افغان بحران کا کیا ممکن حل کیا ممکن ہوسکتا ہے
- تحریر سلمان عابد
- منگل 08 / جون / 2021
- 5090
پاکستان، افغانستان اور پورے خطے سیاست افغان امن معاہدہ کے ساتھ جڑی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے پر درست نشاندہی کی ہے کہ خطے میں سیاسی اور معاشی استحکام سمیت باہمی تعاون کے امکانات کا براہ راست تعلق اب بھارت کے طرز عمل اور افغان امن سے جڑا ہوا ہے۔
ان کے بقول پاکستان خطہ کے ممالک میں تعاون کے امکانات کو قائم او ربداعتمادی کو کم کرنے یا خطہ کو جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔پاکستان کے سامنے بڑا چیلنج ستمبر میں امریکی فوجی انخلا کے بعد سیکورٹی کی صورتحال ہے۔ پاکستان کی تشویش بجا ہے کیونکہ اس وقت افغان حکومت او رافغان طالبان کے درمیان جو طاقت کی لڑائی چل رہی ہے اس سے معاملات سلجھنے کی بجائے اور زیادہ بگاڑ کا شکار ہورہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا آنے والے دنوں میں افغان امن عمل کے حوالے سے کوئی بڑا بریک تھرو ممکن ہے۔ کیونکہ سب کی نظریں افغان امن معاہد پر ہیں کہ افغا ن امن کب، کیسے ممکن ہوسکے گا۔
افغان بحرا ن کا حل کسی ایک ملک کے پاس نہیں۔ یہ عالمی مسئلہ بنا ہوا ہے۔ بالخصوص اس میں خطہ کے تمام ممالک کی مدد، تعاون اور تدبر کا امتحان ہے۔ یہ سمجھنا کہ پاکستان تن تنہا افغان بحران کا حل نکال سکتا ہے ایک غلط مفروضہ ہے۔ جو لوگ افغا ن بحران کا سارا بوجھ پاکستان پر ڈال کر معاملا ت کو آگے بڑھانے چاہتے ہیں وہ مسئلہ کا حل کم او راس میں زیادہ بگاڑ پیدا کرنے کا ایجنڈا رکھتے ہیں۔افغان امن معاہدہ کی تشکیل او رمختلف مراحل سمیت مذاکرات کے کئی ادوار ہوچکے ہیں۔ 18برس کے بعد افغان حکومت اور افغان طالبان کا معاہدہ بھی تاریخی ہے۔ لیکن ان تمام تر کوششوں کے باوجود معاملات کسی سیاسی تصفیہ کی طرف بڑھنے کی بجائے بداعتمادی کا ماحول پیدا کررہے ہیں۔ یہ موقع تھا کہ افغان امن سے جڑے تمام فریقین افغانستان او رخطہ میں پائیدار امن اور استحکام کے لئے ایک جامع، ٹھوس او روسیع تر سیاسی تصفیہ پر کام کریں۔
بڑا چیلنج افغان حکومت اور افغان طالبان ہیں۔ یہ دونو ں فریق ایک دوسرے کے لیے سیاسی لچک پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں۔ دونوں فریق ایک دوسرے سے سبقت لینا چاہتے ہیں اور اس سوچ کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں کہ ہم مخالف کو فتح کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔حالانکہ مسئلہ ایک دوسرے پر فتح حاصل کرنے کا نہیں بلکہ افغانستان میں امن عمل کو بڑھانا ہے۔ لیکن لگتا یہ ہے کہ دونوں فریقوں کے لئے افغانستان کے امن سے زیادہ ذاتی مفاد اہم ہے۔پاکستان نے کوشش کی کہ عبوری حکومت کی طرف پیش قدمی کی جائے جو افغانستان کے صدر کی مخالفت کی وجہ سے ممکن نہ ہوسکی۔حالیہ دنوں میں تشدد کی نئی لہر بھی صورتحال کو مزید بگاڑ رہی ہے اور اگر امریکی انخلا سے قبل تشدد کی یہ صورتحال ہے تو انخلا کے بعد افغان حکومت کی رٹ کہاں تک قائم رہ سکے گی او ر و ہ کس حد تک اپنی صلاحیت کو دکھاسکے گی کہ ہم افغان امن کو قائم کرسکتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی تصفیہ کے بغیر امریکی فوجیوں کا انخلا یا افغان حکومت او رطالبان کے درمیان پائی جانے والی بداعتمادی ختم ہوسکے گی، امکان بہت کمزور ہے اور خدشات بہت زیادہ ہیں۔پچھلے دنوں پاکستان نے افغان حکومت کو واضح پیغام بھی دیا تھا کہ وہ افغانستان کے باڈرز کو کنٹرول کرے تاکہ افغان سرزمین یہاں دہشت گردی کا سبب نہ بنے۔افغان طالبان سمجھتے ہیں کہ ستمبر میں امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد افغانستان میں ان کی اہمیت بڑھ جائے گی اور افغان حکومت کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر ہم افغانستان میں اپنی سیاسی برتری قائم کرسکتے ہیں۔
