آزاد کشمیر انتخابات میں قبیلہ سیاست

باشعور اور بیدار عوام کسی بھی سیاسی پارٹی اور امیدوار کو اس کی سیاسی، اقتصادی یا کسی بھی قومی اشو اور اجتماعی پروگرام کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں۔

اجتماعی اشوز کی نشان دہی، تعین اور ان کے حل کے لیے کوئی موثر پالیسی اور منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ مسائل کے حل کے لیے وسائل پیدا کرنا بھی سیاست دانوں کا کام ہوتا ہے۔ لیکن آزاد کشمیر ایک بد نصیب خطہ ہے جہاں سیاسی و اقتصادی سوچ و فکر دن بدن ماند پڑتی جا رہی ہے۔ الیکشن صرف دو بنیادوں پر لڑے جاتے ہیں۔  برادری ازم اور شخصیت پرستی۔  1980 کی دہائی ہماری بلوغت کا آغاز تھا۔ 1985 میں جمہوریت کے نام پر شروع ہونے والی موروثیت سے قبل آزاد کشمیر میں مختلف قبائل کے درمیان بڑی ہم آہنگی ہوا کرتی تھی۔ انسان کی بڑی قدر و قیمت تھی۔لوگ کردار سے محبت کیا کرتے تھے۔ گائوں میں لوگ ایک دوسرے کو راجہ صاحب، چوہدری صاحب یا مغل اور بٹ صاحب کے بجائے چچا جی ماموں جی خالہ جی اور بھائی جان کہہ کر مخاطب کیاکرتے تھے۔

جوں ہی جمہوریت کے نام پر الیکشن شروع ہوئے تو قبیلوں کے نا اہل سیاستدانوں نے قبائیلی تعصب کو ہوا دے کر اپنے ذاتی سیاسی مقاصد حاصل کرنا ایک مؤثر طریقہ بنا لیا۔  ان سیاستدانوں نے پہلے قبیلوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کیا پھر قبیلوں کے اندر بھی لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا۔  تعلیم یافتہ نوجوان جو کسی بھی قوم کی امید کی کرن ہوتے ہیں ان کی نوکریاں پارٹی وفاداری یا سیاست دانوں کی شخصی وفاداری کے ساتھ مشروط کر دی گئیں۔  تعلیم یافتہ نوجوانوں نے اپنا راستہ تلاش کرنے اور اجتماعی نصب العین کو سامنے رکھنے کے بجائے ذاتی وفاداری کی بنیاد پر ذاتی کام نکال کر وقت کو دھکا دینے پر اکتفا کیا۔ 

اب قبائیلی تعصب اتنا زور پکڑ گیا ہے کہ سیاست دانوں کو ایک دوسرے کے خلاف الیکشن میں مہم چلانے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ کام سیاست دانوں کے لیے قبیلوں کے لوگ خود سر انجام دیں گے۔ آج یہاں آپ کسی بھی پروفیسر ، انجنئیر ، ڈاکٹر اور کاروباری شخصیت سے پوچھیں کہ وہ کس پارٹی یا امیدوار کو کس بنیاد پر ووٹ دے گا تو جواب کوئی ویژن کردار یا صلاحیت یا کار کردگی و کارگزاری نہیں ہو گی بلکہ قبیلے کا تعلق ہو گا۔ معاشرے کے اندر کچھ ایسے گنے چنے لوگ بھی موجود ہیں جو اس نفرت کو ختم کر کے میرٹ و انسانیت اور انسانی قدروں کی بنیاد پر معاشرتی زندگی استوار کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ہر قبیلے کے باشعور اور باصلاحیت لوگ ایک اجتماعی جد و جہد کریں۔ کیونکہ ایک انسان یا قبیلہ اگر امن اور انصاف پسند ہو بھی جائے مگر اجتماعی نظام درست نہ ہو تو بھی گزارا نہیں۔ 

اس وقت ہماراسب سے بڑا قومی اشو ریاست جموں کشمیر کی وحدت ہے جو کسی بھی الیکشن امیدوار اور تعلیم یافتہ نوجوان کی زبان پر نہیں۔  الیکشن امیدواروں نے یہی رٹ لگا رکھی ہے کہ اگر آپ کا قبیلہ ہار گیا تو آپ کی زندگی ختم ہے اور تعلیم یافتہ نوجوان اس دوڑ میں ہے کہ بغیر کسی ٹیسٹ کے اسے نوکری دے دی جائے۔   غبار ہی غبار کی موجودگی میں اس فرسودہ نظام کے خلاف جد و جہد کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ 

آزاد کشمیر کے تمام قبائل کے ان باشعور اور با غیرت افراد سے میری درخواست ہے کہ جو اس فرسودہ نظام سے  چھٹکارا چاہتے ہیں، وہ قبیلوں کی سرحدیں عبور کر کے متحد ہو جائیں۔ اور تعلیم یافتہ نوجوان سب سے پہلے اپنی ریاست کو مکمل تقسیم ہونے سے بچانے میں کردار ادا کریں۔