر افغان حکومت اور طالبُان نے جزوی طور پر عملُ کیا ہے اس عمل میں پاکستان نے بھر پور سہولت کاری کی ہے۔
طالبان نے مزید مذاکرات کیلئے استنبول کانفرنس میں حصہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔طالبان نے افغان سیکورٹی فورسز کو کمزور جانتے ہوئے مختلف علاقوں پر قبضہ کرکے انہیں امارت کا حصہ بنانا شروع کردیاہے۔ قید میں آنے والے افغان فوجیوں اور مخالفین کو حلف نامہ لینے کے بعد چھوڑا جاتا ہے کہُ وہ آئیندہ ان کے خلاف کسی منفی عمل کا حصہ نہیں بنئیں گے۔ طالبان کا زور بڑھنے پر پاکستان میں ان کی مسلکی حامی اور دائیں بازو کی جماعتیں خوش ہیں۔یاد رہے 2018 کے انتخاُبات میں انہوں نے مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کو نظریاتی حامی قرار دیا تھا جبکہ حملوں کا نشانہ پیپلزپارٹی اور اے این پی کے لوگ بنے۔مجھے مستقبل کی صورتحال تشویشناک دیکھائی دیتی ہے اور اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑتے ہوئے دیکھائی دیکھتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے لئے بیک وقت طالبان اور امریکہ کو راضی رکھنا ممکن نہیں ہے۔
ابھی تک امریکہ کا افغان مسئلے پر پاکستان کے ساتھ حکومتی سطح پر براہ راست رابطہ نہیں ہوا ہے۔ بائیڈن حکومت خود کو افغان معاملے سے باہر نکالنے کے ساتھ صورتحال پر نظر رکھنے کیلئے ایئر بیس بھی چاہتی ہے۔ ماضی میں نیٹو کی فوجی افغانستان میں مو جودگی اور راہداری روکنے کے اقدامات سے لگتاہے عمران حکومت ایسا نہیں کرے گی۔ لیکن فیصلہ ان کو اقتدار کی سہولت کاری فراہم کرنے والے نظریاتی گہرائی کی وجہ سے طالبان کو اپنااثاثہُ قرار دیتے رہے ہیں۔
افغانستان کے دیہی علاقے تیزی سے طالبان کے قبضہ میں آرہے ہیں۔شہروں پر گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔نیویارکُ ٹائمزُکی رپورٹ کے مطابق اگر افغان متحارب گروہوں کے درمیان شراکت اقتدار کامعاہدہ طے نہیں پاتا اور امریکی انخلاء سے پیدا ہونے والی صورتحال گریٹر پلان کا حصہ ہوگی جس کے کھلاڑی ہندوستان،ایران، روس اور چین ہوسکتے ہیں۔ اس آگ کو اپنی طرف بڑھنے سے روکنے کیلئے پاکستان کو اس جنگ میں کودنا پڑ سکتا ہے۔ پاکستان چاہتا ہے امریکی فوج کے نکلنے سے پہلے افغان مسئلے کا سیاسی حل نکلنا چاہئیے۔
جوبائیڈن کو برسر اقتدار آئے ہوئے چھ ماہ عرصہ ہو چکا ہے افغان مسئلہ کے حل کے بارے میں کوئی سنجیدہ بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ایک ملاقات امریکی نیشنل سیکورٹی مشیر اور معید یوسف کے جنیوا میں ہوئی ہے جس سے معلوم ہوتا امریکہ صر ف افغانستان سے نکلنا چاہتاہے۔پینٹا گان کے ایک ترجمان نے کہا ہے امریکی حکومت اس ضمن میں پاکستان سے رابطے میں ہے۔امریکہ یہ بھی چاہتا ہے راہداری کی سہولت بھی رہے۔امریکی سیکریڑی آف سٹیٹ نے کہا ہے ان کی اس معاملے میں حمایت پاکستان کے مفاد میں ہے۔مستقبل میں ذراسی غلطی کئی پیچیدہ مسائل پیدا کرسکتی ہے۔
افغانستان پر طالبان کے قبضے کی صورت میں سرحدی علاقوں میں دہشت گردی بڑھ سکتی ہے پاکستان میں موجود ان کے حامیوں کو تقویت مل سکتی ہے۔طا لبان کی اکثریت پختون اور ایک مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔ افغانستان ایک کثیر القومی اور نسلی ملک ہے۔وہاں پر نسلی اور قومیتی تقسیم بہت بڑی فالٹ لائن بن سکتی ہے جو خانہ جنگی کا سبب بن سکتی ہے۔طالبان کے قبضہ سے بھارت کیلئے سیکورٹی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ افغان حکو مت کی حمایت کرتا ہے۔ ہندوستان اپنے مقاصد کے حصول کیلئے متبادل حکمت عملی بنا سکتاہے جوہمارے لئے نقصان دہ ہو جیسا کہ وہ بلوچستان میں کر رہاہے۔
پاکستان نے افغان بارڈر پرخاردار باڑ لگادی ہے جبکہ ایرانی سر حد کے ساتھ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ ہمارے ہمسایہ ملک کوئی پراکسی وارشروع کروا سکتے ہیں۔اتحادی افواج کے انخلاکے بعد پاکستان کو بے پنا ہ چیلنجز ہیں اسی لئے عمران خان نے کہاہے اب افغان گہرائی کی حکمت عملی کو تبدیل کرنا اورصرف پاکستانی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہوگی۔ قبائلی علاقوں کو پختون خواہمیں ضم کرنا اسکی اہم کڑی تھی۔پاکستان کو اسے ایک صرف سیکورٹی مسئلہ سمجھنے کی بجائے متفقہ کثیرالاقومی حکومت کے قیام کیلئے کوشش کرنی چاہیئے۔کیونکہ علاقائی امن افغانستان کے امن سے وابستہ ہے۔پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اس مسئلے حل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہو گا۔