ماضی میں امریکہ کی جانب سے افغانستان سے مکمل طور پر لاتعلق ہونا ایک بڑی سیاسی غلطی تھی۔ اس سے افغانستان میں ایک خلا پیدا ہوا جسے انتہا پسندوں او ردہشت گردوں نے اپنی حمایت میں بڑھایا۔ اس کا اب امریکہ، پاکستان سمیت دیگر بڑے ممالک کو اندازہ ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ اس بار امریکی انخلا کے باوجود امریکہ افغانستان کے سیکورٹی اور دیگر معاملات سے لاتعلق نہیں رہ سکے گا۔ اس کی ایک بڑی وجہ اس خطہ میں امریکہ کے حد سے زیادہ اسٹرٹیجک مفادات ہیں او راس تناظر میں جو بھی امریکہ حکمت عملی اختیار کرے گا اس میں افغانستان کو کلیدی حیثیت حاصل ہوگی او راگر ایسا ہوتا ہے تو یہ خود پاکستان کے مفاد میں بھی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ ایک خاص گروپ جو افغانستان کے اندر سے بھی ہے او ران کے تانے بانے باہر بھی ہیں وہ حالیہ امن عمل کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ اس کی ایک شکل ہم نے لند ن میں پاکستان ہائی کمیشن کے سامنے افغان مظاہرہ، توڑ پھوڑ کی بھی دیکھی ہے جو افغانستان میں جاری قتل عام کے خلاف مظاہرے کررہے تھے۔وطن گروپ نے اپنے فیس بک پیچ پر لندن میں افغان سفارت خانے کا ایڈریس شیئر کیا ہے۔ اسی طرح کا ایک مظاہرہ قطر کے سفارت خانے کے سامنے بھی کیا گیا ہے۔ یہ گروپ افغان امن میں پاکستان اور قطر کی شرکت اور امن کی معاونت پر بھی ناخوش ہیں۔ یہ لوگ کون ہیں اور کیا ان کو پاکستان سے پی ٹی ایم کی حمایت بھی حاصل ہے اور کون ان کی سرپرستی کررہا ہے،غور طلب پہلو ہے۔کیونکہ خود افغان حکومت کسی نہ کسی شکل میں پاکستان مخالف مہم کا حصہ بنی ہوئی ہے اور بلاوجہ پاکستان پر الزامات لگا کر خود کو داخلی بحران سے بچانے کی کوشش کررہی ہے، جو دونوں ملکوں میں خلیج پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔
اگرچہ طالبان نے براہ راست پاکستان کا نام لیے بغیر پڑوسی ملک کی طرف اشارہ کرکے پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی زمین غیر ملکی اڈوں کے لیے نہ دیں او راگر ایسا کیا گیا تو ہمارا ردعمل سخت ہوگا۔ اگرچہ پاکستان اس کی کھل کر تردید کررہا ہے لیکن بعض امریکی سابق سفارت کار او رعالمی میڈیا سمیت بہت سے لوگ پاکستان سے بھی یہ حوالہ دے رہے ہیں کہ اس طرز کی کوئی نہ کوئی گفتگو کہیں نہ کہیں ہورہی ہے۔ کیونکہ امریکہ کی اسٹیبلیشمنٹ یا سیکورٹی احکام یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس صورت میں افغان طالبان کی طرف سے مسائل پیدا کرنے کی صورت میں ہم جوابی وار کرسکیں گے، وگرنہ دوسری صورت میں طالبان کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔افغان امن میں بھارت کا کردار اہم ہے کیونکہ وہ اس وقت معاملات کا پرامن حل نہیں چاہتا۔
افغانستان کے اندر سے پاکستان مخالف باتیں ہوتی ہیں یا الزامات لگتے ہیں اس کی وجہ بھی بھارت کا طرز عمل ہے جو افغان امن کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ امریکہ، افغان حکومت او رطالبان کی مدد سے ایسا سیاسی تصفیہ سامنے لائے جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔اسی طرح پاکستان اپنی ان کوششوں میں روس اور چین، ترکی کی حمایت بھی حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔کیونکہ پاکستان سمجھتا ہے کہ افغان امن کا براہ راست تعلق خود پاکستان کی سیاسی، معاشی اور سیکورٹی کی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔
امریکی فوجی انخلا کے بعد پاکستان کا کردار کلیدی ہوگا او رتمام فریقین کا انحصار بھی پاکستان پر ہی ہوگا۔ اچھی بات یہ ہے کہ امریکہ کی افغان پالیسی میں پاکستان کی اہمیت بڑھ رہی ہے او رپاکستان بھی امریکی مشاورت کا حصہ ہے۔ امریکہ کو سمجھنا ہوگا کہ اگر وہ پاکستان کو نظرانداز کی پالیسی اختیار کرے گا تو اس سے سوائے نقصان کے کچھ نہیں ہوگا۔اگر امریکہ پاکستان کی پشت پر کھڑا رہے گا تو افغان حکومت اور طالبا ن کے درمیان مفاہمت اور کچھ لو او رکچھ دو کی بنیاد پر معاملہ سامنے آسکتا ہے، لیکن اس کے لیے امریکہ سمیت دیگر بڑی قوتوں کو پاکستان پراعتماد، بھروسہ اور فیصلوں میں کلیدی حیثیت دینی ہوگی۔