مغرب میں اسلامو فوبیا کیوں ؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 09 / جون / 2021
- 13290
کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو کے شہر لندن میں مذہبی تعصب کے شکار ڈرائیور نے پاکستانی نژاد مسلمان فیملی کو اس وقت گاڑی تلے روند دیا جب وہ اپنے گھر کے باہرچہل قدمی کر رہے تھے۔
اس افسوسناک سانحہ میں خاندان کے 4افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک 9سالہ بچہ زندہ بچ پایا ہے ۔20سالہ قاتل ڈرائیور کے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ وہ کئی دنوں سے مقتول فیملی کی ریکی کر رہا تھا ۔کینیڈا میں ہونے والے اس افسوسناک سانحہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔
کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے واقعہ کو دہشت گردی کی ایک شکل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نفرت پر مبنی اقدام تھا ، ہم لندن کی مسلم کمیونٹی اور پورے ملک میں موجود مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اسلاموفوبیا کیلیے کینیڈا میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔خاموشی سے پنپنے والی یہ نفرت نقصان دہ اور انتہائی شرمناک ہے اسے ختم ہونا ہو گا ۔
کینیڈین لندن شہر کے میئر نے کہا ہے کہ یہ مسلمانوں اور لندن کے شہریوں کے خلاف انجام دیا گیا ایک اجتماعی قتل ہے جس کی جڑ میں بے پناہ نفرت موجود تھی۔ ہمارے دل ٹوٹ گئے ہیں ہم اس خاندان کیلئے افسردہ ہیں جس کی تین نسلیں فوت ہو گئی ہیں۔ لندن سٹی ہال کے باہر موجود پرچموں کو تین روز کیلئے سرنگوں رکھا جائے گا۔
پاکستانی حکمران پارٹی اور اپوزیشن نے اس دلخراش واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اسے اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان سے جوڑا ہے ۔ترکی نے بھی کہا ہے کہ عالمی برادری اسلاموفوبیا کے خلاف مشترکہ کارروائی کرے ۔ صدشکر کہ کسی نے ہنوز یہ نہیں کہا کہ کینیڈا سے معاشی و تجارتی تعلقات ختم کر دیے جائیں یا یہ کہ کینیڈین سفیر کو یہاں سے ملک بدر کر دیا جائے۔ البتہ ہمارے جوشیلے وزیر خارجہ نے یہ ضرور کہا ہے کہ مسلمانوں کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔ بڑی اچھی بات ہے مسلمانوں کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہئے لیکن اگر وہ یہ کہتے کہ ہر اقلیت کمزور یا مظلوم طبقے کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہئے تو شاید ان کی ذمہ داری کا تقاضا زیادہ بہتر سمجھا جاتا ۔
دنیا میں کہیں بھی کوئی زیادتی یا کوئی سانحہ ہو اس پر ایک ردعمل تو یہی ہوتا ہے کہ قاتل یا زیادتی کرنے والے کی پرزور مذمت کی جاتی ہے دوسرے اگر وہاں کی حکومت یا انتظامیہ قاتل کو نہیں پکڑتی یا اس کے خلاف تادیبی کارروائی نہیں کرتی تو ایسی حکومتوں کے خلاف بھی الفاظ کے گولے پھینکے جاتے ہیں۔ سمجھ نہیں آ رہی یہاں کس کے خلاف چڑھائی کریں کیونکہ واردات کے فوری بعد سفاک قاتل کو جائے وقوعہ سے چھ کلو میٹر دور ایک شاپنگ سنٹر سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اور اس پر قانونی تقاضے کے مطابق چوہرے قتل اور اقدام قتل کی فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔ کینیڈین انتظامیہ بشمول وزیر اعظم آنسوؤں سے نہ صرف رو رہے ہیں بلکہ نفرت پر مبنی سوچ کے خلاف آخری حد تک بول رہے ہیں اور یہ عزم دہرا رہے ہیں کہ ہم اپنے یہاں منافرتوں کی بیخ کنی کرکے رہیں گے۔کینیڈین میڈیا اس سوچ کے خلاف سراپا احتجاج بنا ہوا ہے ۔
اگر کسی کو برا نہ لگے تو ایسے ردعمل کا تقابل تھوڑی دیر کیلئے اپنے ہاں وقوع پذیر ہونے والے ایسے ہی سانحات سے کرتے ہیں۔
یہاں مذہب کے نام پر اٹھائی گئی منافرت کی آگ میں کب کب کتنی کتنی انسانی جانیں حق زندگی سے محروم کی جاتی رہی ہیں انتظامیہ کی نااہلیاں تو رہیں ایک طرف، ہمارے سماج میں اس کے خلاف کس قدر غم و غصہ پایا جاتا ہے؟ کیا کبھی کسی نے ان حقائق پر غور کرنے کی ضرورت محسوس کی ہے ؟ درویش کے ذہن میں اس وقت ایک سو ایک ایسے سانحات گونج رہے ہیں جن کی مذمت میں پورے تہذیبی اسلوب کی پاسداری کرتے ہوئے آرٹیکلز لکھے گئے مگر قومی میڈیا کو اس قدر دباؤ میں پایا کہ یا تو پورا آرٹیکل ناقابل اشاعت قرار پایا یا اس کی ایسی ظالمانہ کاٹ کی گئی کہ پڑھنے و الا کوئی شخص اصل نقطہ سمجھ ہی نہ پائے ۔ایک مخصوص کمیونٹی کے متعلق تو حد ہے کہ کسی کالم میں اس کا نام لکھنا بھی گناہ کبیرہ سے کم نہیں ہے۔ سوشل میڈیا کی آزادی کا بہت ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے یہاں بھی کوئی معزز انسان چار لائنیں لکھتے ہوئے دس دفعہ سوچتا ہے۔ لیکن دوسری طرف ہمارا ایک پیری مرید ی والا وزیر عالمی اداروں میں یوں بے ہنگم اور بے تکا چیخ رہا ہوتا ہے جیسے وہ اپنی سیٹ پکی کرنے کیلئے انتخابی مہم چلا رہا ہو۔ سفارتکاری کے کچھ اصول و آداب ہوتے ہیں کچھ تہذیب ہوتی ہے شائستگی و متانت ہوتی ہے یہ ملتانی پہلوانی کا کوئی تھڑا نہیں ہے، تھکے ہوئے پسماندہ دماغ میں جو آئے ہانک دو ۔
ان دنوں میڈیا میں اسلامو فوبیا کی بڑی دھوم ہے یہ اسلامو فوبیا کیا ہے ؟اسلام کے خوف پر اہل مغرب کا غم وغصہ، ہمارا معصومانہ سوال ہے کہ ہماری موجودہ دنیا میں مذہب کا سب سے زیادہ استعمال یا استحصال کون کررہا ہے ؟اس وقت دنیا کاسب سے بڑا مذہب مسیحیت ہے یورپ کینڈا، امریکہ آسٹریلیا کے عوام کی بھاری اکثریت اسی مذہب کے ماننے والے یا پیروکاران کی ہے۔ اور یہ دنیا کے طاقتور ممالک تسلیم کئے جاتے ہیں کیا کبھی کسی نے غور کیا کہ یہ تمام ممالک اپنے معاملات میں مذہب کا کتنا استعمال کرتے ہیں ؟ یہ سب تو کھلے بندوں خود کو سیکولر کہتے ہیں مذہب کو انسان اور خدا کا باہمی معاملہ قرار دیتے ہوئے اپنے تمام شہریوں کو ایک نظر سے دیکھنے کا دعویٰ ہی نہیں کرتے۔ ایسے اقدامات پر تلے بیٹھے ہیں مغربی ممالک کے آئین و قانون میں مذہبی ،نسلی اور جنسی بنیادوں پر امتیازات کی گنجائش کہاں ہے ؟ اس کے بالمقابل ہم لوگ ان امتیازات پر فخر کرتے اور اتراتے نہیں تھکتے ہیں ۔ ہمارے قوانین میں ایسی تمام امتیازی شقوں کے حوالے دیتے ہوئے خاتمے کی بات کی جائے تو جنونیت کے خوفناک دانت کاٹ کھانا چاہتے ہیں ۔انہوں نے تو او آئی سی طرز کی مذہبی فخروامتیاز پر مبنی حکومتوں کی سطح پر کوئی عالمی آرگنائزیشن نہیں بنا رکھی ہے ۔مسیحیت کے علاوہ دنیا میں اور بھی بڑے مذاہب ہیں۔ کیا کسی کے پیروکاران نے اپنی ریاستوں کو ان مذاہب کے ساتھ نتھی کر رکھا ہے ؟ دنیا میں واحد ہندو ریاست نیپال تھی اس نے بھی اپنی اس پہچان کا خاتمہ کرتے ہوئے اپنی ریاست کو قطعی سیکولر ڈیکلئر کر دیا ہے ۔
اسرائیل کی تو بنیاد ہی یہودیت پر استوار ہے لیکن مقام حیرت ہے کہ وہ بھی خود کو ہمیشہ ایک سیکولر ریاست کے طور پر پیش کرتے ہیں ان کا آئین اس حوالے سے قطعی واضح ہے جس میں یہودیوں کے ساتھ مسلم اور مسیحی عرب شہریوں کو مساوی حقوق کا اعلان ہے۔ جمہوری ریاست کی حیثیت سے تمام شہری اپنے نمائیندے چننے کا برابر حق رکھتے ہیں جبکہ اس کے بالمقابل مذہبی بدہضمی جتنی ہمارے ملک میں ہے اتنی تو خود عرب مسلمانوں میں بھی نہیں ہے جہاں سے یہ مذہب پھوٹا یا پروان چڑھا۔ عرضِ مدعا یہ ہے کہ اس وقت اصل ایشو اسلاموفوبیا نہیں مسلم اور نان مسلم کے درمیان موجود وہ کھائی ہے جو ہم مسلمانوں نے خود کھود رکھی ہے اور دن بدن بجائے پاٹنے کے مزید گہرا کرنے پر تلے بیٹھے ہیں ذرا ذرا سی بات پر مذہب کا پینڈورا باکس کھول کر بیٹھ جاتے ہیں اور دنیا کو یہ باور کرواتے ہیں کہ باقی سارے مذاہب جھوٹے ہیں سچا صرف ہمارا ہے۔
مغرب میں اسلامو فوبیا ہے توسوال اٹھتا ہے کہ آپ لوگ اتنی بڑی تعداد میں مغربی ممالک کا رخ کیوں کرتے ہیں ؟ ان کی شہریت لینے کیلئے کیا کیا بہانے تراشتے ہیں جب پناہ مل جاتی ہے تو پھر وہاں شریعہ لاگو کرنے کیلئے جنونیت کیوں پر پرزے نکالنے لگتی ہے ؟ اسلامی دہشت گردی ہو یا اسلامو فوبیا ان سے چھٹکارے کی ایک ہی راہ ہے کہ آ پ بلاامتیاز انسانوں سے پیار کریں اور انسانیت کو احترام دیں ۔ مذہبی شناخت کی بھرمار سے انسانیت کو تقسیم نہ کریں مسلم اور غیر مسلم کی امتیازی کھائی کو پاٹ دیں دیواریں توڑ دیں اور پل تعمیر کریں:
ہوس نےکر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انسان کو
تو اخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جا
مذہب کے مقدس نام پر دہشت ، وحشت اور جنونیت پھیلانے والے، اصل ذمہ داران ہیں اسلامو فوبیا کے، یورپ میں آباد مسلمانوں کی مشکلات کے اور اس مظلوم فیملی کے قتل اور تباہی کے۔ لہٰذا اے مسلمان بھائیو اور بہنو! آپ کی صفوں میں کوئی بھی مذہبی تقسیم، منافرت، جنونیت یا انتہا پسندی کی بات کرتا ہے آپ خود اس کو قابو کریں۔ ایسے وعظ کا تیا پانچہ کریں۔ اپنے گند کو خود صاف کریں۔ اگر آپ کسی کے گھر میں گند پھینکیں گے تو ادھر سے پھول نہیں آئیں گے ۔ تشدد کے بطن سے دوسرا تشدد ہی جنم لیتا ہے اگر ہم دنیا میں امن و سلامتی کے خواستگار ہیں تو سب سے پہلے خود اس کے علمبردار و عملدار بن کر اٹھیں، اس نوع کے سانحات اور منافرتیں ازخود دم توڑ دیں گی۔