پاکستانی اخباروں نے عرفان صدیقی کا مضمون شائع کرنے سے کیوں انکار کیا
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 10 / جون / 2021
- 7310
پاکستانی میڈیا اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ عامل صحافی ایک طرف مالکان کی مالی مجبوریوں اور سرکار دربار کی خوشنودی کے لئے کسی بھی ’فاؤل‘ کے متحمل نہیں ہوسکتے تو دوسری طرف براہ راست ریاستی ادارے نام نہاد ’ریڈ لائنز‘ کی پرواہ نہ کرنے والے صحافیوں کے ساتھ براہ راست نمٹنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اس کی متعدد مثالیں حال ہی میں مشاہدہ کی جاچکی ہیں۔ قومی و عالمی صحافی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس حوالے سے دستاویزی شہادت کے ساتھ احتجاج ریکارڈ کرواتی رہتی ہیں لیکن صورت حال میں تبدیلی رونما نہیں ہوتی بلکہ حکومت کا یہ اصرار جاری ہے کہ اس وقت ملکی میڈیا کو جتنی آزادی حاصل ہے ، وہ آزادی کے چیمپئن مغربی ممالک میں بھی میڈیا کو دستیاب نہیں ہے۔ ہمارے محترم وزیر اطلاعات کے پاس ضرور اس مؤقف کے لئے دلائل ہوں گے جس سے میں بے خبر ہوں لیکن یہ بیان دینے میں ان کی مجبوری اور سیاسی ضرورت کو سمجھا جاسکتا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کا سب سے مؤثر طریقہ تواتر سے غلط باتوں کو درست کہنے پر اصرار رہا ہے۔ یہی طریقہ میڈیا کی خود مختاری و آزادی کے حوالے سے بھی اختیار کیاجارہا ہے۔
دوسری طرف موجودہ حکومت میڈیا اتھارٹی قائم کرنے کے لئے جو قانون لانا چاہ رہی ہے، اس کے نفاذ کے بعد پاکستانی میڈیا اور صحافیوں کے لئے رہی سہی سپیس بھی ختم ہوجائے گی۔ یہ صورت حال فوجی آمرانہ ادوار میں نافذ کی گئی سنسر شپ سے بھی زیادہ خطرناک ہوگی۔ ان ادوار میں اخبارات کو سنسر کرنے والا افسر قابل اعتراض مواد کو ہٹانے کا حکم دیتا اور ایڈیٹر اسے ہٹا کر اس کی جگہ متبادل مواد لگانے کی بجائے خالی کالم کے ساتھ اخبار اشاعت کے لئے بھیج دیاجاتا۔ اس طرح قارئین کو یہ معلوم ہوجاتا کہ حکومت کچھ چھپانے کی کوشش کررہی ہے اور اخباروں کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے خبر یا مضمون شائع نہیں کرسکتے۔ میرے خیال میں اس طریقہ نے عوامی سیاسی و جمہوری شعور کو پروان چڑھانے میں کردار ادا کیا تھا۔ لیکن اس وقت جو طریقہ اختیار کیا جارہا ہے ، اس میں سنسر بھی نافذ ہے لیکن یہ کہنے کی اجازت بھی نہیں ہے کہ حکومت کی ہدایت پربعض مخصوص مواد ہٹا دیا گیا ہے۔ نیا میڈیا قانون آنے کے بعد یہ صورت حال دگرگوں ہوجائےگی۔
بصورت دیگر کسی کالم یا مضمون کی اشاعت سرکاری مقررہ حدود کی وجہ سے ممکن نہ ہو تو کم از کم کالم کا عنوان، لکھنے والے کا نام شائع کرکے کالم کی جگہ خالی چھوڑی جاسکتی ہے۔ تاہم سنسر شپ کا جو جدید اور ہائیبرڈ طریقہ اب نافذ کیاگیا ہے اس میں میڈیا مدیران کے ہاتھ بھی بندھے ہیں اور وہ یہ کہہ بھی نہیں پاتے کہ ان کے پاس ادارتی اختیار نہیں ہے کیوں یہ بحق سرکار ضبط کئے جاچکے ہیں۔ اس کا نزلہ ان کالم نگاروں اور مضمون نگاروں پر گرتا ہے جو تمام تر مشکلات کے باوجود حق بات کہنے سے باز نہیں آتے۔ ان سے گلو خلاصی کا یہی آسان طریقہ دریافت کیاگیا کہ ان کے مضمون کو ناقابل اشاعت قرار دے کر چھاپنے سے انکار کردیا جائے یا جو صحافی مکمل اطاعت گزاری پر راضی نہ ہو اسے پروگرام یا نوکری سے نکال دیا جائے۔ فی الوقت آن لائن پبلی کیشنز کی وجہ سے قومی اخبارات میں ’ناقابل اشاعت مواد‘ کسی نہ کسی صورت میں قارئین تک پہنچ جاتا ہے یا جو بات قومی الیکٹرانک میڈیا کے ٹاک شوز میں نہیں کی جاسکتی اسے یوٹیوب چیلنز کے ذریعے سامنے لانے کی کوشش ہوتی ہے اور وہ بات کسی نہ کسی صورت عوام تک پہنچ جاتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ نیا میڈیا قانون انہی ’چور دروازوں‘ کو بند کرنے کے لئے لایا جارہا ہے۔ جیسا کہ اس کے متن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ اتھارٹی جو براہ راست حکومت کے کنٹرول میں ہوگی ہمہ قسم میڈیا کو کنٹرول کرے گی اور ہر صحافی کو سرکاری لائسنس یافتہ ہونا پڑے گا ورنہ وہ نہ صحافی کہلا سکے گا اور نہ ہی حکومت کی اجازت کے بغیر اپنی رائے سامنے لا سکے گا۔
پس منظر اور موجودہ حالات کا ذکر کچھ طویل ہوگیا لیکن ملک میں ناپسندیدہ آوازوں کو روکنے اور اس حوالے سے مین اسٹریم میڈیا کی مجبوریوں کو سمجھنے کے لئے اس پس منظر پر نگاہ رکھنا اہم ہے۔ اب زیر بحث مضمون ’ چار جنرل استعفیٰ مانگنے آئے تو صدر تارڑ نے کیا کہا‘ کا جائزہ لیا جائے اور دیکھا جائے کہ مسلمہ میڈیا ہاؤسز کیوں اسے شائع نہیں کرسکتے تو سب سے پہلے مضمون کے متن اور پیغام پر غور کرنا ہوگا۔ اس مضمون کے تین پہلو ہیں:
1)کالم کا آغاز ایک حالیہ تاریخی واقعہ سے کیا گیا۔ ملک میں ایسے ادارے اور لوگ موجود ہیں جو کسی غلط بیانی کی صورت میں اصل ’حقائق ‘ سامنے لاسکتے ہیں ۔ لیکن اس وقت حکومت کو ایسی علمی تگ و دو میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ کسی ایسے واقعہ کاعوام تک پہنچنا وسیع تر قومی مفاد کے خلاف سمجھتی ہے جس سے پاکستان میں جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے عناصر کا اصل چہرہ سامنے آسکے۔ بلکہ اب تو قانون سازی اور سیاسی بیان بازی کے ذریعے ’اداروں کے وقار کی حفاظت ‘ کے نام پر کسی قسم کی سچائی کو بیان کرنا ممنوع قرار دیاجارہا ہے خواہ اس کا تعلق ہماری حالیہ تاریخ سے ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی وجہ بھی سادہ ہے کہ اس طرح عوام میں شعور پیدا ہوتا ہے۔ باشعور عوام سوال کرتے ہیں۔ سوال کرنے سے وہ نظام لرزنے لگتا ہے جو جبر کی بنیاد پر قائم ہو۔
2)اس کالم کا دوسرا اہم پہلو وہ غیر آئینی طریقہ ہے جس کے تحت ایک حکم کے ذریعے منتخب صدر کو فارغ کردیا گیا کیوں کہ اس نے فوجی جرنیلوں کے کہنے پر استعفی دینے سے انکار کردیا تھا۔ ان کا سوال تھا کہ میں استعفیٰ کسے دوں؟ کیوں کہ نہ اسمبلی موجود ہے اور نہ ہی اسپیکر جو فوجی حاکم کے غیر آئینی اقدام کا شکار ہوچکے تھے۔ جو سوال صدر رفیق تارڑ نے بظاہر کسی ’اختیار‘ کے بغیر اٹھانے کا حوصلہ کیا تھا، وہی سوال ملک کا چیف جسٹس تمام تر قانونی و آئینی اختیار کے باوجود نہیں کرسکا۔ اس کا ضمیر غیر آئینی طریقے سے صدارت پر فائز ہونے والے فوجی جنرل سے یہ کہنے کا حوصلہ نہیں کرسکا کہ یہ طریقہ غلط ہے اور میں اس کا حصہ نہیں بن سکتا۔ کبھی بھی مزاحمت کا فوری نتیجہ نہیں نکلتا لیکن کسی بھی آمریت کے خلاف احتجاج کا ہر اشارہ معاشرے میں عوامی حکمرانی کے لئے اہم ہوتا ہے۔ ہماری اعلیٰ عدلیہ کے جج حضرات بوجوہ اس ہمت و حوصلہ کا مظاہرہ نہیں کرسکے۔ پاکستانی میڈیا اس تاریخی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے بھی تردد و تفکر کا شکار ہوگا کیوں کہ عدلیہ بھی ایسی ’مقدس گائے‘ ہے جسے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کے ناجائز فیصلوں نے بھی اس قوم کے مقدر کو اتنا ہی داغدار کیا ہے جتنا جرنیلوں کی ہوس اقتدار نے۔
