موبائل کالز، انٹرنیٹ پیکجز، ایس ایم ایس مہنگے نہیں ہوں گے: وزیر خزانہ

  • ہفتہ 12 / جون / 2021
  • 4880

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے اعلان کیا ہے کہ حکومت موبائل کالز، انٹرنیٹ پیکجز، ایس ایم ایس پر ٹیکس نہیں لگا رہی۔ وفاقی وزرا کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اخوت پروگرام نے ڈیڑھ سو ارب روپے کے چھوٹے قرضے دیے ہیں جس سے ریکوری 99 فیصد تک ہوئی۔

حکومت کے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ ایک سال میں 500 سے 600 ارب روپے دے، عوام کو قرضے ہول سیل فنانسنگ، کمرشل بینکوں سے دلارہے ہیں۔  ثانیہ نشتر ہر خاندان کی آمدن کے حوالے سے ایک سروے کر رہی ہیں، اس کے مطابق یہ قرضے دیے جائیں گے، غریب کے ساتھ سیاست نہیں کرنی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ کاشتکار کو ڈیڑھ لاکھ روپے ہر فصل کا دیں گے، ٹریکٹر لیز کرنے کے 2 لاکھ روپے دیں گے اور شہری علاقوں میں 5 لاکھ روپے تک کا بلا سود قرضہ دیں گے تاکہ وہ کاروبار کرسکے۔ ہم ہر خاندان کو اپنی چھت دیں گے، اس کی حد 20 لاکھ روپے تک ہے کیونکہ شہری علاقوں میں زمینیں مہنگی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم چاہتے ہیں کہ اِسکل ڈیولپمنٹ پر کام کریں تاکہ غریبوں کو روزگار مل سکے۔ حکومت نے معاشی نمو کو سب تک منتقل کیا ہے اور اس بجٹ میں پی ایس ڈی پی، صنعتوں زراعت وغیرہ سب کو مراعات دی ہیں تاہم اب ہمارا چیلنج مستحکم نمو لانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری برآمدات جی ڈی پی کا 8 فیصد ہے، کوشش ہے کہ آئندہ 8 سے 10 سال کے درمیان اسے 20 فیصد تک لے جائیں۔  جب تک سرمایہ کاری نہیں ہوگی تو معیشت کیسے بڑھے گی، فی الوقت ہماری سیونگز کی شرح 15 سے 16 فیصد ہے اور ہمیں اسے بڑھانا ہوگا۔ ہمارے پاس ریونیو نہیں، ریونیو ایف بی آر اور صوبے اکٹھا کرتے ہیں، ہم نے اس پر کافی چیلنجنگ ٹاسک دیا ہے کہ وہ 47 کھرب تک اکٹھا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات ہوئے ہیں کہ جو ٹیکس دے رہے ہیں ان پر ٹیکس نہیں لگائیں گے بلکہ مزید لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے۔  انہوں نے کہا کہ 'ہمارا ریونیو ہدف جارحانہ ضرور ہے تاہم  ہم نے یہ کرلیا تو ایک مالی خلا ہمیں ملے گی جس کو ہم زراعت میں استعمال کرسکیں گے۔

ہمارا ملک خوراک کی کمی کا شکار ہے اور اس کا مطلب ہے کہ ہم اہم چیزیں درآمد کر رہے ہیں، ہم نے فصلوں پر توجہ نہیں دی اور اب ہم اس پر توجہ دیں گے۔ وزیر اعظم کے منصوبے کے مطابق جو مراعات دینی تھیں دی ہیں اور آگے ضرورت پڑی تو اور بھی دیں گے۔ ہم برآمدات میں جو مراعات دے سکتے تھے دی ہیں، ہم صرف ٹیکسٹائل تک محدود نہیں رہے بلکہ خصوصی اقتصادی زونز سے ٹیکسز ختم کردیے ہیں تاکہ چین سے سرمایہ کار یہاں آئے اور چیزیں بنا کر برآمد کریں اور ڈالر کمائیں۔

