افغانستان: تشدد میں اضافے کے بعد لوگوں کی نقل مکانی
- منگل 08 / جون / 2021
- 6520
افغانستان میں حالیہ عرصے میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات اور شہری ہلاکتوں میں اضافے کے بعد مقامی آبادی کی ایک بار پھر ہمسایہ ممالک کی جانب نقل مکانی کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
افغانستان میں طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی تشویش ناک شکل اختیار کر گئی ہے اور کئی علاقوں میں طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان اب بھی جھڑپیں جاری ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل قریب میں فریقین کسی تصفیے پر آمادہ نہ ہوئے تو بڑی تعداد میں لوگ پاکستان اور ایران کی جانب نقل مکانی کر سکتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ عرصے میں ہونے والی جھڑپوں میں شہری ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ ہفتے کی شام صوبہ بادغیس میں سڑک کنارے نصب بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اگرچہ بم دھماکے کی ذمے داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی، تاہم افغان حکومت نے طالبان پر بم نصب کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
افغان تجزیہ کار اور سینئر صحافی جاوید حمیم کاکڑ کا کہنا ہے کہ اس وقت افغانستان کے 22 صوبوں میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر فریقین جلد از جلد کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچے تو صورتِ حال خانہ جنگی کی جانب بھی بڑھ سکتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں بھی شدت پسندی کے باعث تقریباً پانچ لاکھ افراد کے بے گھر ہونے کے بارے میں کہا گیا ہے جس کے باعث بڑے شہروں پر آبادی کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔
یاد رہے کہ طالبان کی جانب سے شدت پسندی میں یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب امریکہ اور نیٹو ممالک نے افغانستان سے اپنے تمام فوجیوں کے انخلا کی ڈیڈ لائن 11 ستمبر طے کر رکھی ہے۔ بعض تجزیہ کار امریکی فوج کے انخلا کے بعد افغانستان میں سیکیورٹی صورتِ حال مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