8487 ارب روپے مالیت کا بجٹ پیش کردیاگیا

  • جمعہ 11 / جون / 2021
  • 5380

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے  8 ہزار 487 ارب روپے مالیت کا قومی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔ بجٹ تقریر میں انہوں نے معیشت کی بحالی کا دعویٰ کیا۔  تاہم اپوزیشن نے اس دوران شدید احتجاج کیا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان، وفاقی وزرا اور تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی موجود ہیں وزیرخزانہ  نے بجٹ پیش کیا۔ تقریر کے دوران اپوزیشن نے شور شرابہ شروع کر دیا اور حکومت مخالف نعرے لگائے۔ وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے قومی اسمبلی میں مالی سال 22-2021 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں معیشت کوبحران سےنکال کرلائے ہیں۔ ہماری حکومت نے مشکل حالات کا مقابلہ کیا۔ یہ کامیابی وزیراعظم کی قیادت کے بغیرممکن نہیں تھی۔ ہمیں خراب حالات ورثے میں ملے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20ارب ڈالرکی بلند ترین سطح پرتھا۔ وزیراعظم کی سربراہی میں معیشت کو بڑے بحرانوں سے نکال لائے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ کا حجم 8ہزار 487 ارب روپے ہو گا، 20 ارب ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو سرپلس میں بدل دیا۔ سابق حکومت نے قرض لے کر زر مبادلہ ذخائر بڑھائے، ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا۔ گزشتہ دور میں درآمدات میں 100 فیصد اضافہ ہوا تھا، شرح سود مصنوعی طور پر کم رکھی گئی ، بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 6.6 فیصد تھا۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ترسیلات زرمیں ریکارڈاضافہ بیرون ملک پاکستانیوں کاوزیراعظم پراعتمادکااظہارہے۔ 40ملین افرادکواحساس کےذریعےنقدامدادی رقوم دی گئیں، کم آمدنی والےطبقےکواحساس پروگرام کےذریعےامدادفراہم کی گئی، صحت کےشعبےمیں خاطرخواہ اقدامات ہوئے۔گزشتہ مالی سال زراعت کےشعبےمیں ترقی کی شرح منفی میں تھی، رواں سال زراعت کےشعبےنے 9فیصدترقی کی۔ حکومت میں آئےتوزرعی شعبےمیں ٹڈی دل حملےکاسامناکیا، زراعت کےشعبےمیں تاریخی کامیابی حاصل کی۔ ہمیں زراعت پر توجہ دینا پڑے گی اگلے سال کسانوں کو رعایتیں دیں گے، چاہتے ہیں آئندہ سال ہمیں باہر سے زرعی چیزیں منگوانی نہ پڑے۔

انہوں نے کہا کہ کوروناوباکی دواضافی لہروں کاسامناکرناپڑا، استحکام سےمعاشی نموکی طرف گامزن ہوئے۔ اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری مہم پرعمل پیرا رہے، مشکل فیصلے کیے بغیر اس صورتحال سے نکلنا ممکن نہیں تھا۔ کورونا وبا کی وجہ سے معیشت کومستحکم کرنے میں وقت لگا۔ غذائی اجناس درآمدکرنےکی وجہ 2019میں کم پیداوارتھی۔ ادائیگیوں کےتوازن میں استحکام پیداکیا۔ برآمدات میں14فیصداضافہ ہوا۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہواہے، زرمبادلہ کےذخائر3ماہ کی درآمدات کیلئے کافی ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر 16ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔ برآمدات ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے، ٹیکسوں کی وصولی 4 ہزار ارب روپے کی نفسیاتی حد عبور کر چکی ہے۔ ٹیکس وصولیوں میں 18فیصداضافہ ہواہے۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ سی پیک کے نئےمنصوبے 28 ارب ڈالر   مالیت کے ہیں، اب تک 13 ارب ڈالر کے 17 بڑے منصوبے مکمل کئے گئے ہیں۔ 21 ارب ڈالر کے مزید 21 منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ریلوے کے ایم ایل ون منصوبے کے لیے 9 ارب ڈالر رکھے گئے ہیں۔ زرعی شعبے کے لیے 12 ارب مختص کیے گئے۔ ٹڈی دی ایمرجنسی اور فوڈ سکیورٹی کے لیے 12 ارب روپے مختص کیے۔ نیلم جہلم پراجیکٹ کے لیے 14 ارب روپے رکھے گئے۔ ہم نے خام تیل کی قیمتوں میں 45 فیصد اضافہ کیا ہے۔ آبی گزرگاہوں کی مرمت اوربہتری کیلئے 3ارب روپےمختص  کئے گئے ہیں۔