انہوں نے کہا کہ برآمدات کے شعبے میں تقریباً تمام خام مال پر ٹیکس صفر کردیے ہیں کیونکہ زراعت کے بعد سب سے زیادہ روزگار صنعتیں دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہاؤسنگ کا شعبہ بھی ترقی کر رہا ہے اور بینکس مطمئن ہیں کہ وہ پیسے جو دیں گے وہ ریکور ہوجائیں گے۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ ہم نے پاور سیکٹر پر سبسڈیز میں اضافہ کیا ہے۔ پاور سیکٹر کو مالیاتی طور پر مستحکم بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ  گزشتہ روز بجٹ میں موبائل کالز، انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس پر ٹیکس لگانے کا کہا تھا، کابینہ نے اس کی مخالفت کی اور یہ اب ہم یہ نہیں کر رہے ۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے حوالے سے سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمیں حکومتی نظام کو 60 کے دہائی جیسا بنانا ہے۔ یہ ایک سے 2 سال میں یہ نہیں ہوگا، اس نظام میں بہت سیاسی مداخلت ہوگئی ہے جسے ٹھیک کرنے کے لیے 5 سے 7 سال لگیں گے اور اس کے بعد تنخواہوں کے مسئلے حل ہوجائیں گے۔

آئندہ مالی میں مہنگائی کی شرح 10 فیصد رہنے اور پاور سیکٹر کو ٹیرف سبسڈی سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہیں گے کہ ہم اگر انہیں پیسے دے رہے ہیں تو پاور سیکٹر اپنی کارکردگی بھی بہتر بنائیں اور نقصانات کم کرے۔ ریکوری بہتر بنائیں اور اگر بیرونی منڈیوں میں کوئی بھونچال نہ آئے تو مہنگائی کی شرح 10 فیصد سے کم رہے گی۔

اشیائے خورونوش کی مہنگائی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ جب تک زرعی پیداوار نہیں بڑھے گی خوراک کے معاملے خود کفیل نہیں ہوں گے، اس وقت تک بین الاقوامی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے متاثر رہیں گے۔ ہم کاشت کاروں کو پیداور بڑھانے کے لیے مراعات دے رہے ہیں۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ گڈ گورننس کی کوششیں کی جارہی ہیں اور ہر ضلع میں عہدیدار ان چیزوں کی نگرانی کر کے خامیوں کی نشاندہی کریں گے۔ مختصر مدت کے لیے 4 سے 5 اہم اور روزمرہ استعمال کی اجناس کے ذخائر بنائیں گے اور جن منڈیوں کی قیمتیں زیادہ ہوئی وہاں بھیج دی جائیں گی۔

بلواسطہ ٹیکس کے بارے میں شوکت ترین نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک ٹیکس بیس بڑھانے کے لیے شروع میں بالواسطہ ٹیکسز کا ہی سہارا لیتے ہیں اور جب آمدن مستحکم ہوجاتی ہے تو براہِ راسٹ ٹیکس بڑھنا شروع ہوتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم آئی ایم ایف پروگرام سے نکلے نہیں ہیں ان کے ساتھ ہماری بات چیت جاری ہے اور جولائی کا جائزہ نہیں ہوا تو ہم ستمبر تک اہداف پوراکرنے کی کوشش کریں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف اور ہماری منزل ایک ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم پائیدار ترقی کی جانب جائیں اور پھر آہستہ آہستہ نمو کریں جبکہ ہمارا مؤقف یہ ہے کہ ٹیرف اور انکم ٹیکس میں اضافہ کرنا مناسب طریقہ نہیں ہے۔ ہم ٹیرف کے بجائے گنجائش کا استعمال بڑھائیں، ریکوری زیادہ کریں، لائن لاسزز کم کریں جس میں تھوڑا وقت لگے گا جس سے ہمارا اور آپ کا مقصد پورا ہوگا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس ریونیو ٹارگٹ میں زیادہ رسک نہیں ہے اور کہیں کمزوری آئی بھی تو ہم منی بجٹ نہیں لائیں گے۔ غریبوں کے لیے احساس پروگرام کے باوجود خطِ غربت کے نیچے بسنے والے افراد کی تعداد میں اضافے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام ڈیڑھ کروڑ خاندانوں کا احاطہ کرے گا۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ نچلے طبقے کو کاروبار کے لیے پیسے دے رہے ہیں جبکہ نوجوانوں کی اسکلز ڈیولپمنٹ کے لیے پروگرام لارہے ہیں، جس سے گھرانے خوشحال ہونا شروع ہوں گے۔