3)کالم کا تیسرا اور اہم ترین پہلو اس مضمون کا آخری پیرا ہے جس میں ’فوج‘ کے احتساب اور آئین کی بالادستی کی بات کی گئی ہے۔ اس خواہش کو موجودہ پاکستان میں شجر ممنوعہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کا کسی بھی صورت اظہار سنگین جرم قرار پاچکا ہے اور مالکان کی نگرانی میں خدمات سرانجام دینے والے ’مدیران‘ اس جرم میں ’شراکت دار‘ نہیں بن سکتے۔
ان نکات کی روشنی میں یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ پاکستانی اخبارات کے مدیر کیوں ایسا مضمون شائع کرنے سے گریز کریں گے۔ یہ بات بھی ذہن میں رہنا چاہئے کہ پاکستان میں ابھی تک اس اہم اور ضروری بحث کا آغاز نہیں ہوسکا کہ میڈیا ہاؤسز کے ارب پتی مالکان کیوں کر اپنے ادارے کی تمام مطبوعات اور پروگرامز کے مدیر ہوتے ہیں۔ یوں دراصل ہر میڈیا مالک نے دو ٹوپیاں پہن رکھی ہیں۔ جب چاہتا ہے مالک بن جاتا ہے اور جب ضرورت ہو ایڈیٹر بن کر مواد کے بارے میں فیصلہ صادر کرتا ہے۔ اس طرح ملکی صحافت میں مدیر کی خود مختاری متاثر ہوئی ہے لیکن پاکستانی صحافت کو درپیش دیگر فوری نوعیت کے مسائل کے ہوتے اس بنیادی اصولی پہلو پر غور کرنے اور اس میں تبدیلی کی کوئی کوشش نہیں ہوسکی۔
یہ جاننا بھی اہم ہے کہ پاکستانی میڈیا میں مختلف ادارتی عہدوں پر کام کرنے والے لوگوں کی علمی و ذہنی استعداد بھی معاشرے میں عمومی فکری زوال کی عکاس ہے۔ اب ایڈیٹر ستر یا اسی کی دہائی والے مدیروں کی اپچ، تدبر اور ہمت کا متبادل نہیں ہیں۔ میڈیا ہاؤسز میں اب اینکر اور میڈیا منیجرز کو زیادہ اہمیت حاصل ہے کیوں کہ وہ مالکان کے کمرشل مفادات کے حصہ دار ہوتے ہیں۔ ایڈیٹر کے رتبے پر فائز لوگوں کو تو اپنے روزگار کی ہی فکر لاحق رہتی ہے۔ ان حالات میں آزادی صحافت اور ایڈیٹر کی اخلاقی ذمہ داری غیر ضروری موضوعات بن جاتے ہیں۔ صحافیوں کے لئے مشکل معاشی حالات میں یہ رویہ قابل فہم بھی ہے۔ ادارتی صفحات پر مواد کی پڑتال کرنے والا عملہ /مدیر اس صورت حال میں کسی بے احتیاطی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
یہ ضروری نہیں کہ کسی مضمون کے بارے میں خاص طور سے اعلیٰ ترین نگران یامالک کی طرف سے ہدایات دی گئی ہوں۔ بلکہ نچلی سطح پر مضامین دیکھنے والے لوگ کسی قسم کا خطرہ مول لینے کے لئے تیار نہیں ہوتے جس کی وجہ سے انہیں نوکری سے ہاتھ دھونے پڑیں۔ یہ المناک صورت حال پاکستان میں صحافت کے شعبہ کو مسلسل اور تیزی سے زوال کی طرف لے جارہی ہے۔ جس صحافی کو جمہوری آزادی و اقدار کا پاسبان ہونا چاہئے، بدقسمتی سے وہ دال روٹی کے چکر میں صحافت کے نام پر ’کلرکی‘ کرنے پر مجبور ہے۔ ملک کے سیاسی حالات نے جو عمومی سماجی و علمی ماحول پیدا کیاہے ، اس میں صحافت یوں بھی اب اصول یا کسی قدر کا نام نہیں بلکہ اسٹیٹس اور شہرت کا زینہ ہے۔ میڈیا کے بیشتر طالب علم اس زینہ پر تیزی سے چڑھتے ہوئے اوپر پہنچنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں آزادی اور مقصد بہت معمولی دلیل ثابت ہورہی ہے۔