کینیڈا میں دہشت گردی مغرب میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کی علامت ہے: وزیراعظم
- منگل 08 / جون / 2021
- 5530
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کینیڈا میں دہشت گردی کا واقعہ مغرب میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کی علامت ہے۔ ٹوئٹر پر جاری بیان میں انہوں نے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ اسلاموفوبیا کے تدارک کے لیے عالمی برادری کی جانب سے اقدامات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کینیڈا میں نفرت کی بنیاد پر حملے میں 4 پاکستانیوں کے قتل کے واقعے کو دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندان کے ساتھ پہلا رابطہ ٹورنٹو میں ہمارے قونصل جنرل کا ہوا، یہ خاندان اس المناک سانحے کے باعث کرب کا شکار ہے۔ حکومت نے خاندان کو میتیں پاکستان بھجوانے کی پیشکش کی تھی تاہم متاثرہ خاندان نے وہیں تدفین کرنے سے متعلق آگاہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ سانحہ میں 3 بے گناہ، بے قصور نسلیں اس واقعے سے متاثر ہوئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی تحقیقات کے مطابق اس واقعے میں اسلاموفوبیا کا عنصر موجود ہے تاہم میرے نزدیک یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے۔ ہمارے قونصل جنرل ٹورنٹو نے بتایا کہ پولیس کا رویہ اطمینان بخش ہے۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مرنے والوں کی لاشیں قابلِ شناخت نہیں، ابھی تک پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار ہو رہا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں بطور پاکستانی وزیر خارجہ، کینیڈین وزیر اعظم سے کہوں گا کہ یہ ان کے معاشرے کا امتحان ہے، وہ کینیڈا میں مقیم مسلمانوں کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ 'میں کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں سے بھی اپیل کروں گا کہ اس متاثرہ خاندان کے ساتھ مل کر اظہارِ یکجہتی کریں اور اگر نماز جنازہ میں شرکت کی اجازت ملتی ہے تو بذات خود اس میں شامل ہوں ورنہ غائبانہ نماز جنازہ ادا کریں'۔