پاک بھارت تعلقات اور پس پردہ ڈپلومیسی

پاکستان او ربھارت کے درمیان تعلقات  میں بڑی رکاوٹ دونوں اطراف موجود بداعتمادی،  عدم اعتماد، تعصب اور مخاصمت کی شکل میں دیکھنے کو ملتی ہے۔نریندر مودی کے دور اقتدار میں بالخصوص ہمیں بھارت کی جانب سے پاکستان سے تعلقات کے تناظر میں زیادہ شدت پسندی، انتہا پسندی یا ڈیڈلاک کا سامنا رہا ہے۔

 کچھ عرصہ میں ہمیں پاکستان اور بھارت کی سیکورٹی اداروں کی جانب سے کچھ پس پردہ مذاکرات کی صورت دیکھنے کو ملی ہے۔دونوں ممالک کی سیکورٹی ایجنسیاں عملی طور پر ”بیک ڈور چینل ڈپلومیسی یا سفارت کاری“ کی صورت میں ایک دوسرے کے ساتھ بہت سے اہم امور پر بات چیت کے عمل سے گزررہی ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہمیں حالیہ کچھ عرصے کے دوران بیک چینل ڈپلومیسی کے نتیجہ میں دونوں ممالک کی فوجیں کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر سیز فائر پر رضامند ہوگئیں۔ پچھلے کچھ عرصہ میں ہم نے دیکھا کہ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر شدید بمباری کے باعث صورتحال کافی بدتر تھی۔اب نئی جنگ بندی کے بعد لائن آف کنٹرول پر صورتحال پرامن او رمستحکم ہے، جو مثبت پیش رفت ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی بھارت اس وقت پاکستان سے حقیقی معنوں میں دو طرفہ تعلقات کی بہتری کا حامی ہے یا اس وقت ہم جو کچھ بھارت کی طرف سے مثبت پہلو دیکھ رہے ہیں وہ محض عالمی دباؤ کانتیجہ ہے۔ کیونکہ بہت سے لوگ یہ اعتراف کرتے ہیں کہ حالیہ پاک بھارت پس پردہ چلنے والی سیکورٹی ڈپلومیسی کے پیچھے بڑی طاقتوں کا دباؤ  ہے۔ یہ دباؤ جہاں پاکستان پر ہے وہیں بھارت پر ہم سے زیادہ  ہے۔کیونکہ بھارت پاکستان کی طرف سے مسلسل مذاکرات اور بھارت تعلقات کی دعوت یا خواہش کو  پاکستان کی کمزوری سمجھ کر نظر انداز کرتا رہا ہے۔لیکن اب امریکہ سمیت سعودی عرب، متحدہ عرب امارات نے بھی بھار ت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر پاکستان سے تعلقات میں بہتری  پیدا کرے اور دو طرفہ مذاکرات کااہتمام کیا جائے۔امریکہ کی پالیسی چاہے وہ ٹرمپ کے دور کی تھی یا اب بائیڈن کے دور کی ہے ان کی پالیسی میں پاک بھارت ٹکراؤنہیں بلکہ  بداعتمادی کو کم کرنا ہے۔

یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ چین کے اس خطہ میں موثر اور بڑھتے ہوئے کردار کے بعد بھارت میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ ہمیں چین اور پاکستان کو کسی نہ کسی شکل میں اعتماد میں لے کر آگے بڑھنا او رٹکراؤکی پالیسی سے گریز کرنا ہوگا۔کیونکہ بھارت کوخطہ میں بنگلہ دیش، سری لنکا او ر نیپال سمیت خود ایران سے بھی مشکلات کا سامنا ہے۔اگرچہ امریکہ چین کے مقابلے میں بھارت کی  حمایت کرتا ہے مگر اب امریکہ کو بھی اس بات کا اندازہ ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت میں ٹکراؤ برقرار رہتا ہے تو اس سے خودامریکہ کے مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان جو مختلف نوعیت کے تنازعات موجود ہیں جن میں کشمیر، سیاچین، پانی،تجارت دہشت گردی جیسے امو ردرپیش ہیں۔ جو لوگ اس وقت پاک بھارت کی مفاہمت میں پیش پیش ہیں ان کے بقو ل دونوں ملکوں کے درمیان فوری طور پر تنازعات سے جڑے معاملات کا حل ممکن نہیں۔ کوشش یہ کی جارہی ہے کہ کم ازکم دونوں ملکوں میں مختلف امور پر جو تناؤ یا بدمزگی ہے اسے کم کیا جائے تاکہ کم از کم یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ سیاسی، تجارتی او رسماجی رابطے بحال کرسکیں۔میں یہ بات تواتر سے لکھتا رہا ہوں کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان کچھ مثبت ہونا ہے تووہ عالمی قوتوں کی مداخلت اور دباؤ کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔

پاکستان نے پچھلے چند برسوں میں سیاسی اور عسکری سمیت سفارتی یا ڈپلومیسی کی سطح پر داخلی اور خارجی سمیت ہر محاذ پر یہ واضح پیغام دیا کہ ہم بھارت سے بہتر تعلقات کے حامی ہیں۔وزیر اعظم عمران خان کے بقول بھارت ایک قدم آگے بڑھائے ہم تین قدم آگے بڑھائیں گے اور دونوں ممالک کو تنازعات، ٹکراؤ، ڈیڈلاک یا کشیدگی سمیت جنگی ماحول کو پیدا کرنے یا الزام تراشیوں کی سیاست کی بجائے  کی عوام ترقی اور خوشحالی کو بنیاد بنانا ہوگا۔ آرمی چیف جنرل باجوہ نے ایک قدم آگے بڑھ کر بھارت سمیت تمام علاقائی ممالک کو واضح پیغام دیا کہ ہمیں ماضی سے باہر نکل کر مستقبل کی طرف اور معاشی ترقی اور دوطرفہ امکانات کو بنیاد بنا کر نہ صرف اپنے ملک کو بلکہ مجموعی طور پر خطہ کی معاشی ترقی کے امکانات کو آگے بڑھانا ہے۔عالمی سطح پر سفارت کار اور میڈیا سمیت پاک بھارت تعلقات کی سمجھ بوجھ رکھنے والے ماہرین بھی اتفاق کرتے ہیں کہ اس وقت بھارت کے مقابلے میں پاکستان کا بیانیہ زیادہ تعلقات کی بہتری چاہتا ہے۔

اصل مسئلہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال ہے۔وزیر اعظم عمران خان  اور  فوجی قیادت یہ واضح پیغام بھارت سمیت  دنیا کو دے رہی ہے کہ اگر کچھ مثبت طور پر آگے بڑھنا ہے تو پہلے مسئلہ کشمیر پر کوئی بڑی پیش رفت کرنی ہوگی۔ وزیر اعظم عمران خان کے بقول مقبوضہ کشمیر اور 370 سمیت  35 اے اور انسانی حقوق کی پامالی او رکرفیو کے خاتمہ تک پاکستان کچھ نہیں کرسکے گا۔ بھارت کو داخلی اور خارجی سمیت انسانی حقوق سے جڑے اداروں کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی پر شدید تنقید کاسامنا ہے۔ مگر خلیجی ممالک اس کو بنیاد بنا کر بھارت پر تنقید کرنے کے لیے زیادہ پرجوش نہیں۔پاکستان کو بنیادی طور پر  اسی بیانیہ کو ملکی، علاقائی اور عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے کہ تعلقات کی بہتری میں رکاوٹ پاکستان نہیں بلکہ خود بھارت ڈیڈ لاک پیدا کرنے کا اصل ذمہ دار ہے۔کیونکہ ممکن ہے کہ بھارت پر جو عالمی دباؤہے وہ اسے کم کرنا چاہتا ہے۔

 پاک بھارت تعلقات میں جہاں دونوں ملکوں پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہیں اصل کنجی بھارت کے ہاتھ میں ہے اور یہ بھارت کو ہی طے کرنا ہے کہ کیا وہ پاکستان سمیت خطہ میں ترقی، خوشحالی او رمعاشی ترقی کو بنیاد بنانا چاہتا ہے یا وہ ہی روائیتی جنگی جنون، دشمنی کی بنیاد پر معاملات کو جوں کا توں رکھنا چاہتا ہے۔اس کے لیے اسے مقبوضہ کشمیر میں پانچ اگست 2019سے قبل کی حیثیت کو کسی نہ کسی شکل میں بحال کرنا اور وہاں انسانی حقوق کی پامالی کو ختم کرکے کچھ غیر معمولی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر عملی طور پر بھارت کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اگر وہ  کشمیر کی سابقہ حیثیت کو بحال کرنے کا روڈ میپ دے تو مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ان کے بقول بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے ریڈ لائن کراس کی ہے۔ بھارت کو مذاکرات کی ہی راستہ اختیار کرنا ہوگا اور یہ ہی عمل خطہ میں غربت کے خاتمہ میں بھی مد د دے گا۔

یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ بھارت میں جو سیکورٹی ڈپلومیسی کا عمل جاری ہے اس پر نریندر مودی کہاں تک آگے بڑھتے ہیں او رخاص طور پر جنونی ہندوؤں کو کس حد تک روکتے ہیں جن میں دشمنی کا پہلو بہت نمایاں ہے۔ اصولی طور پر جو ابتدائی ڈپلومیسی کا عمل سیکورٹی او رانٹیلی جنس اداروں کی سطح پر شروع ہوا ہے اسے ہر سطح پر نہ صرف ہم سب کو مستحکم کرنا ہے بلکہ اس عمل کو اب سیاسی، سماجی اور حکومتی سطح پر بھی آگے بڑھانا ہوگا۔ بالخصوص دونوں ملکوں کا میڈیا اور سول سوسائٹی اس عمل میں دشمنی اور تناؤ کی سیاست کی بجائے ایک دوسرے کو قریب لانے میں اپنا کردار ادا کرے۔کیونکہ اب جنگی جنون، تنازعات، تناؤ اور دشمنی کی بنیاد پر ایک دوسرے کے وجود کو چیلنج کرنے کا  دورنہیں بلکہ معاشی ترقی کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنے کا  زمانہ ہے۔ اگرچہ دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کی موثر اور پائیدار بحالی ایک بڑا چیلنج ضرور ہے، مگر یہ عمل ناممکن نہیں۔