صدر بائیڈن کا روس کو انتباہ، جی 7 اور نیٹو اجلاس کے لئے برطانیہ پہنچ گئے

  • جمعرات 10 / جون / 2021
  • 6220

امریکی صدر جو بائیڈن نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے امریکہ کے خلاف ‘نقصان دہ کارروائیوں‘ میں حصہ لیا تو اسے ’جامع اور معنی خیز نتائج‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

صدر جو بائیڈن نے اپنے اس ارادے کا بھی اظہار کیا کہ وہ صدر ٹرمپ کے دور میں کمزور ہونے والے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے تعلقات کو دوبارہ مضبوط کریں گے۔  بدھ کے روز امریکی صدر اپنے پہلے بیرونِ ملک دورے پر برطانیہ پہنچے ہیں۔  وہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے ملاقات کریں گے جس میں ایک نئے ایٹلانٹک چارٹر پر اتفاق رائے کا امکان ہے۔

اس نئے معاہدہ میں صدر روزاولٹ اور وزیراعظم چرچل کے درمیان 1941 میں طے پانے والے معاہدے کا جدید ورژن ہوگا جس میں سکیورٹی کے ساتھ ساتھ موسم تبدیلی کے نکات کو بھی شامل کیا جائے گا۔  بی بی سی کی سیاسی امور کی ایڈیٹر لورا کیونسبرگ کا کہنا ہے کہ دونوں ایک اہم ترین رشتہ کو ٹرمپ دور کی اونچ نیچ اور عالمی وبا کے دباؤ کے تناظر میں تازہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مصروف آٹھ روزہ دورے میں صدر بائیڈن وینڈزر محل میں برطانوی ملکہ سے ملاقات کریں گے، جی 7 کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے اور بطور صدر اپنے پہلے نیٹو سربراہی اجلاس میں بھی شریک ہوں گے۔

اپنے دورے کے آخر میں جنیوا میں وہ  روسی صدر پوتن سے ملاقات بھی  کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ وہ متعدد امور پر بات کریں گے جس میں ہتھیاروں کی روک تھام، ماحولیاتی تبدیلی، یوکرین میں روسی فوج کی مداخلت، روس کی سائبر ہیکنگ سرگرمیاں اور حزبِ مخالف کے رہنما الیکسی نوالنی کی قید کے معاملات ہیں۔

بدھ کو سفک میں رائل فضائیہ کے اڈے ملڈن ہال میں امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے کہا کہ وہ صدر پوتن کو واضح پیغام دینا چاہتے ہیں۔ ’ہم روس کے ساتھ لڑائی نہیں چاہتے۔ ہم ایک مستحکم رشتہ چاہتے ہیں۔ مگر میں واضح ہوں۔ اگر روسی حکومت نے امریکہ کے خلاف نقصان دہ کارروائیوں میں حصہ لیا تو اسے جامع اور معنی حیز نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

امریکہ اور روس کے تعلقات متعدد وجوہات کی بنا پر سرد مہری کا شکار ہیں۔ اپریل میں صدر پوتن نے مغربی ممالک پر روس کو بےجا نشانہ بنانے کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ وہ  حد پار نہ کریں۔  صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ اپنے پہلے ’دورے کے ہر موڑ پر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ امریکہ اب لوٹ آیا ہے اور دنیا بھر کی جمہوریتیں مشکل ترین چیلنجز کے حل کے لیے اکھٹی کھڑی ہیں ‘۔

جی 7 ممالک کے دیگر سربراہان نے جمعے کے روز برطانیہ پہنچ رہے ہیں۔ جی 7 میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ، امریکہ اور یورپی یونین شامل ہیں۔ اجلاس میں کورونا وائرس کے بعد کی صورتحال زیرِ بحث آئے گی۔  جی 7 کے ایجنڈا میں ماحولیاتی تبدیلی اور عالمی تجارت بھی شامل ہوں گے۔